ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 78

وَ جَآءَہٗ قَوۡمُہٗ یُہۡرَعُوۡنَ اِلَیۡہِ ؕ وَ مِنۡ قَبۡلُ کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ ہٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیۡ ہُنَّ اَطۡہَرُ لَکُمۡ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ لَا تُخۡزُوۡنِ فِیۡ ضَیۡفِیۡ ؕ اَلَـیۡسَ مِنۡکُمۡ رَجُلٌ رَّشِیۡدٌ ﴿۷۸﴾
اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمھارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں؟ En
اور لوط کی قوم کے لوگ ان کے پاس بےتحاشا دوڑتے ہوئے آئے اور یہ لوگ پہلے ہی سے فعل شنیع کیا کرتے تھے۔ لوط نے کہا کہ اے قوم! یہ (جو) میری (قوم کی) لڑکیاں ہیں، یہ تمہارے لیے (جائز اور) پاک ہیں۔ تو خدا سے ڈرو اور میرے مہمانوں کے (بارے) میں میری آبرو نہ کھوؤ۔ کیا تم میں کوئی بھی شائستہ آدمی نہیں
En
اور اس کی قوم دوڑتی ہوئی اس کے پاس آپہنچی، وه تو پہلے ہی سے بدکاریوں میں مبتلا تھی، لوط ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا اے قوم کے لوگو! یہ ہیں میری بیٹیاں جو تمہارے لئے بہت ہی پاکیزه ہیں، اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 78) ➊ {وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ: هَرَعَ} (ف) کا معنی کسی کو تیزی سے دھکیلنا ہے۔ فعل مجہول کا مطلب یہ ہے کہ جب اس خبیث قوم کو لوط علیہ السلام کے گھر ایسے حسینوں کے آنے کی خبر ملی تو وہ ان کی طرف تیزی سے اس طرح بے اختیار دوڑتے ہوئے آئے جیسے کوئی انھیں پیچھے سے دھکیل رہا ہے۔
➋ {وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ:} فعل مضارع پر { كَانَ } آئے تو استمرار اور ہمیشگی کا معنی دیتا ہے، الا یہ کہ اس کے خلاف کوئی دلیل ہو۔ اس لیے زمخشری نے اس کا معنی کیا ہے: { وَ مِنْ قَبْلِ ذٰلِكَ الْوَقْتِ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ الْفَوَاحِشَ وَيُكْثِرُوْنَهَا فَضَرَوْا بِهَا وَمَرَنُوْا عَلَيْهَا } اس سے پہلے وہ یہ برے کام کثرت سے کرتے تھے، حتیٰ کہ یہ ان کی عادت بن چکی تھی۔ یعنی کوئی آدمی شروع شروع میں ایسا غلیظ فعل کرنے سے کچھ جھجکتا ہے مگر یہ لوگ بے اختیار تیزی سے اس لیے آئے کہ کثرت سے اس فعل بد کے ارتکاب نے ان کی حیا اور جھجک بالکل ختم کر دی تھی۔
➌ { قَالَ يٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِيْ …:} جب وہ گھس آئے اور شدت سے مہمانوں کو اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگے تو لوط علیہ السلام نے مہمانوں کی عزت بچانے کے لیے اپنی تواضع کی انتہا کر دی، کہا یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمھارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، اللہ سے ڈرو! مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں؟ یہاں مفسرین نے بیٹیاں پیش کرنے کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ اشرف الحواشی میں ہے کہ { بَنَاتِيْ } (بیٹیوں) سے مراد ان لوگوں کی اپنی عورتیں ہیں، کیونکہ نبی اپنی قوم کے لیے بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے اور قوم کی ساری عورتیں نبی کی بیٹیاں ہوتی ہیں، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ارشاد ہے: «{ اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ [الأحزاب: ۶] یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ یہی تفسیر راجح ہے، گو بعض نے لوط علیہ السلام کی اپنی بیٹیاں بھی مراد لی ہیں کہ ان سے شادی کر لو۔ (کما فی الموضح) اس تفسیر کے راجح ہونے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ لوط علیہ السلام کی بیٹیاں معروف قول کے مطابق صرف دو تھیں، اگر کم و بیش بھی ہوں تو پوری قوم سے تو ان کی شادی نہیں ہو سکتی، اس لیے بیٹیوں سے مراد قوم کی بیٹیاں یعنی ان کی بیویاں ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مراد اپنی ہی بیٹیاں تھیں، مگر نہ انھیں ان کے حوالے کرنا مقصود تھا نہ ان کی ان سے شادی کرنا، بلکہ محض انھیں شرمندہ کرکے اپنے مہمانوں کی عزت بچانا مقصود تھا، کیونکہ وہ بھی جانتے تھے اور قوم بھی کہ اپنی بیٹیاں کوئی کسی کے حوالے نہیں کرتا۔ یہ صرف اپنی عاجزی کے اظہار اور انھیں شرمندہ کرنے کے لیے ہے، جیساکہ سلیمان علیہ السلام نے فیصلہ کیا تھا کہ لاؤ بچے کے دو ٹکڑے کرکے دونوں دعویدار عورتوں کو ایک ایک حصہ دے دیتے ہیں، حالانکہ ان کی مراد ہر گز یہ نہ تھی کہ واقعی بچے کو درمیان سے کاٹ دیاجائے، بلکہ وہ حقیقت اگلوانا چاہتے تھے۔ آیت کے ظاہر الفاظ سے یہ معنی مناسب معلوم ہوتا ہے۔
➍ { هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ } کا مطلب یہ نہیں کہ مردوں سے یہ فعل بھی کچھ طہارت رکھتا ہے، مگر عورتیں زیادہ طاہر ہیں، بلکہ یہاں یہ بہت پاکیزہ کے معنوں میں ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

78۔ 1 جب اغلام بازی کے ان مریضوں کو پتہ چلا کہ چند خوبرو نوجوان لوط ؑ کے گھر آئے ہیں تو دوڑے ہوئے آئے اور انھیں اپنے ساتھ لے جانے پر اصرار کیا، تاکہ ان سے اپنی غلط خواہشات پوری کریں۔ 78۔ 2 یعنی تمہیں اگر جنسی خواہش ہی کی تسکین مقصود ہے تو اس کے لئے میری اپنی بیٹیاں موجود ہیں، جن سے تم نکاح کرلو اور اپنا مقصد پورا کرلو۔ یہ تمہارے لئے ہر طرح سے بہتر ہے۔ بعض نے کہا کہ بنات سے مراد عام عورتیں ہیں اور انھیں اپنی لڑکیاں اس لئے کہا کہ پیغمبر اپنی امت کے لئے ایک طرح کا باپ ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کام کے لئے عورتیں موجود ہیں، ان سے نکاح کرلو اور اپنا مقصد پورا کرو (ابن کثیر) 78۔ 3 یعنی میرے گھر آئے مہمانوں کے ساتھ زیادتی اور زبردستی کر کے مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں ایک آدمی بھی ایسا سمجھدار نہیں ہے، جو میزبانی کے تقاضوں اور اس کی نزاکت کو سمجھ سکے، اور تمہیں اپنے برے ارادوں سے روک سکے، حضرت لوط ؑ نے یہ ساری باتیں اس بنیاد پر کہیں کہ وہ ان فرشتوں کو فی الواقع نو وارد مسافر اور مہمان ہی سمجھتے رہے۔ اس لئے بجا طور پر ان کی مخالفت کو اپنی عزت و وقار کے لئے ضروری سمجھتے رہے۔ اگر ان کو پتہ چل جاتا یا وہ عالم الغیب ہوتے تو ظاہر بات ہے کہ انھیں یہ پریشانی ہرگز لاحق نہ ہوتی، جو انھیں ہوئی اور جس کا نقشہ یہاں قرآن مجید نے کھینچا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

78۔ اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہو ان کے ہاں آ گئے۔ وہ پہلے سے ہی بد کاری کیا کرتے تھے۔ لوط نے انھیں کہا: اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں [88] ہیں جو تمہارے لئے پاکیزہ تر ہیں۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھی بھلا مانس نہیں؟
