وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیۡلِ ؕ اِنَّ الۡحَسَنٰتِ یُذۡہِبۡنَ السَّیِّاٰتِ ؕ ذٰلِکَ ذِکۡرٰی لِلذّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۱۴﴾ۚ
اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔ یہ یاد کرنے والوں کے لیے یاد دہانی ہے۔
En
اور دن کے دونوں سروں (یعنی صبح اور شام کے اوقات میں) اور رات کی چند (پہلی) ساعات میں نماز پڑھا کرو۔ کچھ شک نہیں کہ نیکیاں گناہوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں
En
دن کے دونوں سروں میں نماز برپا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 114) ➊ اس آیت اور اس کے بعد والی آیات میں استقامت کا اور طغیانی اور ظالموں کی طرف میلان سے اجتناب کا طریقہ بتایا ہے، وہ ہے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق، جو نماز سے حاصل ہوتا ہے اور صبر کرنا اور برائی اور فساد فی الارض سے منع کرتے رہنا۔
➋ {وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ:} اقامت کا معنی سیدھا کرنا، مراد نماز کو اس کے اوقات پر سنت کے مطابق پورے ارکان اور خشوع و اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُوْنِيْ أُصَلِّيْ] [بخاری، الأذان، باب الأذان للمسافرین إذا کانوا…: ۶۳۱] ”نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں۔“ قرطبی نے فرمایا کہ مفسرین میں سے کسی کا اختلاف نہیں کہ یہاں اس سے مراد فرض نماز ہے۔
➌ ایمان کے بعد سب سے زیادہ زور اقامت ِصلاۃ پر دیا گیا ہے اور اسے کفر و ایمان کے درمیان فرق قرار دیا گیا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ دفعہ مسجد میں جا کر اللہ کے سامنے حاضری میں ارکانِ اسلام کا کچھ نہ کچھ حصہ آ جاتا ہے۔ کلمہ ٔ اسلام تشہد میں موجود ہے، پوری نماز کے دوران میں کھانے پینے سے بلکہ دنیا کے ہر کام سے پرہیز روزے کا عکس ہے، اپنے کاروبار کو چھوڑ کر آنا اس شخص کے بس کی بات نہیں جو زکوٰۃ نہ دے سکتا ہو اور قبلے کی طرف رخ حج کی یاد دلاتا ہے۔
➍ {طَرَفَيِ النَّهَارِ:} دن کے دو کنارے۔ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک نہار (دن) ہوتا ہے، اس میں تین نمازیں آجاتی ہیں۔ زوال سے پہلے والے کنارے میں فجر اور زوال کے بعد والے میں ظہر اور عصر۔ {” زُلَفًا “ ” زُلْفَةٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”غُرْفَةٌ “} کی جمع {”غُرَفٌ“} ہے، اس سے مراد دن کے آخری حصے کے قریب کے اوقات ہیں، کیونکہ {”اِزْلَافٌ“} کا معنی قرب ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ }» [الشعراء: ۹۰] ”اور جنت متقی لوگوں کے لیے قریب لائی جائے گی۔“ اور فرمایا: «{ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى }» [الزمر: ۳] ”ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔“ اس سے مراد مغرب اور عشاء ہیں، کیونکہ وہ دن کے قریب ہوتی ہیں۔ اس طرح اس آیت میں پانچوں نمازیں آ جاتی ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر ان آیات کا نزول معراج کے بعد ہوا ہو تو اجمالی طور پر ان میں پانچوں نمازیں آ جاتی ہیں، البتہ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ آیات معراج میں پانچ نمازیں فرض ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہوں اور ان آیات سے دن کے دونوں کنارے سورج نکلنے سے پہلے (فجر) اور غروب ہونے سے پہلے (عصر) کی نماز ہی فرض ہو اور رات کی گھڑیوں سے مراد تہجد ہو جو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور تمام امت پر فرض تھی، پھر اس کی فرضیت منسوخ ہو گئی، البتہ اس کی تاکید اور فضیلت باقی رہی۔ اصل یہ ہے کہ تفصیلی طور پر نماز پنج گانہ کے اوقات کی تعیین اور تفصیل حدیث ہی سے ملتی ہے اور قرآن مجید پر عمل حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ منکرین حدیث میں سے پہلے کچھ لوگ قرآن میں تین نمازیں مانتے تھے، پھر دوپر آ گئے، بعد والے ایک پر آ گئے اور پرویز نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اب تک متواتر احادیث اور متواتر عمل کے ساتھ آنے والے نماز کے طریقے کا سرے ہی سے انکار کر دیا اور حقیقت یہی ہے کہ صرف قرآن سے نہ نماز کے مکمل اوقات معلوم ہو سکتے ہیں، نہ اس کے ارکان، نہ ارکان کی ترتیب، نہ رکعات کی تعداد اور نہ شروع یا ختم کرنے کا طریقہ، غرض حدیث ترک کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن پر عمل سے جان چھوٹ جائے اور یہی ان بد نصیب لوگوں کی دلی خواہش ہے جو ان شاء اللہ کبھی پوری نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔
➎ { اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ:} پچھلے جملے میں اللہ کے حکم پر استقامت میں اور ظالموں کی طرف میلان سے محفوظ رہنے میں مدد کرنے والی سب سے مضبوط چیز بتائی تھی کہ فلاں فلاں وقت میں نماز قائم کرو، اب اس کی وجہ بتائی۔ عموماً {” اِنَّ “} تعلیل یعنی وجہ بتانے کے لیے آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نیکی گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا] [مسند أحمد: 153/5، ح: ۲۱۴۱۲۔ ترمذی: ۱۹۸۷۔ صحیح الجامع: ۹۷، وحسنہ الألبانی] ”برائی کے بعد ساتھ ہی نیکی کر تو یہ اسے مٹا دے گی۔“ نماز بھی ایک ایسی ہی نیکی ہے جس سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی اجنبی عورت کا بوسہ لیا، پھر (ازراہ ندامت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سوال کرنے لگا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، «{ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ }» تو اس آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ صرف میرے لیے ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لِجَمِيْعِ أُمَّتِيْ كُلِّهِمْ] ”یہ میری ساری امت کے لیے ہے۔“ [بخاری، مواقیت الصلٰوۃ، باب الصلاۃ کفارۃ: ۵۲۶]
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو تین طرح: (1) جو نیکیاں کرے اس کی برائیاں معاف ہوں۔ (2) اور جو نیکیاں پکڑے اس سے خو برائی کی چھوٹے۔ (3) اور جس ملک میں نیکیوں کا رواج ہو وہاں ہدایت آئے اور گمراہی مٹے، لیکن تینوں جگہ وزن غالب چاہیے، جتنا میل اتنا صابن۔“ (موضح) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُوْلُ ذٰلِكَ يُبْقِيْ مِنْ دَرَنِهِ؟ قَالُوْا لاَ يُبْقِيْ مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّٰهُ بِهِ الْخَطَايَا] [بخاری، مواقیت الصلٰوۃ، باب الصلوات الخمس کفارۃ: ۵۲۸] ”اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ دفعہ غسل کرے تو تمھارا کیا کہنا ہے کہ یہ اس کی میل میں سے کچھ باقی چھوڑے گا؟“ انھوں نے کہا: ”وہ اس کی میل میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑے گا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“
➋ {وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ:} اقامت کا معنی سیدھا کرنا، مراد نماز کو اس کے اوقات پر سنت کے مطابق پورے ارکان اور خشوع و اخلاص کے ساتھ ادا کرنا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [صَلُّوْا كَمَا رَأَيْتُمُوْنِيْ أُصَلِّيْ] [بخاری، الأذان، باب الأذان للمسافرین إذا کانوا…: ۶۳۱] ”نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نماز پڑھتا ہوں۔“ قرطبی نے فرمایا کہ مفسرین میں سے کسی کا اختلاف نہیں کہ یہاں اس سے مراد فرض نماز ہے۔
➌ ایمان کے بعد سب سے زیادہ زور اقامت ِصلاۃ پر دیا گیا ہے اور اسے کفر و ایمان کے درمیان فرق قرار دیا گیا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ دفعہ مسجد میں جا کر اللہ کے سامنے حاضری میں ارکانِ اسلام کا کچھ نہ کچھ حصہ آ جاتا ہے۔ کلمہ ٔ اسلام تشہد میں موجود ہے، پوری نماز کے دوران میں کھانے پینے سے بلکہ دنیا کے ہر کام سے پرہیز روزے کا عکس ہے، اپنے کاروبار کو چھوڑ کر آنا اس شخص کے بس کی بات نہیں جو زکوٰۃ نہ دے سکتا ہو اور قبلے کی طرف رخ حج کی یاد دلاتا ہے۔
➍ {طَرَفَيِ النَّهَارِ:} دن کے دو کنارے۔ طلوع فجر سے غروب آفتاب تک نہار (دن) ہوتا ہے، اس میں تین نمازیں آجاتی ہیں۔ زوال سے پہلے والے کنارے میں فجر اور زوال کے بعد والے میں ظہر اور عصر۔ {” زُلَفًا “ ” زُلْفَةٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”غُرْفَةٌ “} کی جمع {”غُرَفٌ“} ہے، اس سے مراد دن کے آخری حصے کے قریب کے اوقات ہیں، کیونکہ {”اِزْلَافٌ“} کا معنی قرب ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ }» [الشعراء: ۹۰] ”اور جنت متقی لوگوں کے لیے قریب لائی جائے گی۔“ اور فرمایا: «{ مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى }» [الزمر: ۳] ”ہم ان کی عبادت نہیں کرتے مگر اس لیے کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔“ اس سے مراد مغرب اور عشاء ہیں، کیونکہ وہ دن کے قریب ہوتی ہیں۔ اس طرح اس آیت میں پانچوں نمازیں آ جاتی ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ اگر ان آیات کا نزول معراج کے بعد ہوا ہو تو اجمالی طور پر ان میں پانچوں نمازیں آ جاتی ہیں، البتہ چونکہ یہ سورت مکی ہے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ یہ آیات معراج میں پانچ نمازیں فرض ہونے سے پہلے نازل ہوئی ہوں اور ان آیات سے دن کے دونوں کنارے سورج نکلنے سے پہلے (فجر) اور غروب ہونے سے پہلے (عصر) کی نماز ہی فرض ہو اور رات کی گھڑیوں سے مراد تہجد ہو جو پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور تمام امت پر فرض تھی، پھر اس کی فرضیت منسوخ ہو گئی، البتہ اس کی تاکید اور فضیلت باقی رہی۔ اصل یہ ہے کہ تفصیلی طور پر نماز پنج گانہ کے اوقات کی تعیین اور تفصیل حدیث ہی سے ملتی ہے اور قرآن مجید پر عمل حدیث کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ منکرین حدیث میں سے پہلے کچھ لوگ قرآن میں تین نمازیں مانتے تھے، پھر دوپر آ گئے، بعد والے ایک پر آ گئے اور پرویز نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اب تک متواتر احادیث اور متواتر عمل کے ساتھ آنے والے نماز کے طریقے کا سرے ہی سے انکار کر دیا اور حقیقت یہی ہے کہ صرف قرآن سے نہ نماز کے مکمل اوقات معلوم ہو سکتے ہیں، نہ اس کے ارکان، نہ ارکان کی ترتیب، نہ رکعات کی تعداد اور نہ شروع یا ختم کرنے کا طریقہ، غرض حدیث ترک کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن پر عمل سے جان چھوٹ جائے اور یہی ان بد نصیب لوگوں کی دلی خواہش ہے جو ان شاء اللہ کبھی پوری نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت دے۔
➎ { اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ:} پچھلے جملے میں اللہ کے حکم پر استقامت میں اور ظالموں کی طرف میلان سے محفوظ رہنے میں مدد کرنے والی سب سے مضبوط چیز بتائی تھی کہ فلاں فلاں وقت میں نماز قائم کرو، اب اس کی وجہ بتائی۔ عموماً {” اِنَّ “} تعلیل یعنی وجہ بتانے کے لیے آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نیکی گناہ کو مٹا دیتی ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا] [مسند أحمد: 153/5، ح: ۲۱۴۱۲۔ ترمذی: ۱۹۸۷۔ صحیح الجامع: ۹۷، وحسنہ الألبانی] ”برائی کے بعد ساتھ ہی نیکی کر تو یہ اسے مٹا دے گی۔“ نماز بھی ایک ایسی ہی نیکی ہے جس سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی اجنبی عورت کا بوسہ لیا، پھر (ازراہ ندامت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر سوال کرنے لگا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، «{ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ }» تو اس آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ صرف میرے لیے ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لِجَمِيْعِ أُمَّتِيْ كُلِّهِمْ] ”یہ میری ساری امت کے لیے ہے۔“ [بخاری، مواقیت الصلٰوۃ، باب الصلاۃ کفارۃ: ۵۲۶]
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو تین طرح: (1) جو نیکیاں کرے اس کی برائیاں معاف ہوں۔ (2) اور جو نیکیاں پکڑے اس سے خو برائی کی چھوٹے۔ (3) اور جس ملک میں نیکیوں کا رواج ہو وہاں ہدایت آئے اور گمراہی مٹے، لیکن تینوں جگہ وزن غالب چاہیے، جتنا میل اتنا صابن۔“ (موضح) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ فِيْهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُوْلُ ذٰلِكَ يُبْقِيْ مِنْ دَرَنِهِ؟ قَالُوْا لاَ يُبْقِيْ مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ فَذٰلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ يَمْحُو اللّٰهُ بِهِ الْخَطَايَا] [بخاری، مواقیت الصلٰوۃ، باب الصلوات الخمس کفارۃ: ۵۲۸] ”اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ دفعہ غسل کرے تو تمھارا کیا کہنا ہے کہ یہ اس کی میل میں سے کچھ باقی چھوڑے گا؟“ انھوں نے کہا: ”وہ اس کی میل میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑے گا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
114۔ 1 دونوں سروں سے مراد بعض نے صبح اور مغرب، اور بعض نے عشاء اور مغرب دونوں کا وقت مراد لیا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، جس میں پانچ نمازیں فرض کی گئیں۔ کیونکہ اس سے قبل صرف دو ہی نمازیں ضروری تھیں، ایک طلوع شمس سے قبل اور ایک غروب سے قبل اور رات کے پچھلے پہر میں نماز تہجد۔ پھر نماز تہجد امت سے معاف کردی گئی، پھر اس کا وجوب بقول بعض آپ سے بھی ساقط کردیا گیا۔ (ابن کثیر) واللہ اعلم۔ 114۔ 2 جس طرح کہ احادیث میں بھی اسے صراحت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔ مثلا پانچ نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک، ان کے مابین ہونے والے گناہوں کو دور کرنے والے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے، ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ' بتلاؤ! اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر بڑی نہر ہو، وہ روزانہ اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کے بعد اس کے جسم پر میل کچیل باقی رہے گا؟ صحابہ نے عرض کیا ' نہیں ' آپ نے فرمایا ' اسی طرح پانچ نمازیں ہیں، ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہوں اور خطاؤں کو مٹا دیتا ہے '۔ (مسلم بخاری)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
114۔ نیز آپ دن کے دونوں طرفوں کے اوقات [126] میں اور کچھ رات گئے نماز قائم کیجئے۔ بلا شبہ نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ ایک یاددہانی ہے [127] ان لوگوں کے لیے جو اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں
[126] نیکیوں سے برائیوں کا دور ہونا:۔
دن کے اطراف سے مراد صبح اور مغرب کی نماز ہے اور کچھ رات گئے سے عشاء کی نماز مراد ہے۔ گویا اس آیت سے یہ تین نمازیں ثابت ہوئیں اور نماز اگر مکمل آداب کے ساتھ ادا کی جائے تو انسان کے چھوٹے چھوٹے گناہ از خود معاف ہو جاتے ہیں جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے:
1۔ سیدنا ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک (انصاری) عورت کا بوسہ لے لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اپنا گناہ بیان کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (یہ آیت سننے کے بعد) اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا یہ امر (نماز سے صغیرہ گناہوں کا معاف ہو جانا) خاص میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ میری امت سے جو بھی ایسا کرے“ [بخاري، كتاب التفسير مسلم، كتاب التوبه، باب ﴿اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ﴾] میں یہ واقعہ ذرا تفصیل سے ہے۔
2۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی آزمائش اس کی بیوی، اس کے مال، اس کی اولاد اور اس کے پڑوسی میں ہوتی ہے اور نماز، روزہ، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا کفارہ بن جاتے ہیں“ [بخاري، كتاب مواقيت الصلوة۔ باب الصلوة كفارة]
3۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جبکہ وہ بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا رہے“ [مسلم، کتاب الطھارۃ، باب فضل الوضوء والصلوۃ عقبہ]
4۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار نہا لیا کرے تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گا؟“ لوگوں نے جواب دیا، ”نہیں ذرا بھی نہیں رہے گا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے اللہ ان کے ذریعہ گناہ مٹا دیتا ہے“ [بخاری، کتاب مواقیت الصلوۃ باب فضل الصلوۃ لوقتھا]
1۔ سیدنا ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے ایک (انصاری) عورت کا بوسہ لے لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اپنا گناہ بیان کیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی (یہ آیت سننے کے بعد) اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا یہ امر (نماز سے صغیرہ گناہوں کا معاف ہو جانا) خاص میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ میری امت سے جو بھی ایسا کرے“ [بخاري، كتاب التفسير مسلم، كتاب التوبه، باب ﴿اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ﴾] میں یہ واقعہ ذرا تفصیل سے ہے۔
2۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ علیہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی آزمائش اس کی بیوی، اس کے مال، اس کی اولاد اور اس کے پڑوسی میں ہوتی ہے اور نماز، روزہ، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا کفارہ بن جاتے ہیں“ [بخاري، كتاب مواقيت الصلوة۔ باب الصلوة كفارة]
3۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچوں نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں جبکہ وہ بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا رہے“ [مسلم، کتاب الطھارۃ، باب فضل الوضوء والصلوۃ عقبہ]
4۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا بتاؤ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ بار نہا لیا کرے تو کیا اس کے جسم پر کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گا؟“ لوگوں نے جواب دیا، ”نہیں ذرا بھی نہیں رہے گا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے اللہ ان کے ذریعہ گناہ مٹا دیتا ہے“ [بخاری، کتاب مواقیت الصلوۃ باب فضل الصلوۃ لوقتھا]
نیکیوں سے برائیوں کے دور ہونے کی تین صورتیں:۔
اور نیکیوں سے برائیاں دور ہونے کی تین صورتیں ہیں ایک یہ کہ جو شخص نیکیاں بکثرت کرے اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ دوسری یہ کہ اس سے برائی کی عادت چھوٹ جاتی ہے اور تیسری یہ کہ جس معاشرہ میں نیکی کے کام بکثرت ہو رہے ہوں برائیاں از خود وہاں سے رخصت ہونے لگتی ہیں اور سر نہیں اٹھا سکتیں۔
[127] یعنی تمہیں نیک بنانے اور برائیوں سے بچانے کا بہترین ذریعہ نماز ہے جس سے اللہ کی یاد تازہ ہوتی رہتی ہے اسی کی طاقت سے تم بدی کی انفرادی اور اجتماعی قوتوں کا مقابلہ کر سکتے ہو۔
[127] یعنی تمہیں نیک بنانے اور برائیوں سے بچانے کا بہترین ذریعہ نماز ہے جس سے اللہ کی یاد تازہ ہوتی رہتی ہے اسی کی طاقت سے تم بدی کی انفرادی اور اجتماعی قوتوں کا مقابلہ کر سکتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اوقات نماز کی نشاندہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کہتے ہیں ”دن کے دونوں سرے سے مراد صبح کی اور مغرب کی نماز ہے۔“ قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا قول ہے کہ ”پہلے سرے سے مراد صبح کی نماز اور دوسرے سے مراد ظہر اور عصر کی نماز رات کی گھڑیوں سے مراد عشاء کی نماز۔“ بقول مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ ”مغرب و عشاء کی۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18648:مرسل] نیکیوں کو کرنا گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے۔
سنن میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس مسلمان سے کوئی گناہ ہو جائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1521، قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا پھر فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے، جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام اگلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:159]
مسند میں ہے کہ { آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر فرمایا ”میرے اس وضو کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز ادا کرے، اس کے صبح سے لے کر اب تک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، پھر عصر کی نماز پڑھے، تو ظہر سے عصر تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، پھر مغرب کی نماز ادا کرے، تو عصر سے لے کر مغرب تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ پھر عشاء کی نماز سے مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ سوتا ہے لوٹ پوٹ ہوتا ہے پھر صبح اُٹھ کر نماز فجر پڑھ لینے سے عشاء سے لے کر صبح کی نماز تک کے سب گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ یہی ہیں وہ بھلائیاں جو برائیوں کو دور کر دیتی ہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:71/1:صحیح]
سنن میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جس مسلمان سے کوئی گناہ ہو جائے پھر وہ وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھ لے، تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1521، قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ایک مرتبہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کیا پھر فرمایا اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے دیکھا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے، جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اس کے تمام اگلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:159]
مسند میں ہے کہ { آپ رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا، وضو کیا، پھر فرمایا ”میرے اس وضو کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کیا کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میرے اس وضو جیسا وضو کرے اور کھڑا ہو کر ظہر کی نماز ادا کرے، اس کے صبح سے لے کر اب تک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں، پھر عصر کی نماز پڑھے، تو ظہر سے عصر تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں، پھر مغرب کی نماز ادا کرے، تو عصر سے لے کر مغرب تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ پھر عشاء کی نماز سے مغرب سے عشاء تک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ سوتا ہے لوٹ پوٹ ہوتا ہے پھر صبح اُٹھ کر نماز فجر پڑھ لینے سے عشاء سے لے کر صبح کی نماز تک کے سب گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ یہی ہیں وہ بھلائیاں جو برائیوں کو دور کر دیتی ہیں“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:71/1:صحیح]
صحیح حدیث میں { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بتلاؤ تو اگر تم میں سے کسی کے مکان کے دروازے پر ہی نہر جاری ہو اور وہ اس میں ہر دن پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے جسم پر ذرا سی بھی میل باقی رہ جائے گا؟“، لوگوں کے نے کہا ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس یہی مثال ہے۔ پانچ نمازوں کی کہ ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خطائیں اور گناہ معاف فرما دیتا ہے“ }۔ [صحیح بخاری:528]
صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”پانچوں نمازیں اور جمعہ جمعہ تک اور رمضان رمضان تک کا کفارہ ہے جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:233]
مسند احمد میں ہے { ہر نماز اپنے سے پہلے کی خطاؤں کو مٹا دیتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:413/5:حسن]
بخاری میں ہے کہ { کسی شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس گناہ کی ندامت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیت اتری اس نے کہا کیا میرے لیے ہی یہ مخصوص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے یہی حکم ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:526]
ایک اور روایت میں ہے کہ { اس نے کہا ”میں نے باغ میں اس عورت سے سب کچھ کیا، ہاں جماع نہیں کیا اب میں حاضر ہوں جو سزا میرے لیے آپ تجویز فرمائیں میں برداشت کر لوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چلا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی اگر یہ بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر اسی شخص کی طرف دیکھتے رہے پھر فرمایا: ”اسے واپس بلا لاؤ۔“ جب وہ آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا یہ اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2763]
