پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ بے شک تیرا رب ہی بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے۔
En
جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچالیا۔ اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا) ۔ بےشک تمہارا پروردگار طاقتور اور زبردست ہے
پھر جب ہمارا فرمان آپہنچا، ہم نے صالح کو اور ان پر ایمان ﻻنے والوں کو اپنی رحمت سے اس سے بھی بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ یقیناً تیرا رب نہایت توانا اور غالب ہے
En
(آیت 66تا68) ان آیات کی تفسیر سورۂ اعراف کی آیات (۷۷ تا ۷۹) میں اور سورۂ ہود کے اس سے پچھلے رکوع کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔ {”كَاَنْلَّمْيَغْنَوْافِيْهَا“”غَنِيَيَغْنٰي“} (ع) {”فِيْمَكَانٍكَذَا“} جب کوئی شخص لمبی مدت کسی جگہ میں یوں رہے کہ وہ اس کے سوا کسی بھی جگہ سے غنی ہو۔{”مَغْنَي“} مصدر بھی ہے، مکان بھی، یعنی رہنا اور رہنے کی جگہ۔ (مفردات راغب)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
66۔ ا 1 س سے مراد وہی عذاب ہے جو وعدے کے مطابق چوتھے دن آیا اور حضرت صالح ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کے سوا، سب کو ہلاک کردیا گیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
66۔ پھر جب ہمارے (عذاب کا) حکم آ گیا تو ہم نے صالح کو، اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی رحمت سے عذاب اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا [78] بلا شبہ آپ کا پروردگار طاقتور اور غالب ہے
[78] صالحؑ کی ہجرت:۔
عذاب کے نازل ہونے سے پیشتر ہی آپ بموجب حکم الٰہی اپنے ایمان دار ساتھیوں کو لے کر فلسطین کی طرف روانہ ہو گئے اور یہ سب لوگ اس ذلت اور عذاب سے بچ گئے جو اس مجرم قوم پر نازل ہونے والا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