[88] مشٹنڈوں کا گھس آنا اور سیدنا لوطؑ کی پیش کش:۔
ان مہمانوں کی آمد کی اطلاع پاتے ہی کچھ مشٹنڈے گھر کی دیواریں پھاند کر وہاں پہنچ گئے اور سیدنا لوطؑ سے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے حوالہ کر دو یہی وہ لمحہ تھا جو سیدنا لوطؑ کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا۔ چنانچہ سیدنا لوطؑ نے مہمانوں کا دفاع کرنے کی خاطر کہا کہ یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں میں تم سے ان کا نکاح کر دیتا ہوں اور یہی تمہارے لیے پاکیزہ تر راستہ ہے اور مہمانوں کا مجھ سے مطالبہ نہ کرو۔ نہ ہی ان کے سامنے مجھے رسوا کرو اور یہ بات آپ نے اس لیے کہی کہ یہ لوگ آپ سے آپ کی بیٹیوں کے رشتہ کا مطالبہ کر چکے تھے لیکن آپ نے ان کی بری حرکات دیکھ کر ان کو رشتہ سے جواب دے دیا تھا اب مہمانوں کی اور اپنی عزت بچانے کی خاطر ان کا یہ مطالبہ بھی منظور کر لیا اور انھیں یہ عار بھی دلائی کہ کیا تم شرم و حیا اور بد کرداری کی سب حدیں پھاند گئے ہو اور تم میں کوئی بھی ایسا بھلامانس آدمی موجود نہیں رہا جو دوسروں کو سمجھا سکے یا میری بات مان لے۔
بیٹیوں سے مراد:۔
بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ”میری بیٹیوں“ سے مراد قوم کی سب بیٹیاں ہیں کیونکہ نبی پوری قوم کا روحانی باپ ہوتا ہے اور قوم کی بیٹیاں اس کی روحانی بیٹیاں ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ بات بھی درست ہے مگر موقعہ کی نزاکت اسی شرح کا مطالبہ کرتی ہے جو پہلے پیش کی گئی ہے اور قرآن کے ظاہری الفاظ بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لوط علیہ السلام کے گھر فرشتوں کا نزول ٭٭
ابراہیم علیہ السلام کو یہ فرشتے اپنا بھید بتا کر وہاں سے چل دیئے اور لوط علیہ السلام کے پاس ان کے زمین میں یا ان کے مکان میں پہنچے۔ مرد خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے تاکہ قوم لوط کی پوری آزمائش ہو جائے، لوط علیہ السلام ان مہمانوں کو دیکھ کر قوم کی حالت سامنے رکھ کر سٹ پٹا گئے، دل ہی دل میں پیچ و تاب کھانے لگے کہ اگر انہیں مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لوگ چڑھ دوڑیں اور اگر مہمان نہیں رکھتا تو یہ انہی کے ہاتھ پڑ جائیں گے۔ زبان سے بھی نکل گیا کہ آج کا دن بڑا ہیبت ناک دن ہے۔ قوم والے اپنی شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ مجھ میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ کیا ہوگا؟
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوط علیہ السلام اپنی زمین پر تھے کہ یہ فرشتے بصورت انسان آئے اور ان کے مہمان بنے۔ شرما شرمی انکار تو نہ سکے اور انہیں لے کر گھر چلے، راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں ان سے کہا کہ واللہ یہاں کے لوگوں سے زیادہ برے اور خبیث لوگ اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جا کر پھر یہی کہا غرض گھر پہچنے تک چار بار یہی کہا۔ فرشتوں کو اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ ’ جب تک ان کا نبی، ان کی برائی نہ بیان کرے انہیں ہلاک نہ کرنا ‘۔‏‏‏‏
