ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 122

وَ انۡتَظِرُوۡا ۚ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾
اور انتظار کرو، یقینا ہم (بھی) انتظار کرنے والے ہیں۔ En
اور (نتیجہٴ اعمال کا) تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں
En
اور تم بھی انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 122){وَ انْتَظِرُوْا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ: } یعنی تم بھی اللہ کے حکم کی راہ دیکھتے رہو ہم بھی راہ دیکھ رہے ہیں، یا تم ہمارے انجام کی راہ دیکھتے رہو، ہم تمھارے انجام کی راہ دیکھ رہے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

122۔ 1 یعنی عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ حسن انجام کس کے حصے میں آتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہونگے۔ چناچہ یہ وعدہ جلد ہی پورا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا اور پورہ جزیرہ عرب اسلام کے زیر نگین آگیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

122۔ اور تم بھی انتظار کرو، ہم بھی انتظار [133] کرتے ہیں
[133] لہٰذا آپ پورے عزم و استقلال کے ساتھ وحی الٰہی کی پیروی کرتے جائیے اور اپنے سرکش اور ہٹ دھرم مخالفوں سے صاف کہہ دیجئے کہ تم اپنے طریقہ پر کام کرتے جاؤ ہم اپنے ہی طریقہ پر عمل پیرا رہیں گے اور اللہ ہمارے اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی اور جو فریق جیسے انجام کا اہل ہو گا۔ اللہ ویسے ہی انجام سے دوچار کرے گا کیونکہ تمام تر مخلوقات اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا و جزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
باطل دوئی پرست ہے حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق باطل نہ قبول کر

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
بطور دھمکانے ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے ان کافروں سے کہہ دو کہ اچھا تم اپنے طریقے سے نہیں ہٹتے تو نہ ہٹو ہم بھی اپنے طریقے پر کار بند ہیں۔ تم منظر رہو کہ آخر انجام کیا ہوتا ہے ہم بھی اسی انجام کی راہ دیکھتے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
دنیا نے ان کافروں کا انجام دیکھ لیا ان مسلمانوں کا بھی جو اللہ کے فضل و کرم سے دنیا پر چھا گئے۔ مخالفین پر کامیابی کے ساتھ غلبہ حاصل کر لیا دنیا کو مٹھی میں لے لیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