وَ اصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ وَحۡیِنَا وَ لَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۳۷﴾
اور ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بنا اور مجھ سے ان کے بارے میں بات نہ کرنا جنھوں نے ظلم کیا، یقینا وہ غرق کیے جانے والے ہیں۔
En
اور ایک کشتی ہمارے حکم سے ہمارے روبرو بناؤ۔ اور جو لوگ ظالم ہیں ان کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا کیونکہ وہ ضرور غرق کردیئے جائیں گے
En
اورایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی سے تیار کر اور ﻇالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر وه پانی میں ڈبو دیئے جانے والے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 37) ➊ {وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا:} نوح علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے کفار پر عذاب کے وعدے کے ساتھ نوح علیہ السلام کو دو باتوں کی تاکید فرمائی، پہلی تو یہ کہ پانی کے طوفان سے بچنے کے لیے ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق ایک بحری جہاز بناؤ۔ یاد رہے کہ{” الْفُلْكَ “} کا لفظ بڑی کشتی (بحری جہاز) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور واحد و جمع اور مذکر و مؤنث سبھی کے لیے ایک ہی لفظ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں اور اس کی ہدایت کے مطابق بننے والی کشتی کتنی شان دار ہو گی، اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ بعض لوگوں نے اس کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی بیان کی ہے، مگر ان تمام باتوں کی کوئی پختہ دلیل نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ جب تم نے خود ہی دعا کی ہے کہ یا اللہ! زمین پر رہنے والا ایک کافر بھی باقی نہ چھوڑ، تو اب عذاب آنے پر ظلم کرنے والوں (مشرکوں) کے بارے میں مجھ سے کوئی بات (سفارش) مت کرنا، کیونکہ ان کے غرق کیے جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔
➋ { بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا:} معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھوں کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے اس کی آنکھیں بھی ہیں۔ دوسری جگہ موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «{ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِيْ }» [طٰہٰ: ۳۹] ”اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔“ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھیں ہونے سے انکار کرتے ہیں، ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ کی آنکھیں ماننے سے مخلوق کے ساتھ تشبیہ لازم آتی ہے، یعنی وہ ہمارے جیسا بن جاتا ہے، کیونکہ ہماری بھی آنکھیں ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں۔ ان حضرات نے اسی بہانے سے اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات کا انکار کر دیا اور کئی ایک کی تاویل کر دی، مثلاً اللہ تعالیٰ کے چہرے، ہاتھ، پنڈلی، کان اور آنکھ کا، اس کے اترنے، چڑھنے، سننے، بولنے، دیکھنے، خوش ہونے اور ناراض ہونے کا انکار کر دیا، یا اپنے پاس سے کوئی اور مطلب بیان کر دیا، یا کہا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں اس کا معنی کیا ہے۔ ان بے چاروں نے غور نہیں کیا کہ جب آپ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لیے {”عَيْنٌ“} کا لفظ بول رہے ہیں تو اردو میں آنکھ کہنے سے آپ کو کیا پریشانی ہے۔ بعض حضرات نے اس کا ترجمہ کیا ”ہماری نگرانی میں کشتی بنا۔“ چلیے یہ بھی درست ہے، مگر اس کے لیے آنکھوں کے انکار کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ نگرانی بھی آنکھوں کے ساتھ ہی تھی۔ {” بِاَعْيُنِنَا “} کا ترجمہ نگرانی کریں، پھر بھی مشابہت والا اعتراض ختم نہیں ہوتا، کیونکہ انسان نگرانی بھی کرتا ہے، یہ بھی مشابہت ہو گئی۔ ان کو چاہیے تھا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس پر ایمان رکھتے اور اس مشکل کا حل جو اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے، اس کو تسلیم کرتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ }» [الشوریٰ: ۱۱] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں“ کے باوجود وہ سنتا بھی ہے، دیکھتا بھی، سمع و بصر بھی رکھتا ہے، مگر اس کا سننا، دیکھنا، ہنسنا، غصے ہونا، اترنا، چڑھنا، بولنا، اس کے کان، آنکھیں اور پنڈلی سب کچھ ہونے کے باوجود کوئی چیز مخلوق جیسی نہیں۔ اگر ہم اس حد تک چلے جائیں کہ مخلوق پر بولا جانے والا کوئی لفظ اللہ تعالیٰ پر بولا جا ہی نہیں سکتا، تو پھر ہم اپنے اللہ تعالیٰ ہی کو گم کر بیٹھیں گے۔ کیونکہ ہم زندہ ہیں، موجود ہیں، علم رکھتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ کے حق میں اس کا انکار کرکے دیکھو تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ موجود ہی نہیں۔ ایسے خبیث عقیدے سے اللہ کی پناہ۔ یقینا ہم زندہ و موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی زندہ و موجود ہے، مگر ہماری زندگی اور وجود اللہ تعالیٰ کی زندگی اور وجود سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے۔ اس کی زندگی اور وجود اس کی شان کے لائق ہے، جو ازلی، ابدی اور لامحدود ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں اور ہمارا وجود اور زندگی فانی، محدود اور اللہ کے محتاج ہیں۔
یہ لوگ عجیب باتیں کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ عرش پر ہے نہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن آئے گا، تو پھر وہ کہاں ہے؟ کہتے ہیں، یہ پوچھنا ہی منع ہے، وہ نہ مکان میں ہے نہ لا مکان میں۔ پھر کبھی کہتے ہیں، وہ ہر جگہ ہے، کبھی کہتے ہیں، کہیں بھی نہیں۔ اللہ کے بندو! جو کچھ تعارف اللہ تعالیٰ نے اپنا خود کروایا ہے وہ ہر صورت مانو، مگر یہ کہو کہ اس کی آنکھیں، کان، چہرہ، اترنا اور چڑھنا وغیرہ سب کچھ ہے مگر مخلوق میں سے کسی کی طرح نہیں، بلکہ وہ اسی طرح ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہیں۔ دراصل یہ لوگ اللہ کی صفات پر ایمان لانے سے اس لیے محروم ہوئے کہ انھوں نے اس کے چہرے، آنکھوں، ہاتھوں اور سننے و دیکھنے وغیرہ کو اپنے جیسا سمجھا، اس لیے انکار کر دیا۔ اگر وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے اور اس پر ایمان رکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق جو جو الفاظ بولے ہیں، سب حق ہیں، مگر مخلوق میں سے کسی کے مشابہ نہیں تو وہ ایمان سے ہاتھ نہ دھوتے۔
➌ {وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …: ” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک سے بڑی ناانصافی کوئی نہیں۔ نوح علیہ السلام کی بیوی اور ایک بیٹا مشرک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کے حق میں کسی بھی قسم کی بات کرنے سے منع فرما دیا، کیونکہ مشرک کی نجات کی کوئی صورت نہیں۔
➋ { بِاَعْيُنِنَا وَ وَحْيِنَا:} معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھوں کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے اس کی آنکھیں بھی ہیں۔ دوسری جگہ موسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «{ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَيْنِيْ }» [طٰہٰ: ۳۹] ”اور تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔“ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے لیے آنکھیں ہونے سے انکار کرتے ہیں، ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ کی آنکھیں ماننے سے مخلوق کے ساتھ تشبیہ لازم آتی ہے، یعنی وہ ہمارے جیسا بن جاتا ہے، کیونکہ ہماری بھی آنکھیں ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں۔ ان حضرات نے اسی بہانے سے اللہ تعالیٰ کی بے شمار صفات کا انکار کر دیا اور کئی ایک کی تاویل کر دی، مثلاً اللہ تعالیٰ کے چہرے، ہاتھ، پنڈلی، کان اور آنکھ کا، اس کے اترنے، چڑھنے، سننے، بولنے، دیکھنے، خوش ہونے اور ناراض ہونے کا انکار کر دیا، یا اپنے پاس سے کوئی اور مطلب بیان کر دیا، یا کہا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں اس کا معنی کیا ہے۔ ان بے چاروں نے غور نہیں کیا کہ جب آپ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لیے {”عَيْنٌ“} کا لفظ بول رہے ہیں تو اردو میں آنکھ کہنے سے آپ کو کیا پریشانی ہے۔ بعض حضرات نے اس کا ترجمہ کیا ”ہماری نگرانی میں کشتی بنا۔“ چلیے یہ بھی درست ہے، مگر اس کے لیے آنکھوں کے انکار کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ نگرانی بھی آنکھوں کے ساتھ ہی تھی۔ {” بِاَعْيُنِنَا “} کا ترجمہ نگرانی کریں، پھر بھی مشابہت والا اعتراض ختم نہیں ہوتا، کیونکہ انسان نگرانی بھی کرتا ہے، یہ بھی مشابہت ہو گئی۔ ان کو چاہیے تھا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس پر ایمان رکھتے اور اس مشکل کا حل جو اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے، اس کو تسلیم کرتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: «{ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ }» [الشوریٰ: ۱۱] ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔“ ”اس کی مثل کوئی چیز نہیں“ کے باوجود وہ سنتا بھی ہے، دیکھتا بھی، سمع و بصر بھی رکھتا ہے، مگر اس کا سننا، دیکھنا، ہنسنا، غصے ہونا، اترنا، چڑھنا، بولنا، اس کے کان، آنکھیں اور پنڈلی سب کچھ ہونے کے باوجود کوئی چیز مخلوق جیسی نہیں۔ اگر ہم اس حد تک چلے جائیں کہ مخلوق پر بولا جانے والا کوئی لفظ اللہ تعالیٰ پر بولا جا ہی نہیں سکتا، تو پھر ہم اپنے اللہ تعالیٰ ہی کو گم کر بیٹھیں گے۔ کیونکہ ہم زندہ ہیں، موجود ہیں، علم رکھتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ کے حق میں اس کا انکار کرکے دیکھو تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ موجود ہی نہیں۔ ایسے خبیث عقیدے سے اللہ کی پناہ۔ یقینا ہم زندہ و موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی زندہ و موجود ہے، مگر ہماری زندگی اور وجود اللہ تعالیٰ کی زندگی اور وجود سے کوئی مشابہت نہیں رکھتے۔ اس کی زندگی اور وجود اس کی شان کے لائق ہے، جو ازلی، ابدی اور لامحدود ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں اور ہمارا وجود اور زندگی فانی، محدود اور اللہ کے محتاج ہیں۔
یہ لوگ عجیب باتیں کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نہ اوپر ہے نہ نیچے، نہ عرش پر ہے نہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن آئے گا، تو پھر وہ کہاں ہے؟ کہتے ہیں، یہ پوچھنا ہی منع ہے، وہ نہ مکان میں ہے نہ لا مکان میں۔ پھر کبھی کہتے ہیں، وہ ہر جگہ ہے، کبھی کہتے ہیں، کہیں بھی نہیں۔ اللہ کے بندو! جو کچھ تعارف اللہ تعالیٰ نے اپنا خود کروایا ہے وہ ہر صورت مانو، مگر یہ کہو کہ اس کی آنکھیں، کان، چہرہ، اترنا اور چڑھنا وغیرہ سب کچھ ہے مگر مخلوق میں سے کسی کی طرح نہیں، بلکہ وہ اسی طرح ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہیں۔ دراصل یہ لوگ اللہ کی صفات پر ایمان لانے سے اس لیے محروم ہوئے کہ انھوں نے اس کے چہرے، آنکھوں، ہاتھوں اور سننے و دیکھنے وغیرہ کو اپنے جیسا سمجھا، اس لیے انکار کر دیا۔ اگر وہ اس حقیقت کو سمجھ لیتے اور اس پر ایمان رکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق جو جو الفاظ بولے ہیں، سب حق ہیں، مگر مخلوق میں سے کسی کے مشابہ نہیں تو وہ ایمان سے ہاتھ نہ دھوتے۔