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے چل کر دوپہر کو یہ فرشتے نہر سدوم پہنچے وہاں لوط علیہ السلام کی صاحبزادی جو پانی لینے گئی تھیں، مل گئیں۔ ان سے انہوں نے پوچھا کہ یہاں ہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ اس نے کہا آپ یہیں رکیئے میں واپس آ کر جواب دوں گی۔ انہیں ڈر لگا کہ اگر قوم والوں کے ہاتھ یہ لگ گئے تو ان کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ یہاں آ کر والد صاحب سے ذکر کیا کہ شہر کے دروازے پر چند پردیسی نوعمر لوگ ہیں، میں نے تو آج تک نہیں دیکھے، جاؤ اور انہیں ٹھہراؤ ورنہ قوم والے انہیں ستائیں گے۔
اس بستی کے لوگوں نے لوط علیہ السلام سے کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی باہر والے کو تم اپنے ہاں ٹھہرایا نہ کرو۔ ہم آپ سب کچھ کر لیا کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے جب یہ حالت سنی تو جا کر چپکے سے انہیں اپنے گھر لے آئے۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی۔ مگر آپ علیہ السلام کی بیوی جو قوم سے ملی ہوئی تھی، اسی کے ذریعہ بات پھوٹ نکلی۔ اب کیا تھا۔ دوڑے بھاگے آ گئے، جسے دیکھو خوشیاں مناتا جلدی جلدی لپکتا چلا آتا ہے ان کی تو یہ خو خصلت ہو گئی تھی اس سیاہ کاری کو تو گویا انہوں نے عادت بنا لیا تھا۔
اس وقت اللہ کے نبی کریم علیہ السلام انہیں نصیحت کرنے لگے کہ تم اس بد خصلت کو چھوڑو اپنی خواہشیں عورتوں سے پوری کرو۔‏‏‏‏ «بَنَاتِي» یعنی میری لڑکیاں۔ اس لیے فرمایا کہ ’ ہر نبی اپنی امت کا گویا باپ ہوتا ہے ‘۔
قرآن کریم کی ایک اور آیت میں ہے کہ «قَالُوا أَوَلَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [15-الحجر:70]‏‏‏‏ ’ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ہم تو پہلے ہی آپ علیہ السلام کو منع کر چکے تھے کہ کسی کو اپنے ہاں نہ ٹھہرایا کرو ‘۔
لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور دنیا آخرت کی بھلائی انہیں سجھائی اور کہا کہ «قَالَ هَـٰؤُلَاءِ بَنَاتِي إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ» ۱؎ [15-الحجر:72-71]‏‏‏‏ ’ عورتیں ہی اس بات کے لیے موزوں ہیں، ان سے نکاح کر کے اپنی خواہش پوری کرنا ہی پاک کام ہے ‘۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سمجھا جائے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی لڑکیوں کی نسبت یہ فرمایا تھا نہیں بلکہ نبی علیہ السلام اپنی پوری امت کا گویا باپ ہوتا ہے۔‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔
امام ابن جریج فرماتے ہیں یہ بھی نہ سمجھنا چاہیئے کہ لوط علیہ السلام نے عورتوں سے بے نکاح ملاپ کرنے کو فرمایا ہو۔ نہیں مطلب آپ کا ان سے نکاح کر لینے کے حکم کا تھا۔‏‏‏‏
فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو میرا کہا مانو، عورتوں کی طرف رغبت کرو، ان سے نکاح کر کے حاجت روائی کرو۔ مردوں کی طرف اس رغبت سے نہ آؤ اور خصوصاً یہ تو میرے مہمان ہیں، میری عزت کا خیال کرو کیا تم میں ایک بھی سمجھدار، نیک راہ یافتہ بھلا آدمی نہیں۔
اس کے جواب میں ان سرکشوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے کوئی سروکار ہی نہیں یہاں بھی «بَنَاتِكَ» یعنی تیری لڑکیاں کے لفظ سے مراد قوم کی عورتیں ہیں۔ اور تجھے معلوم ہے کہ ہمارا ارادہ کیا ہے یعنی ہمارا ارادہ ان لڑکوں سے ملنے کا ہے۔ پھر جھگڑا اور نصیحت بے سود ہے۔