اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنَّنِیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ ۙ﴿۲﴾
یہ کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کرو، بے شک میں تمھارے لیے اس کی طرف سے ایک ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔
En
(وہ یہ) کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور میں اس کی طرف سے تم کو ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں
En
یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو میں تم کو اللہ کی طرف سے ڈرانے واﻻ اور بشارت دینے واﻻ ہوں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 2) ➊ { اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَ:} یعنی یہ قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، بلکہ ہر رسول کو اللہ تعالیٰ نے اسی لیے بھیجا، فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ }» [الأنبیاء: ۲۵] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ سورۂ نحل (۳۶) میں بھی ہر رسول کے بھیجنے کا مقصد ایک اللہ کی عبادت کا حکم اور طاغوت سے اجتناب کی تاکید بیان فرمایا ہے۔
➋ {اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ: } چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے گھر والوں ام المومنین خدیجہ، زید، علی اور اپنے خاص دوست ابوبکر رضی اللہ عنھم کے سامنے اللہ کا حکم پیش کیا، وہ ایمان لے آئے، پھر جب یہ آیت اتری: «{وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ }» [الشعراء: ۲۱۴] ”اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا“ تو آپ نے کوہ صفا پر چڑھ کر قریش کے قبائل کو آواز دے کر جمع کیا اور ان تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ [بخاری: ۴۷۷۰] پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت: «{وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا }» [سبا: ۲۸] تمام دنیا کے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور اس کے ثواب کی خوش خبری کا پیغام پہنچانے کا کام شروع کیا۔ چنانچہ دوسرے ملکوں سے پہلے جزیرۂ عرب کے لوگوں تک نرمی اور محبت کے ساتھ اور پھر جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے یہ پیغام پہنچایا اور ان سب کو اسلام کے جھنڈے تلے جمع کیا، پھر تمام دنیا کے بادشاہوں کو خطوط لکھے، جن میں بشارت بھی تھی اور نذارت بھی۔ چنانچہ روم کے فرماں روان ہرقل کو خوش خبری دی کہ تم مسلمان ہو جاؤ تو سلامت بھی رہو گے اور اللہ تعالیٰ تمھیں دوہرا اجر دے گا اور ڈرایا بھی کہ اگر تم نے اسلام سے منہ موڑا تو تمھاری رعایا کے کفر کا بوجھ بھی تمھاری گردن پر ہو گا۔[بخاری: ۷] دوسرے تمام حکمرانوں تک بھی یہ پیغام پہنچایا، پھر آپ کے خلفاء نے مشرق سے مغرب تک یہ پیغام پہنچا دیا۔
➋ {اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّ بَشِيْرٌ: } چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنے گھر والوں ام المومنین خدیجہ، زید، علی اور اپنے خاص دوست ابوبکر رضی اللہ عنھم کے سامنے اللہ کا حکم پیش کیا، وہ ایمان لے آئے، پھر جب یہ آیت اتری: «{وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ }» [الشعراء: ۲۱۴] ”اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا“ تو آپ نے کوہ صفا پر چڑھ کر قریش کے قبائل کو آواز دے کر جمع کیا اور ان تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ [بخاری: ۴۷۷۰] پھر اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے تحت: «{وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا }» [سبا: ۲۸] تمام دنیا کے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور اس کے ثواب کی خوش خبری کا پیغام پہنچانے کا کام شروع کیا۔ چنانچہ دوسرے ملکوں سے پہلے جزیرۂ عرب کے لوگوں تک نرمی اور محبت کے ساتھ اور پھر جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے سے یہ پیغام پہنچایا اور ان سب کو اسلام کے جھنڈے تلے جمع کیا، پھر تمام دنیا کے بادشاہوں کو خطوط لکھے، جن میں بشارت بھی تھی اور نذارت بھی۔ چنانچہ روم کے فرماں روان ہرقل کو خوش خبری دی کہ تم مسلمان ہو جاؤ تو سلامت بھی رہو گے اور اللہ تعالیٰ تمھیں دوہرا اجر دے گا اور ڈرایا بھی کہ اگر تم نے اسلام سے منہ موڑا تو تمھاری رعایا کے کفر کا بوجھ بھی تمھاری گردن پر ہو گا۔[بخاری: ۷] دوسرے تمام حکمرانوں تک بھی یہ پیغام پہنچایا، پھر آپ کے خلفاء نے مشرق سے مغرب تک یہ پیغام پہنچا دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ کہ اللہ کے سوا [2] کسی کی عبادت نہ کرو۔ میں یقیناً اس کی طرف سے تمہارے لئے ڈرانے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی
[2] فساد فی الارض کا علاج صرف دعوت توحید ہے:۔
یہ آیت بھی لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ ہی کی تفصیل ہے کہ جب اللہ کے سوا کوئی الٰہ یعنی معبود برحق موجود نہیں تو عبادت بھی اسی کی کی جانی چاہئے یہی وہ حکم ہے جس سے تمام انبیاء نے اپنی دعوت کا آغاز کیا ہے اور یہ تو واضح ہے کہ تمام انبیاء کی بعثت ایسے اوقات میں ہوتی رہی جب تمام آباد دنیا ظلم و جور سے بھر جاتی تھی یہ ظلم و جور خواہ کفر و شرک جیسے گندے عقائد سے تعلق رکھتا ہو خواہ کردار و اعمال سے۔ بہرحال فساد فی الارض کی جتنی بھی قسمیں ہیں ان سب کا واحد اور بنیادی علاج یہی ہے کہ انھیں ایک اللہ کی خالصتاً عبادت کی دعوت دی جائے اور ان میں اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت پیدا کی جائے پھر جو لوگ اس دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر دیں انھیں دنیا اور آخرت میں ان کے برے انجام سے ڈرایا جائے اور جو اسے قبول کر کے اس کے تقاضوں کے مطابق اعمال بجا لانے لگیں انھیں دنیوی و اخروی فلاح کی بشارت دی جائے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تعارف قرآن حکیم ٭٭
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جو حروف سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفصیل اس تفسیر کے شروع میں سورۃ البقرہ کے ان حروف کے بیان میں گزر چکی ہے جسے دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں فرمان ہے کہ ’ یہ قرآن لفظوں میں محکم اور معنی میں مفصل ہے ‘۔
پس مضمون اور معنی ہر طرح سے کامل ہے۔ یہ اس للہ کا کلام ہے جو اپنے اقوال و احکام میں حکیم ہے۔ جو کاموں کے انجام سے خبردار ہے۔ یہ قرآن اللہ کی عبادت کرانے اور دوسروں کی عبادت سے روکنے کے لیے اترا ہے۔ سب رسولوں پر پہلی وحی توحید کی آتی رہی ہے، سب سے یہی فرمایا گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کریں۔
پھر فرمایا کہ ’ اللہ کی مخالفت کی وجہ سے جو عذاب آ جاتے ہیں ان سے میں ڈرا رہا ہوں اور اس کی اطاعت کی بنا پر جو ثواب ملتے ہیں، ان کی میں بشارت سناتا ہوں ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ کر قریش کے خاندانوں کو آواز دیتے ہیں۔ زیادہ قریب والے پہلے، پھر ترتیب وار جب سب جمع ہو جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ { اگر میں تم سے کہوں کہ کوئی لشکر صبح کو تم پر دھاوا کرنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ } انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کوئی جھوٹ سنا ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { سنو میں تم سے کہتا ہوں کہ قیامت کے دن تمہاری ان بد اعمالیوں کی وجہ سے سخت تر عذاب ہو گا، پس تم ان سے ہوشیار ہو جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4770]
پس مضمون اور معنی ہر طرح سے کامل ہے۔ یہ اس للہ کا کلام ہے جو اپنے اقوال و احکام میں حکیم ہے۔ جو کاموں کے انجام سے خبردار ہے۔ یہ قرآن اللہ کی عبادت کرانے اور دوسروں کی عبادت سے روکنے کے لیے اترا ہے۔ سب رسولوں پر پہلی وحی توحید کی آتی رہی ہے، سب سے یہی فرمایا گیا ہے کہ لوگ اللہ کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کسی کی پرستش نہ کریں۔
