اس آیت کی تفسیر آیت 64 میں تا آیت 66 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
65۔ 1 لیکن ان ظالموں نے اس زبردست معجزے کے باوجود نہ صرف ایمان لانے سے گریز کیا بلکہ حکم الٰہی سے صریح سرتابی کرتے ہوئے اسے مار ڈالا، جس کے بعد انھیں تین دن کی مہلت دے دی گئی کہ تین دن کے بعد تمہیں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کردیا جائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
65۔ مگر انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ کر مار ڈالا [77] تو صالح نے کہا: ”اچھا اب (صرف) تین دن اپنے گھروں میں مزے کر لو۔ یہ ایسا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا
[77] اونٹنی کو مارنا:۔
مگر یہ قوم اپنے اس متفقہ فیصلہ پر قائم نہ رہ سکی۔ در اصل یہ اونٹنی ان کے لیے وبال جان بن گئی اور عذاب کے ڈر کی وجہ سے اسے کوئی ہاتھ لگانے کی جرأت بھی نہیں کرتا تھا بالآخر قوم کا ایک شہ زور بدبخت اٹھا جس نے اونٹنی کو مار ڈالنے کا ارادہ کر لیا۔ پھر بستی کے ایک ایک فرد سے اس کے متعلق خفیہ مشورے کیے اور آراء طلب کیں۔ اکثریت نے یہی رائے دی کہ اس مصیبت سے جان چھوٹ جائے تو یہ بڑی خوشی کی بات ہو گی۔ اس فیصلہ کے بعد اس بدبخت نے اونٹنی کی کونچ کی رگوں کو کاٹ ڈالا اونٹنی نے ایک زبردست دل دہلا دینے والی چیخ ماری اور اسی پہاڑ میں غائب ہو گئی جس سے نکلی تھی اس کے پیچھے پیچھے اس کا بچہ بھی غائب ہو گیا اس واقعہ کے فوراً بعد خود سیدنا صالحؑ کو بھی مار ڈالنے کے خفیہ صلاح مشورے ہونے لگے۔
تین دن بعد عذاب:۔
اللہ کا یہ قانون ہے کہ اگر کوئی قوم کسی نبی سے کوئی خاص معجزہ طلب کرے اور وہ معجزہ اسے عطا کر دیا جائے پھر بھی وہ قوم سرکشی کی راہ اختیار کرے تو یقیناً اس پر عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے چنانچہ صالحؑ نے وحی کی اطلاع کے مطابق قوم کو خبردار کر دیا کہ اب تمہیں صرف تین دن کی مہلت دی جاتی ہے اس کے بعد تم پر اللہ کا قہر نازل ہو گا جس سے تم بچ نہ سکو گے اور نہ ہی اس وعدہ میں کچھ تغیر و تبدل ہو سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ان تمام آیتوں کی پوری تفسیر اور ثمودیوں کی ہلاکت کے اور اونٹنی کے مفصل واقعات سورۃ الأعراف ۱؎[7-الأعراف:] میں بیان ہو چکے ہیں یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