➌ {وَ لَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا …: ” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “} سے مراد مشرک ہیں، کیونکہ شرک سے بڑی ناانصافی کوئی نہیں۔ نوح علیہ السلام کی بیوی اور ایک بیٹا مشرک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کے حق میں کسی بھی قسم کی بات کرنے سے منع فرما دیا، کیونکہ مشرک کی نجات کی کوئی صورت نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 یعنی ہماری آنکھوں کے سامنے ' اور ' ہماری دیکھ بھال میں ' اس آیت میں اللہ رب العزت کے لئے صفت ' عین ' کا اثبات ہے جس پر ایمان رکھنا ضروری ہے اور ' ہماری وحی سے ' کا مطلب، اس کے طول و عرض وغیرہ کی جو کیفیات ہم نے بتلائی ہیں، اس طرح اسے بنا۔ اس مقام پر بعض مفسرین نے کشتی کے طول و عرض، اس کی منزلوں اور کس قسم کی لکڑی اور دیگر سامان اس میں استعمال کیا گیا، اس کی تفصیل بیان کی ہے، جو ظاہر بات ہے کہ کسی مستند ماخذ پر مبنی نہیں ہے۔ اس کی پوری تفصیل کا صحیح علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ 37۔ 2 بعض نے اس سے مراد حضرت نوح ؑ کے بیٹے اور اہلیہ کو لیا ہے جو مومن نہیں تھے اور غرق ہونے والوں میں سے تھے۔ بعض نے اس سے غرق ہونے والی پوری قوم مراد لی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کے لئے کوئی مہلت طلب مت کرنا کیونکہ اب ان کے ہلاک ہونے کا وقت آگیا ہے یا یہ مطلب ہے کہ ان کی ہلاکت کے لئے جلدی نہ کریں، وقت مقرر میں یہ سب غرق ہوجائیں گے، (فتح القدیر)۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ اور ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناؤ اور ان ظالموں کے بارے میں مجھ سے [44] گفتگو (سفارش) نہ کرنا۔ یہ سب غرق ہونے والے ہیں
[44] جب یہ صورت حال پیدا ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے نوحؑ کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ اب ہماری ہدایات کے مطابق ایک بہت بڑی کشتی بنانا شروع کر دو اور دیکھو جو لوگ اب تک ایمان نہیں لائے ان سب کو میں غرق کرنے والا ہوں لہٰذا ان میں سے کسی پر تمہیں ترس نہ آجائے کہ تم اس کی نجات کے لیے مجھ سے درخواست کرنے لگو۔ تورات کی تصریح کے مطابق اس کشتی کی لمبائی تین سو ہاتھ، چوڑائی پچاس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ تھی اور اس کے تین درجے یا منزلیں تھیں اور اس میں روشندان اور دروازے اور کھڑکیاں اور کوٹھڑیاں تھیں اور اندر اور باہر رال لگا دی گئی تھی گویا یہ موجودہ دور کے لحاظ سے بھی ایک درمیانہ درجہ کا بحری جہاز تھا جسے بنی نوع انسان کی تاریخ میں سیدنا نوحؑ نے غالباً پہلی بار بنایا تھا اور اس کے بنانے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے خود بذریعہ وحی سکھلایا تھا۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا ٭٭
قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی «وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح:26] ’ الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ ‘۔ «فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ» ۱؎ [54-القمر:10] ’ پرودرگار میں عاجز آ گیا ہوں، تو میری مدد کر ‘۔
اسی وقت وحی آئی کہ ’ جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں ‘۔
بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔
ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔“
اسی وقت وحی آئی کہ ’ جو ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کر چکے ہیں ‘۔
بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنا لو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس سال لگے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
امام محمد بن اسحٰق رحمہ اللہ توراۃ سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی کی یہ کشتی تیار ہوئی اس کا طول اسی (۸۰) ہاتھ تھا اور عرض پچاس (۵۰) ہاتھ کا تھا۔ اندر باہر سے روغن کیا گیا تھا پانی کاٹنے کے پر پرزے بھی تھے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ لمبائی تین سو ہاتھ کی تھی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ”طول بارہ سو ہاتھ کا تھا اور چوڑائی چھ سو ہاتھ کی تھی۔“ کہا گیا ہے کہ طول دوہزار ہاتھ اور چوڑائی ایک سو ہاتھ کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس کی اندرونی اونچائی تیس ہاتھ کی تھی اس میں تین درجے تھے ہر درجہ دس ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے اور اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چھوٹا دروازہ تھا، اوپر سے بالکل بند تھی۔
