(آیت 79){قَالُوْالَقَدْعَلِمْتَمَالَنَافِيْبَنٰتِكَ …:} یعنی ہمارا تمھاری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں(گویا آنے والے مہمان مردوں سے بدفعلی ان کا پورا حق ہے)، یا یہ مطلب ہے کہ ہمیں عورتوں یا بیویوں سے کوئی دلچسپی نہیں، ہم جو چاہتے ہیں وہ تجھے معلوم ہی ہے کہ ہم کس بدفعلی کے عادی ہیں، اس لیے تم ہماری راہ میں رکاوٹ نہ بنو۔ ان کے اس جواب سے ان کی خباثت کا پورا نقشہ سامنے آ جاتا ہے اور صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ کیوں ان کو اس عذاب کا مستحق سمجھا گیا جو ان کے علاوہ کسی قوم پر نازل نہیں کیا گیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
79۔ 1 یعنی ایک جائز اور فطری طریقے کو انہوں نے بالکل رد کردیا اور غیر فطری کام اور بےحیائی پر اصرار کیا، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ قوم اپنی اس بےحیائی کی عادت خبیثہ میں کتنی آگے جا چکی تھی اور کس قدر اندھی ہوگئی تھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
79۔ وہ کہنے لگے: تم یہ تو جانتے ہو کہ تمہاری بیٹیوں سے ہمیں کوئی دلچسپی [89] نہیں اور یہ بھی جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟
[89] یعنی اس قوم کا مزاج اس قدر بگڑ چکا تھا کہ اخلاقی انحطاط اس قدر واقع ہو چکا تھا کہ حلال کام سے فائدہ اٹھانے میں ان کی دلچسپیاں ہی ختم ہو گئی تھیں ان کی ساری دلچسپیاں لونڈے بازی جیسے مکروہ حرام اور خلاف فطرت فعل پر ہی مرکوز ہو کر رہ گئی تھیں اور جب کوئی قوم حرام کاموں کی نہ صرف عادی ہو جائے بلکہ اس میں دلچسپی لینے اور فخر محسوس کرنے لگے تو ایسی قوم کا علاج یہی ہے کہ اسے صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر کے اللہ کی زمین کو ایسی نجاست سے پاک کر دیا جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