پھر فرمایا کہ ’ اللہ کی مخالفت کی وجہ سے جو عذاب آ جاتے ہیں ان سے میں ڈرا رہا ہوں اور اس کی اطاعت کی بنا پر جو ثواب ملتے ہیں، ان کی میں بشارت سناتا ہوں ‘۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ کر قریش کے خاندانوں کو آواز دیتے ہیں۔ زیادہ قریب والے پہلے، پھر ترتیب وار جب سب جمع ہو جاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ { اگر میں تم سے کہوں کہ کوئی لشکر صبح کو تم پر دھاوا کرنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ } انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے آج تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کوئی جھوٹ سنا ہی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا { سنو میں تم سے کہتا ہوں کہ قیامت کے دن تمہاری ان بد اعمالیوں کی وجہ سے سخت تر عذاب ہو گا، پس تم ان سے ہوشیار ہو جاؤ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4770]
پھر ارشاد ہے کہ ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہیں اپنے گزشتہ گناہوں سے توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ہدایت کرتا ہوں اگر تم بھی ایسا ہی کرتے رہے تو دنیا میں بھی اچھی زندگی بسر کرو گے اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی بڑے بلند درجے عنایت فرمائے گا ‘۔
قرآن کریم نے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:97] میں فرمایا ہے کہ ’ جو مرد و عورت ایماندار ہو کر نیک عمل بھی کرتا رہے، اسے ہم پاکیزہ زندگی سے زندہ رکھیں گے ‘۔
صحیح حدیث میں بھی ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ { اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں تو جو کچھ بھی خرچ کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے پائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تو اپنی بیوی کے منہ میں دے اس کا بھی۔ فضل والوں کو اللہ تعالیٰ فضل دے گا } }۔ [صحیح بخاری:2742]
یعنی گناہ تو برابر لکھا جاتا ہے اور نیکی دس گناہ لکھی جاتی ہے پھر اگر گناہ کی سزا دنیا میں ہی ہوگئی تو نیکیاں جوں کی توں باقی رہیں۔ اور اگر یہاں اس کی سزا نہ ملی تو زیادہ سے زیادہ ایک نیکی اس کے مقابل جا کر بھی نو نیکیاں بچ رہیں۔ پھر جس کی اکائیاں دھائیوں پر غالب آ جائیں وہ تو واقعی خود ہی بد اور برا ہے۔
پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے جو اللہ کے احکام کی روگردانی کر لیں اور رسولوں کی نہ مانیں کہ ایسے لوگوں کو ضرور ضرور قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔ تم سب کو لوٹ کر مالک ہی کے پاس جانا ہے، اسی کے سامنے جمع ہونا ہے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے، اپنے دوستوں سے احسان اپنے دشمنوں سے انتقام، مخلوق کی نئی پیدائش، سب اس کے قبضے میں ہے۔ پس پہلے رغبت دلائی اور اب ڈرایا۔
قرآن کریم نے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [16-النحل:97] میں فرمایا ہے کہ ’ جو مرد و عورت ایماندار ہو کر نیک عمل بھی کرتا رہے، اسے ہم پاکیزہ زندگی سے زندہ رکھیں گے ‘۔
صحیح حدیث میں بھی ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ { اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں تو جو کچھ بھی خرچ کرے گا اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے پائے گا، یہاں تک کہ جو لقمہ تو اپنی بیوی کے منہ میں دے اس کا بھی۔ فضل والوں کو اللہ تعالیٰ فضل دے گا } }۔ [صحیح بخاری:2742]
یعنی گناہ تو برابر لکھا جاتا ہے اور نیکی دس گناہ لکھی جاتی ہے پھر اگر گناہ کی سزا دنیا میں ہی ہوگئی تو نیکیاں جوں کی توں باقی رہیں۔ اور اگر یہاں اس کی سزا نہ ملی تو زیادہ سے زیادہ ایک نیکی اس کے مقابل جا کر بھی نو نیکیاں بچ رہیں۔ پھر جس کی اکائیاں دھائیوں پر غالب آ جائیں وہ تو واقعی خود ہی بد اور برا ہے۔
پھر انہیں دھمکایا جاتا ہے جو اللہ کے احکام کی روگردانی کر لیں اور رسولوں کی نہ مانیں کہ ایسے لوگوں کو ضرور ضرور قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا۔ تم سب کو لوٹ کر مالک ہی کے پاس جانا ہے، اسی کے سامنے جمع ہونا ہے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے، اپنے دوستوں سے احسان اپنے دشمنوں سے انتقام، مخلوق کی نئی پیدائش، سب اس کے قبضے میں ہے۔ پس پہلے رغبت دلائی اور اب ڈرایا۔