ابن جریر رحمہ اللہ نے ایک غریب اثر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ذکر کیا ہے کہ ”حواریوں نے عیسیٰ بن مریم سے درخواست کی کہ اگر آپ بحکم الٰہی کسی ایسے مردہ کو جلاتے جس نے کشتی نوح علیہ السلام دیکھی ہو تو ہمیں اسے معلومات ہوتیں آپ علیہ السلام انہیں لے کر ایک ٹیلے پر پہنچ کر وہاں کی مٹی اٹھائی اور فرمایا ”جانتے ہو یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا کہ ”اللہ اور اس کے رسول علیہ السلام کو ہی علم ہے۔“
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ پنڈلی ہے حام بن نوح علیہ السلام کی“، پھر آپ علیہ السلام نے ایک لکڑی اس ٹیلے پر مار کر فرمایا ”اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑا ہو۔“ اسی وقت ایک بوڑھا سا آدمی اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔
عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“
آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ”کیا تو بڑھاپے میں مرا تھا؟“ اس نے کہا نہیں مرا تو تھا جوانی میں لیکن اب دل پر دہشت بیٹھی کہ قیامت قائم ہوگئی اس دہشت نے بوڑھا کر دیا۔
آپ علیہ السلام نے فرمایا ”اچھا نوح علیہ السلام کی کشتی کی بابت اپنی معلومات بیان کرو۔ اس نے کہا وہ بارہ سو ہاتھ لمبی اور چھ سو ہاتھ چوڑی تھی تین درجوں کی تھی۔ ایک میں جانور اور چوپائے تھے، دوسرے میں انسان، تیسرے میں پرند، جب جانوروں کا گوبر پھیل گیا تو اللہ تعالیٰ نے نوح کی طرف وحی بھیجی کہ ہاتھی کی دم ہلاؤ۔ آپ کے ہلاتے ہی اس سے خنزیر نر مادہ نکل آئے اور وہ میل کھانے لگے۔ چوہوں نے جب اس کے تختے کترنے شروع کئے تو حکم ہوا کہ شیر کی پیشانی پر انگلی لگا۔ اس سے بلی کا جوڑا نکلا اور چوہوں کی طرف لپکا۔
عیسیٰ علیہ السلام نے سوال کیا کہ ”نوح علیہ السلام کو شہروں کے غرقاب ہونے کا علم کیسے ہوگیا؟“
آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”انہوں نے کوے کو خبر لینے کے لیے بھیجا لیکن وہ ایک لاش پر بیٹھ گیا، دیر تک وہ واپس نہ آیا تو آپ علیہ السلام نے اس کے لیے ہمیشہ ڈرتے رہنے کی بد دعا کی۔ اسی لیے وہ گھروں سے مانوس نہیں ہوتا۔ پھر آپ علیہ السلام نے کبوتر کو بھیجا وہ اپنی چونچ میں زیتون کے درخت کا پتہ لے کر آیا اور اپنے پنجوں میں خشک مٹی لایا اس سے معلوم ہو گیا کہ شہر ڈوب چکے ہیں۔
آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔“
پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف]
نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔“
آپ علیہ السلام نے اس کی گردن میں خصرہ کا طوق ڈال دیا اور اس کے لیے امن و انس کی دعا کی پس وہ گھروں میں رہتا سہتا ہے۔ حواریوں نے کہا ”اے رسول علیہ السلام! واللہ! آپ انہیں ہمارے ہاں لے چلئے کہ ہم میں بیٹھ کر اور بھی باتیں ہمیں سنائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”یہ تمہارے ساتھ کیسے آسکتا ہے جب کہ اس کی روزی نہیں۔“
پھر فرمایا ”اللہ کے حکم سے جیسا تھا ویسا ہی ہو جا“، وہ اسی وقت مٹی ہو گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18151:ضعیف]
نوح علیہ السلام تو کشتی بنانے میں لگے اور کافروں کو ایک مذاق ہاتھ لگ گیا وہ چلتے پھرتے انہیں چھیڑتے اور باتیں بناتے اور طعنہ دیتے کیونکہ انہیں جھوٹا جانتے تھے اور عذاب کے وعدے پر انہیں یقین نہ تھا۔ اس کے جواب میں نوح علیہ السلام فرماتے ”اچھا دل خوش کر لو وقت آ رہا ہے کہ اس کا پورا بدلہ لے لیا جائے۔ ابھی جان لو گے کہ کون اللہ کے عذاب سے دنیا میں رسوا ہوتا ہے اور کس پر اخروی عذاب آچمٹتا ہے جو کبھی ٹالے نہ ٹلے۔“