(آیت 59) ➊ { وَتِلْكَعَادٌ:} اور یہ تھے عاد، اس سے مراد ان کے علاقے بھی ہو سکتے ہیں اور وہ قوم بھی جن کا واقعہ بیان ہوا۔ ➋ {جَحَدُوْابِاٰيٰتِرَبِّهِمْ:”جَحَدُوْا“} کا معنی ہے دلیل سے ثابت شدہ بات کا انکار کردینا۔ آیات سے مراد کائنات میں رب تعالیٰ کی توحید کی بے شمار نشانیاں، ہود علیہ السلام پر نازل ہونے والی آیات اور ان کا تنہا پوری قوم کے سامنے بے خوف ہو کر ڈٹ جانا وغیرہ ہیں۔ غرض اس بدنصیب قوم نے واضح نشانات، معجزات اور آیات سمجھ میں آ جانے کے باوجود انھیں ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ ➌ { عَصَوْارُسُلَهٗ:} انھوں نے اگرچہ ہود علیہ السلام ہی کی نافرمانی کی، لیکن چونکہ ایک پیغمبر کی نافرمانی تمام پیغمبروں کی نافرمانی ہے، اس لیے فرمایا: ”انھوں نے اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی۔“ (شوکانی) ➍ {وَاتَّبَعُوْۤااَمْرَكُلِّجَبَّارٍعَنِيْدٍ: ”عَنِيْدٍ“} سخت عناد والا، ہر وہ شخص جو حق قبول نہ کرے اور اس کے ساتھ شدت کے ساتھ اس کی مخالفت بھی کرے، مراد قوم کے سردار ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
59۔ 1 عاد کی طرف صرف ایک نبی حضرت ہود ؑ ہی بھیجے گئے تھے، یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ اس سے یا تو یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ایک رسول کی تکذیب، یہ گویا تمام رسولوں کی تکذیب ہے۔ کیونکہ تمام رسولوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ قوم اپنے کفر اور انکار میں اتنی آگے بڑھ چکی تھی کہ حضرت ہود ؑ کے بعد اگر ہم اس قوم میں متعدد رسول بھی بھیجتے، تو یہ قوم ان سب کی تکذیب ہی کرتی۔ اور اس سے قطعاً یہ امید نہ تھی کہ وہ کسی بھی رسول پر ایمان لے آتی۔ یا ہوسکتا ہے کہ اور بھی انبیاء بھیجے گئے ہوں اور اس قوم نے ہر ایک کی تکذیب کی۔ 59۔ 2 یعنی اللہ کے پیغمبروں کی تکذیب کی لیکن جو لوگ اللہ کے حکموں سے سرکشی کرنے والے اور نافرمان تھے، ان کی اس قوم نے پیروی کی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ اور یہ قوم عاد (کی اجڑی ہوئی بستیاں) ہیں ان لوگوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار کیا اور اللہ کے [67] رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر جابر سرکش کے طریقہ کی پیروی کرتے رہے
[67] یعنی جو قد آور، مضبوط اور شاہ زور قوم اس طمطراق سے گزر بسر کر رہی تھی اور اس کا ڈنکا بجتا تھا ان کے تباہ شدہ کھنڈرات کو دیکھ کر ان سے عبرت حاصل کرو کہ اللہ کی آیات سے انکار کے نتیجہ میں انھیں یہ سزا ملی تھی اور رسول تو ان کی طرف صرف ہود آئے تھے لیکن اللہ نے رسولوں کا لفظ غالباً اس لیے استعمال فرمایا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہی انداز کی رہی ہے جو توحید اور اصول دین پر مشتمل ہوتی ہے لہٰذا ایک رسول کی تکذیب حقیقتاً سب رسولوں کی تکذیب کے مترادف ہوتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں