وَ قَالَ ارۡکَبُوۡا فِیۡہَا بِسۡمِ اللّٰہِ مَجۡؔرٖىہَا وَ مُرۡسٰىہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۱﴾
اور اس نے کہا اس میں سوار ہو جائو، اللہ کے نام کے ساتھ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ بے شک میرا رب یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
(نوح نے) کہا کہ خدا کا نام لے کر (کہ اسی کے ہاتھ میں اس کا) چلنا اور ٹھہرنا (ہے) اس میں سوار ہوجاؤ۔ بےشک میرا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے
En
نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا، اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے، یقیناً میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 41) ➊ {وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖىهَا وَ مُرْسٰىهَا: ” ارْكَبُوْا فِيْهَا “} عام طور پر سوار ہونے کے لیے {”رَكِبَ عَلَيْهِ “} آتا ہے، یہاں {” اِرْكَبُوْا عَلَيْهَا “} کی جگہ{” ارْكَبُوْا فِيْهَا “} اس لیے فرمایا کہ کشتی میں کمرے کی طرح داخل ہو کر بیٹھا جاتا ہے، جب کہ گھوڑے وغیرہ کے اوپر سوار ہوتے ہیں۔ (ابن عاشور) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کشتی صرف تختے نہیں تھے جن کے اوپر وہ سوار ہوئے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہونے والی وہ کشتی بہترین کمروں، آرام دہ سیٹوں اور کئی منزلوں والی تھی، جن میں وہ سوار ہوئے۔ {”مَجْرَي “ ” جَرَي يَجْرِيْ “} (ض) سے مصدر میمی ہے، یعنی چلنا۔ بعض قراء نے اس میں امالہ کیا ہے، یعنی الف کو یاء کی طرف اور فتحہ کو کسرہ کی طرف مائل کرکے پڑھتے ہیں۔ {” مُرْسَي“} یہ باب افعال {”اَرْسَي يُرْسِيْ“ } ({ر س و}) سے مصدر میمی ہے، یعنی اس کا ٹھہرنا۔ کشتی میں سوار ہوتے وقت نوح علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی، اس لیے کشتی میں سوار ہوتے وقت یہ دعا قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورۂ مومنون میں وہ دعا بھی مذکور ہے جو کشتی پر سوار ہو کر آرام سے بیٹھ جانے پر پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا: «{ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ }» اور «{ رَبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ }» [المؤمنون: ۲۸، ۲۹] سورۂ زخرف میں کشتی ہو یا کوئی بھی سواری، اس پر سوار ہوتے وقت اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی ہے: «{ سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ (13) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۠ }» [الزخرف: ۱۳، ۱۴] ”پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب ہی کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔“ صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھنے کی حدیث موجود ہے، اس میں مزید الفاظ بھی ہیں۔ [دیکھیے مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ متوجھا…: ۱۳۴۲، عن ابن عمر رضی اللہ عنھما]
➋ {اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} مطلب یہ ہے کہ ہم سب جو کشتی میں سوار ہو کر عذاب سے بچے ہیں، اس لیے نہیں بچے کہ ہم گناہوں سے یکسر پاک ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا رب غفور و رحیم ہے۔ ایمان لانے کی وجہ سے اس نے ہماری لغزشوں سے درگزر فرما کر ہمیں یہ عزت بخشی ہے۔
➋ {اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} مطلب یہ ہے کہ ہم سب جو کشتی میں سوار ہو کر عذاب سے بچے ہیں، اس لیے نہیں بچے کہ ہم گناہوں سے یکسر پاک ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا رب غفور و رحیم ہے۔ ایمان لانے کی وجہ سے اس نے ہماری لغزشوں سے درگزر فرما کر ہمیں یہ عزت بخشی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
41۔ 1 یعنی اللہ ہی کے نام سے اس کا پانی کی سطح پر چلنا اور اسی کے نام پر اس کا ٹھہرنا ہے۔ اس سے ایک مقصد اہل ایمان کو تسلی اور حوصلہ دینا بھی تھا کہ بلا خوف و خطر کشتی میں سوار ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ ہی اس کشتی کا محافظ اور نگران ہے اسی کے حکم سے چلے گی اور اسی کے حکم سے ٹھہرے گی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا کہ ' اے نوح! جب تو اور تیرے ساتھی کشتی میں آرام سے بیٹھ جائیں تو کہو (اَلْحَمْدُ لللّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ہ وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکَا وَّ اَنْتَ خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ) (المومنون 28، 29) ' سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات عطا فرمائی اور کہہ کہ اے میرے رب! مجھے بابرکت اتارنا اتار اور تو ہی بہتر اتارنے والا ہے '۔ بعض علماء نے کشتی یا سواری پر بیٹھتے وقت (بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھا ومُرْسٰھِا) کا پڑھنا مستحب قرار دیا ہے، مگر حدیث سے (وَتَـقُوْلُوْاسُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّــرَ لَنَا ھٰذَا وَمَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِيْنَ) 43۔ الزخرف:13) پڑھنا ثابت ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ نوح نے کہا: ”اس کشتی میں سوار ہو جاؤ [47] اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ ہی کے نام سے ہے۔ میرا پروردگار یقیناً بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[47] کشتی پر سوار ہونے کی دعا:۔
نوحؑ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اس کشتی پر سوار ہو جاؤ کچھ فکر مت کرو اس کا چلنا اور ٹھہرنا سب اللہ کے اذن اور اس کے نام کی برکت سے ہے۔ غرقابی کا کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ میرا پروردگار مومنوں کی کوتاہیوں سے درگذر کرنے والا اور ان پر بہت مہربان ہے۔ وہ یقیناً اپنے فضل و کرم سے ہم کو بخیریت اتارے گا۔ ضمناً اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ مومن کو صرف اسباب پر بھروسہ نہ کرنا چاہیے بلکہ اللہ سے اس کے فضل و کرم کی دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اسباب کی باگ ڈور بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور دوسری یہ کہ کشتی یا جہاز پر سوار ہوتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے
﴿بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖيهَا وَمُرْسيٰهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴾
﴿بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖيهَا وَمُرْسيٰهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴾
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا؟ ٭٭
نوح علیہ السلام جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ ”آؤ اس میں سوار ہو جاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔“
أبو رجاء العطاردي کی قرآت میں «بِسْمِ اللَّهِ مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا» بھی ہے۔
یہی اللہ کا آپ علیہ السلام کو حکم تھا کہ ’ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا «الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:28] اور یہ بھی دعا کرنا کہ «اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ» ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:29] اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو۔
جیسے فرمان باری ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:12-14] ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لیے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو ‘، الخ۔
حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورۃ الزخرف میں اس کا پورا بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ طبرانی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں «بِسْمِ اللَّهِ الْمُلْكُ» ، «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [الزُّمَرِ: 67] «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [11-ھود:41] } } اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔
جیسے فرمان ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:167] ’ تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] یعنی ’ تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [7-الاعراف:167] ’ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے ‘، اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔
پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقول اسی میل اوپر کو ہو گیا ہے باوجود اس کے کشتی نوح علیہ السلام بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔
أبو رجاء العطاردي کی قرآت میں «بِسْمِ اللَّهِ مُجْرِيهَا وَمُرْسِيهَا» بھی ہے۔
یہی اللہ کا آپ علیہ السلام کو حکم تھا کہ ’ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا «الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:28] اور یہ بھی دعا کرنا کہ «اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ» ‘ ۱؎ [23-المؤمنون:29] اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ لی جائے خواہ کشتی پر سوار ہونا ہو، خواہ جانور پر سوار ہونا ہو۔
