انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔
En
انہوں نے کہا کیا تم خدا کی قدرت سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت تم پر خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں۔ وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے
فرشتوں نے کہا کیا تو اللہ کی قدرت سے تعجب کر رہی ہے؟ تم پر اے اس گھر کے لوگو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، بیشک اللہ حمد وﺛنا کا سزاوار اور بڑی شان واﻻ ہے
En
(آیت 73) ➊ {قَالُوْۤااَتَعْجَبِيْنَمِنْاَمْرِاللّٰهِ: } یعنی وہ تو ماں باپ کے بغیر بھی پیدا کر سکتا ہے، پھر بوڑھی عورت کو بچہ عطا کرنا اسے کیا مشکل ہے۔ جب اللہ کے امر کے سامنے کوئی چیز ناممکن نہیں تو تعجب کیسا۔ پھر اس گھر میں شروع سے اللہ کی رحمت وبرکت کے جو معجزے ظاہر ہوتے رہے ہیں، مثلاً آگ کا گلزار ہونا، اسماعیل علیہ السلام کا ذبح سے محفوظ رہنا، مصر کے اس ظالم جبار سے سارہ علیھا السلام کی عصمت کا محفوظ رہنا وغیرہ، ان کے بعد تو اللہ کے حکم سے کسی بھی ناممکن کام کے ہو جانے پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ➋ {رَحْمَتُاللّٰهِوَبَرَكٰتُهٗعَلَيْكُمْاَهْلَالْبَيْتِ:”اَهْلَالْبَيْتِ“} سے پہلے حرف ندا {”يَا“} مقدر ہے، اس لیے یہ منصوب ہے، یعنی ”اے گھر والو!“ پہلے {”سَلٰمًا“} کہا تھا، اب {”رَحْمَتُاللّٰهِوَبَرَكٰتُهٗعَلَيْكُمْ“} کے ساتھ وہ مکمل ہو گیا، اس سے زائد الفاظ ثابت نہیں ہیں۔ اس وقت فرشتوں کی مخاطب صرف اکیلی سارہ علیھا السلام تھیں، ان کے لیے فرشتوں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں، ان میں سے دو الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں، ایک تو یہ کہ اکیلی عورت کو{ ”عَلَيْكُمْ“} جمع مذکر حاضر کے لفظ سے خطاب کیا ہے، حالانکہ وہ مؤنث تھیں۔ دوسرا انھیں {”اَهْلَالْبَيْتِ“} کہہ کر خطاب کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ آدمی کے اہل ِبیت (گھر والے) اس کی بیوی ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ سلام اور رحمت وبرکت کہتے وقت عورتوں کو بھی مذکر کے صیغے سے مخاطب کیا جاتا ہے۔ یہ آیت فیصلہ کن ہے کہ سورۂ احزاب کی آیت: «{ اِنَّمَايُرِيْدُاللّٰهُلِيُذْهِبَعَنْكُمُالرِّجْسَاَهْلَالْبَيْتِوَيُطَهِّرَكُمْتَطْهِيْرًا }»[الأحزاب: ۳۳]”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے خوب پاک کرنا۔“ اس آیت میں اہل ِ بیت کا ذکر کرتے ہوئے پہلے بھی اور بعد میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا ذکر ہے، تو یہاں اس آیت میں بھی{ ”عَنْكُمُ“} اور {”اَهْلَالْبَيْتِ“} اور {”يُطَهِّرَكُمْ“} تینوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مراد ہیں۔ اس کی نفی کرنے والے ایک واضح اور ثابت شدہ حقیقت کی نفی کر رہے ہیں، جس کی وجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ازواج مطہرات سے بغض و عناد کے سوا کچھ نہیں اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیاروں سے بغض رکھے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے کیسے بہرہ ور ہو سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
73۔ 1 یہ استفہام انکار کے لئے ہے۔ یعنی تو اللہ تعالیٰ کے قضا و قدر پر کس طرح تعجب کا اظہار کرتی ہے جبکہ اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں۔ اور نہ وہ اسباب عادیہ ہی کا محتاج ہے، وہ تو جو چاہے، اس کے لفظ کُنْ (ہو جا) سے معرض وجود میں آجاتا ہے۔ 73۔ 2 حضرت ابراہیم ؑ کی اہلیہ محترمہ کو یہاں فرشتوں نے ' اہل بیت ' سے یاد کیا اور دوسرے ان کے لئے جمع مذکر مخاطب (عَلَیْکُمْ) کا صیغہ استعمال کیا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ ' اہل بیت ' کے لئے جمع مذکر کے صیغے کا استعمال بھی جائز ہے۔ جیسا کہ سورة احزاب، 33 میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی ازواج مطہرات کو بھی اہل بیت کہا ہے اور انھیں جمع مذکر کے صیغے سے مخاطب بھی کیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
73۔ وہ کہنے لگے: ”کیا تم اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہو؟ اے اہل بیت (نبوت) تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں [84] ہوں۔ بلا شبہ وہ قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے“
[84] فرشتے کہنے لگے کہ ایک پیغمبر کی بیوی ہو کر اللہ کے کام پر تعجب کرتی ہو؟ اللہ جو چاہے وہ اس کے کرنے پر قادر ہے اور سیدنا ابراہیمؑ کے گھر والوں پر تو اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی جن میں سے ایک ہونے والا بچہ اسحاق کی پیدائش بھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