ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّیۡنَا ہُوۡدًا وَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ بِرَحۡمَۃٍ مِّنَّا ۚ وَ نَجَّیۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِیۡظٍ ﴿۵۸﴾
اور جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ نجات دی اور انھیں ایک بہت سخت عذاب سے بچالیا۔ En
اور جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور ان کو عذاب شدید سے نجات دی
En
اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور اس کے مسلمان ساتھیوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات عطا فرمائی اور ہم نے ان سب کو سخت عذاب سے بچا لیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 58){وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُوْدًا …:} ہمارے حکم سے مراد عذاب کا حکم ہے، اس کی تفصیل سورۂ احقاف، سورۂ حاقہ، سورۂ قمر اور دوسری سورتوں میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر شدید ہوا کی تیز و تند اور سرکش آندھی بھیجی، جو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلی اور اس نے کفار میں سے ایک بھی متنفس کو باقی نہ چھوڑا۔ دیکھیے سورۂ حاقہ (۶ تا ۸) یہ تو دنیا کا عذاب تھا، آخرت میں ان کے لیے اس سے بھی سخت عذاب { عَذَابٍ غَلِيْظٍ } تیار ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہود علیہ السلام اور ان کے ہمراہ ایمان لانے والوں کو ان دونوں عذابوں سے بچا لیا۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی خوف ناک آندھی جب چلتی ہے تو وہ مومن و کافر ہر ایک پر گزرتی ہے تو ہود علیہ السلام اور ان کے ساتھی کس طرح بچ گئے؟ اسی طرح ثمود پر آنے والی صیحہ (چیخ) سے کافروں کے کان اور دل تو پھٹ گئے مگر صالح علیہ السلام اور ایمان والوں کا کچھ بھی نہ بگڑا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ ہم نے انھیں اپنی عظیم رحمت کے ساتھ بچا لیا۔ { بِرَحْمَةٍ } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، پھر جو رحمت اللہ کی طرف سے ہو اس کی عظمت کا کیا ٹھکانا ہے۔ وہ آندھی اور چیخ اللہ کے امر سے کفار پر آئی تھیں، ان کے ساتھ رہنے والے مسلمانوں پر اثر انداز ہونے کا انھیں حکم ہی نہ تھا۔ ا س لیے وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کے دامن میں محفوظ تھے۔ گروہ در گروہ پرندوں کی کنکریوں سے ابرہہ اور اس کا لشکر کھائے ہوئے بھس کی طرح ہو گیا، مگر مکہ والوں کا کچھ بھی نہ بگڑا۔ دراصل یہ حکم اس قادر مطلق کا تھا، اگر کسی دنیا والے کا ہوتا تو کافر و مومن دونوں پس جاتے، متنبی نے کہا ہے۔
{تُسَوِّدُ الشَّمْسُ مِنَّا بِيْضَ اَوْجُهِنَا
وَمَا تُسَوِّدُ بِيْضَ الْعَيْنِ وَاللِّمَمٖ
وَكَانَ حَالُهُمَا فِي الْحُكْمِ وَاحِدَةً
لَوِ احْتَكَمْنَا مِنَ الدُّنْيَا إِلٰي حَكَمٖ}
دھوپ ہمارے چہروں کی سفیدی کو سیاہ کر دیتی ہے، جب کہ آنکھ کی سفیدی اور بالوں کی سفیدی کو سیاہ نہیں کرتی۔ حالانکہ اگر ہم دنیا کے کسی منصف کے پاس جائیں تو فیصلے میں دونوں کا حال ایک ہی ہے۔
بیماری کے بعد شفا بھی رحمت ہے، مگر بیماری آنے ہی نہ دینا یہ اس سے بھی عظیم رحمت ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

58۔ 1 سخت عذاب سے مراد وہی الرِّ یْحَ الْعَقِیْمَ تیز آندھی کا عذاب ہے جس کے ذریعے سے حضرت ہود ؑ کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا جس سے حضرت ہود ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیا گیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آ گیا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے انھیں اپنی مرضی سے نجات دی [66] اور سخت عذاب سے انھیں بچا لیا
[66] قوم عاد پر عذاب:۔
ان پر تند و تیز اور نہایت ٹھنڈی آندھی کا عذاب آیا تھا یہ آندھی اتنی تیز رفتار اور ہولناک تھی کہ اس میں انسان اور درخت اڑتے چلے آتے تھے۔ درختوں کو توڑ دیتی اور بعض کمزور چھتوں کو اڑا دیتی تھی۔ پھر یہی چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر پارہ پارہ اور تباہ و برباد ہو رہی تھیں پھر اس آندھی میں شدید ٹھنڈک مستزاد تھی اور یہ آندھی مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی جس نے ان کے گھروں میں داخل ہو کر انھیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ عذاب آنے سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے ہودؑ کو وحی کر دی تھی کہ وہ اور ان کے ساتھی فلاں احاطہ میں جا کر محصور ہو جائیں۔ اس طرح ایمان لانے والوں کو اللہ نے اس سے بچا لیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہود علیہ السلام کا قوم کو جواب ٭٭
حضرت ہود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اپنا کام تو میں پورا کر چکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔‏‏‏‏
آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے لطف و رحم سے نجات پاگئے۔ سزاؤں سے بچ گئے، سخت عذاب ان پر سے ہٹا لیے گئے۔ یہ تھے عادی جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، اللہ کے پیغمبروں کی مان کر نہ دی۔
یہ یاد رہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا نافرمان کل نبیوں علیہم السلام کا نافرمان ہے۔ یہ انہیں کی مانتے رہے جو ان میں ضدی اور سرکش تھے۔ اللہ کی اور اس کے مومن بندوں کی لعنت ان پر برس پڑی۔ اس دنیا میں بھی ان کا ذکر لعنت سے ہونے لگا اور قیامت کے دن بھی میدان محشر میں سب کے سامنے ان پر اللہ کی لعنت ہو گی۔ اور پکار دیا جائے گا کہ عادی اللہ کے منکر ہیں۔
سدی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کے بعد جتنے نبی علیہم السلام سب ان پر لعنت ہی کرتے آئے ان کی زبانی اللہ کی لعنتیں بھی ان پر ہوتی رہیں۔‏‏‏‏