(آیت 71) ➊ {وَامْرَاَتُهٗقَآىِٕمَةٌفَضَحِكَتْ:} ان کی بیوی سارہ علیھا السلام مہمانوں کی خدمت کے لیے ساتھ ہی کھڑی تھی اور خوف زدہ تھی۔ جب اس نے یہ بات سنی تو ہنس پڑی، یا تو اس لیے کہ ہم انھیں ڈاکو سمجھے تھے یہ تو فرشتے نکلے، یا اس خوشی میں کہ ہم تو خوف زدہ تھے کہ اس طرح فرشتوں کی آمد خطرے سے خالی نہیں ہوتی (دیکھیے حجر: ۸) مگر یہ تو ہم پر عذاب کے بجائے ہمارے عزیز پیغمبر لوط علیہ السلام کی نافرمان قوم پر عذاب کی خوش خبری لے کر آئے ہیں اور دشمن کی ہلاکت کی خبر سے یقینا خوشی ہوتی ہے۔ ➋ { فَبَشَّرْنٰهَابِاِسْحٰقَ …:} سارہ علیھا السلام کے لیے ایک خوشی کی خبر وہ تھی جو اوپر گزری، جس پر وہ بے ساختہ ہنس پڑیں۔ فرشتوں نے انھیں مزید دو خوش خبریاں دیں، ایک بیٹا عطا ہونے کی، پھر اس بیٹے سے پوتا یعقوب عطا ہونے کی اور ان کے ضمن میں یہ خوش خبری تھی کہ تم دونوں میاں بیوی ابھی اتنی عمر اور پاؤ گے کہ بیٹا ملے گا، وہ جوان ہو گا، پھر اس کی شادی ہو گی اور اسے یعقوب عطا ہو گا، گویا مسلسل چار خوش خبریاں۔ یہ چاروں خوش خبریاں فرشتوں نے دی تھیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اسے یہ خوش خبریاں دیں، کیونکہ فرشتوں کا کام تو صرف پہنچانا تھا، اصل خوش خبری تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی جو کسی صورت غلط نہیں ہو سکتی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
71۔ 1 حضرت ابراہیم کی اہلیہ کیوں ہنسیں؟ بعض کہتے ہیں کہ قوم لوط ؑ کی فساد انگیزیوں سے وہ بھی آگاہ تھیں، ان کی ہلاکت کی خبر سے انہوں نے مسرت کی۔ بعض کہتے ہیں اس لئے ہنسی آئی کہ دیکھو آسمانوں سے ان کی ہلاکت کا فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ قوم غفلت کا شکار ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ تقدیم و تاخیر ہے۔ اور اس ہنسنے کا تعلق اس بشارت سے ہے جو فرشتوں نے بوڑھے جوڑے کو دی۔ واللہ اعلم۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
71۔ اور ابراہیم کی بیوی جو پاس کھڑی تھی۔ ہنس دی تو ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد [82] یعقوب کی بھی
[82] سیدہ سارہ کو خوشخبری دینا:۔
سیدنا ابراہیمؑ کی بیوی سارہ بھی پاس کھڑی یہ مکالمہ سن رہی تھیں جب یہ اندیشہ دور ہوا تو خوشی سے ان کی ہنسی نکل گئی پھر فرشتوں نے انھیں ایک بیٹے جس کا نام اسحاق ہو گا کی خوشخبری دی اور یہ بھی بتلایا کہ اسحاق کے بعد اس سے یعقوب بھی ویسا ہی اولوالعزم پیغمبر پیدا ہو گا اور یہ خوشخبری خصوصاً سیدہ سارہ کو اس لیے دی گئی کہ وہ بے اولاد تھیں جبکہ سیدنا ابراہیمؑ صاحب اولاد تھے اور دوسری بیوی ہاجرہ کے بطن سے سیدنا اسماعیلؑ پیدا ہو چکے تھے اس لیے یہ خوشخبری سیدنا ابراہیم علیہ اسلام کے مقابلہ میں سیدہ سارہ کے لیے بہت زیادہ خوشی کی بات تھی۔ بعض مفسرین نے یہاں ضحکت کے معنی حاضت بھی کیا ہے یعنی ”سیدہ سارہ کو حیض آگیا“ امام راغب نے اس کی یہ وضاحت کر دی ہے کہ یہ ضحکت کے معنی نہیں ہیں البتہ یہ ممکن ہے کہ بچہ کے حمل قرار پانے کی علامت کے طور پر انھیں حیض آ گیا ہو اور حیض آنے کے معنی یہ تھے کہ انھیں حمل قرار پا سکتا ہے اور اولاد ہو سکتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