جیسے فرمان باری ہے کہ «وَالَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعَامِ مَا تَرْكَبُونَ لِتَسْتَوُوا عَلَىٰ ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبِّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمْ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَـٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:12-14] ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اور کشتیاں اور چوپائے تمہاری سواری کے لیے پیدا کئے ہیں کہ تم ان کی پیٹھ پر سواری کرو ‘، الخ۔
حدیث میں بھی اس کی تاکید اور رغبت آئی ہے، سورۃ الزخرف میں اس کا پورا بیان ہو گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ طبرانی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے لیے ڈوبنے سے بچاؤ ان کے اس قول میں ہے سوار ہوتے ہوئے کہہ لیں «بِسْمِ اللَّهِ الْمُلْكُ» ، «وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ» [الزُّمَرِ: 67] «بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [11-ھود:41] } } اس دعا کے آخر میں اللہ کا وصف غفور و رحیم اس لیے لائے کہ کافروں کی سزا کے مقابلے میں مومنون پر رحمت و شفقت کا اظہار ہو۔
جیسے فرمان ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:167] ’ تیرا رب جلد سزا کرنے والا اور ساتھ ہی غفور و رحیم بھی ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلَىٰ ظُلْمِهِمْ وَإِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيدُ الْعِقَابِ» ۱؎ [13-الرعد:6] یعنی ’ تیرا پروردگار لوگوں کے گناہوں کو بخشنے والا بھی ہے اور سخت سزا دینے والا بھی ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [7-الاعراف:167] ’ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے ‘، اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن میں رحمت و انتقام کا بیان ملا جلا ہے۔
پانی روئے زمین پر پھر گیا ہے، کسی اونچے سے اونچے پہاڑ کی بلندی سے بلند چوٹی بھی دکھائی نہیں دیتی بلکہ پہاڑوں سے اوپر پندرہ ہاتھ اور بقول اسی میل اوپر کو ہو گیا ہے باوجود اس کے کشتی نوح علیہ السلام بحکم الٰہی برابر صحیح طور پر جا رہی ہے۔
خود اللہ اس کا محافظ ہے اور وہ خاص اس کی عنایت و مہر ہے۔ جیسے فرمان ہے «إِنَّا لَمَّا طَغَى الْمَاءُ حَمَلْنَاكُمْ فِي الْجَارِيَةِ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَتَعِيَهَا أُذُنٌ وَاعِيَةٌ» [69-الحاقة:11، 12] یعنی ’ پانی میں طغیانی کے وقت ہم نے آپ تمہیں کشتی میں چڑھا لیا کہ ہم اسے تمہارے لیے نصیحت بنائیں اور یاد رکھنے والے کان اسے یاد رکھ لیں ‘۔
اور آیت میں ہے کہ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» ۱؎ [54-القمر:13-15] ’ ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنا دیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے؟ ‘
اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ علیہ السلام کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بد نیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قرآن میں تو یہ ہے کہ ’ اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا؟ ‘
اس پر نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔“ یہاں «عَاصِمَ» «مَعْصُومٍ» کے معنی میں ہے جیسے «طَاعِمٌ» «مَطْعُومٍ» کے معنی میں اور «وَكَاسٍ» «مَكْسُوٍ» کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح علیہ السلام کو لے ڈوبی۔
اور آیت میں ہے کہ «وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِّمَن كَانَ كُفِرَ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ» ۱؎ [54-القمر:13-15] ’ ہم نے تمہیں اس تختوں والی کشتی پر سوار کرایا اور اپنی حفاظت میں پار اتارا اور کافروں کو ان کے کفر کا انجام دکھا دیا اور اسے ایک نشان بنا دیا کیا اب بھی کوئی ہے جو عبرت حاصل کرے؟ ‘
اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے کو بلایا یہ آپ علیہ السلام کے چوتھے لڑکے تھے اس کا نام حام تھا یہ کافر تھا اسے آپ علیہ السلام نے کشتی میں سوار ہونے کے وقت ایمان کی اور اپنے ساتھ بیٹھ جانے کی ہدایت کی تاکہ ڈوبنے سے اور کافروں کے عذاب سے بچ جائے۔ مگر اس بد نیت نے جواب دیا کہ نہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان باراں سے بچ جاؤں گا۔ ایک اسرائیلی روایت میں ہے کہ اس نے شیشے کی کشتی بنائی تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قرآن میں تو یہ ہے کہ ’ اس نے یہ سمجھا کہ یہ طوفان پہاڑوں کی چوٹیوں تک نہیں پہنچنے کا میں جب جا پہنچوں گا تو یہ پانی میرا کیا بگاڑے گا؟ ‘
اس پر نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ ”آج عذاب الٰہی سے کہیں پناہ نہیں وہی بچے گا جس پر اللہ کا رحم ہو۔“ یہاں «عَاصِمَ» «مَعْصُومٍ» کے معنی میں ہے جیسے «طَاعِمٌ» «مَطْعُومٍ» کے معنی میں اور «وَكَاسٍ» «مَكْسُوٍ» کے معنی میں آیا ہے۔ یہ باتیں ہو ہی رہی ہیں جو ایک موج آئی اور پسر نوح علیہ السلام کو لے ڈوبی۔