ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 25

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ ۫ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۲۵﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، بے شک میں تمھارے لیے صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ En
اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (تو انہوں نے ان سے کہا) کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے اور پیغام پہنچانے آیا ہوں
En
یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا کہ میں تمہیں صاف صاف ہوشیار کر دینے واﻻ ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25) ➊ {وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ:} جن حالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں توحید کی دعوت پیش کر رہے تھے، وہ چونکہ ویسے ہی حالات تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دوسرے انبیاء علیھم السلام کو پیش آ چکے تھے، اس لیے حسب موقع یہاں سے گزشتہ انبیاء کا ذکر کیا جا رہا ہے اور باقی سورت تقریباً اسی تذکرے سے بھری ہوئی ہے، تاکہ ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت بندھے، آپ کو اور مسلمانوں کو تسلی ہو کہ انجام کار اللہ کے رسولوں اور اہل حق کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقینا مدد ہوتی ہے اور دوسری طرف پہلی قوموں کے اعتراضات اور ان کے انبیاء کے جوابات آپ کے لیے نمونہ بنیں اور آپ کی قوم کو پہلے کفار کے انجام سے ڈرایا جائے۔
➋ آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی تھے، وہ اور ان کی اولاد سب موحد اور دین حق پر تھے، پھر شیطان کے بہکانے سے بزرگوں کی پوجا بت پرستی کی صورت میں شروع ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر سب سے پہلے رسول نوح علیہ السلام بھیجے گئے، جیسا کہ حدیث شفاعت میں ہے اور بت پرستی کے آغاز کی تفصیل سورۂ نوح میں آئے گی۔ نوح علیہ السلام کا ذکر قرآن میں ۴۳ بار آیا ہے۔
➌ { اِنِّيْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ:} نوح علیہ السلام نے صرف ڈرانے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ ان کی قوم نے سمع و طاعت کا اظہار ہی نہیں کیا کہ انھیں خوش خبری دی جاتی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ اور ہم نے نوح [30] کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (تو اس نے انھیں کہا کہ) میں تمہیں صاف صاف [31] ڈرانے والا ہوں
[30] سیدنا نوحؑ کا قصہ پہلے سورۃ اعراف کے رکوع نمبر 8 میں بھی گذر چکا ہے لہٰذا وہ حواشی بھی مد نظر رکھے جائیں۔
[31] یعنی تمہیں صاف صاف بتا رہا ہوں کہ کن باتوں اور کاموں کے ارتکاب سے تم پر عذاب آنے کا اندیشہ ہے اور اس عذاب سے بچنے کے ذرائع کیا ہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلا نبی؟ ٭٭
سب سے پہلے کافروں کی طرف رسول بنا کر بت پرستی سے روکنے کے لیے زمین پر نوح علیہ السلام ہی بھیجے گئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں اگر تم غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑو گے تو عذاب میں پھنسو گے۔ دیکھو تم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرتے رہو۔ اگر تم نے خلاف ورزی کی تو قیامت کے دن کے درد ناک سخت عذابوں میں مجھے تمہارے لینے کا خوف ہے۔‏‏‏‏
اس پر قومی کافروں کے رؤسا اور امراء بول اُٹھے کہ آپ علیہ السلام کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں ہم جیسے ہی انسان ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم سب کو چھوڑ کر تم ایک ہی کے پاس وحی آئے۔ اور ہم اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ایسے رذیل لوگ آپ علیہ السلام کے حلقے میں شامل ہو گئے ہیں کوئی شریف اور رئیس آپ علیہ السلام کا فرماں بردار نہیں ہوا اور یہ لوگ بے سوچے سمجھے بغیر غور و فکر کے آپ علیہ السلام کی مجلس میں آن بیٹھے ہیں اور ہاں میں ہاں ملائے جاتے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اس نئے دین نے تمہیں کوئی فائدہ بھی نہیں پہنچایا کہ تم خوش حال ہو گئے ہو تمہاری روزیاں بڑھ گئی ہوں یا خلق و خلق میں تمہیں کوئی برتری ہم پر حاصل ہو گئی ہو۔ بلکہ ہمارے خیال سے تم سب سے جھوٹے ہو۔ نیکی اور صلاحیت اور عبادت پر جو وعدے تم ہمیں آخرت ملک کے دے رہے ہو ہمارے نزدیک تو یہ سب بھی جھوٹی باتیں ہیں۔
ان کفار کی بےعقلی تو دیکھئیے اگر حق کے قبول کرنے والے نچلے طبقہ کے لوگ ہوئے تو کیا اس سے حق کی شان گھٹ گئی؟ حق حق ہی ہے خواہ اس کے ماننے والے بڑے لوگ ہوں خواہ چھوٹے لوگ ہوں۔
بلکہ حق بات یہ ہے کہ حق کی پیروی کرنے والے ہی شریف لوگ ہیں۔ چاہے وہ مسکین مفلس ہی ہوں اور حق سے روگردانی کرنے والے ہیں ذلیل اور رذیل ہیں گو وہ غنی مالدار اور امیر امراء ہوں۔ ہاں یہ واقع ہے کہ سچائی کی آواز کو پہلے پہل غریب مسکین لوگ ہی قبول کرتے ہیں اور امیر کبیر لوگ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔
فرمان قرآن ہے کہ «وَكَذَٰلِكَ مَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَىٰ أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَىٰ آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:23]‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے جس جس بستی میں ہمارے انبیاء آئے وہاں کے بڑے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے آپ باپ دادوں کو جس دین پر یایا ہے ہم تو انہیں کی خوشہ چینی کرتے رہیں گے ‘۔
شاہ روم ہرقل نے جو ابوسفیان سے پوچھا تھا کہ شریف لوگوں نے اس کی تابعداری کی ہے یا ضعیف لوگوں نے؟ تو اس نے یہی جواب دیا تھا کہ ضعیفوں نے جس پر ہرقل نے کہا تھا کہ رسولوں کے تابعدار یہی لوگ ہوتے ہیں۔‏‏‏‏ [صحیح بخاری:7]‏‏‏‏
حق کی فوری قبولیت بھی کوئی عیب کی بات نہیں، حق کی وضاحت کے بعد رائے فکر کی ضرورت ہی کیا؟ بلکہ ہر عقلمند کا کام یہی ہے کہ حق کو ماننے میں سبقت اور جلدی کرے۔ اس میں تامل کرنا جہالت اور کند ذہنی ہے۔ اللہ کے تمام پیغمبر علیہم السلام بہت واضح اور صاف اور کھلی ہوئی دلیلیں لے کر آتے ہیں۔
حدیث شریف میں ہے کہ { میں نے جسے بھی اسلام کی طرف بلایا اس میں کچھ نہ کچھ جھجک ضرور پائی سوائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کہ انہوں نے کوئی تردد و تامل نہ کیا واضح چیز کو دیکھتے ہی فوراً بے جھجک قبول کر لیا }۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:13383:]‏‏‏‏
ان کا تیسرا اعتراض ہم کوئی برتری تم میں نہیں دیکھتے یہ بھی ان کے اندھے پن کی وجہ سے ہے اپنی ان کی آنکھیں اور کان نہ ہوں اور ایک موجود چیز کا انکار کریں تو فی الواقع اس کا نہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ یہ تو نہ حق کو دیکھیں نہ حق کو سنیں بلکہ اپنے شک میں غوطے لگاتے رہتے ہیں۔ اپنی جہالت میں ڈبکیاں مارتے رہتے ہیں۔ جھوٹے مفتری خالی ہاتھ رذیل اور نقصانوں والے ہیں۔