صحیح مسلم شریف میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”پانچوں نمازیں اور جمعہ جمعہ تک اور رمضان رمضان تک کا کفارہ ہے جب تک کہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:233]
مسند احمد میں ہے { ہر نماز اپنے سے پہلے کی خطاؤں کو مٹا دیتی ہے }۔ ۱؎ [مسند احمد:413/5:حسن]
بخاری میں ہے کہ { کسی شخص نے ایک عورت کا بوسہ لے لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس گناہ کی ندامت ظاہر کی۔ اس پر یہ آیت اتری اس نے کہا کیا میرے لیے ہی یہ مخصوص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”نہیں بلکہ میری ساری امت کے لیے یہی حکم ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:526]
ایک اور روایت میں ہے کہ { اس نے کہا ”میں نے باغ میں اس عورت سے سب کچھ کیا، ہاں جماع نہیں کیا اب میں حاضر ہوں جو سزا میرے لیے آپ تجویز فرمائیں میں برداشت کر لوں گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چلا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ نے اس کی پردہ پوشی کی تھی اگر یہ بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برابر اسی شخص کی طرف دیکھتے رہے پھر فرمایا: ”اسے واپس بلا لاؤ۔“ جب وہ آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ اس پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا یہ اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2763]
مسند احمد میں ہے، { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ نے جس طرح تم میں روزیاں تقسیم فرمائیں ہیں، اخلاق بھی تقسیم فرمائے ہیں اللہ تعالیٰ دنیا تو اسے بھی دیتا ہے جس سے خوش ہو اور اسے بھی جس سے غضبناک ہو۔ لیکن دین صرف انہیں کو دیتا ہے جن سے اسے محبت ہو۔ پس جسے دین مل جائے یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ بندہ مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا دل اور اس کی زبان مسلمان نہ ہو جائے۔ اور بندہ ایماندار نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے پڑوسی اس کی ایذاؤں سے بے فکر نہ ہو جائیں }۔ لوگوں نے پوچھا ایذائیں کیا کیا؟ فرمایا: { دھوکہ اور ظلم۔ سنو جو شخص مال حرام کمائے پھر اس میں سے خرچ کرے اللہ اسے برکت سے محروم رکھتا ہے۔ اگر وہ اس میں سے صدقہ کرے تو قبول نہیں ہوتا۔ اور جتنا کچھ اپنے بعد باقی چھوڑ مرے وہ سب اس کے لیے آگ دوزخ کا توشہ بنتا ہے۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو بھلائی سے مٹاتا ہے } }۔ ۱؎ [مسند احمد:387/1:صحیح موقوفا ضعیف مرفوعا]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ ”ایک عورت سودا لینے کے لیے آتی تھی افسوس کہ میں اسے کوٹھڑی میں لے جا کر اس سے بجز جماع کے اور ہر طرح لطف اندوز ہوا۔ اب جو اللہ کا حکم ہو وہ مجھ پر جاری کیا جائے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”شاید اس کا خاوند غیر حاضر ہوگا۔“ اس نے کہا جی ہاں یہ بات تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم جاؤ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھو۔“
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی یہی سوال کیا پس آپ رضی اللہ عنہ نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح فرمایا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید اس کا خاوند اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہوگا؟ } پس قرآن کریم کی یہ آیت اتری تو کہنے لگا ”کیا یہ خاص میرے لیے ہی ہے“؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا ”نہیں اس طرح صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ سب لوگوں کے لیے عام ہے۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عمر سچے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:245/1:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ ”ایک عورت سودا لینے کے لیے آتی تھی افسوس کہ میں اسے کوٹھڑی میں لے جا کر اس سے بجز جماع کے اور ہر طرح لطف اندوز ہوا۔ اب جو اللہ کا حکم ہو وہ مجھ پر جاری کیا جائے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”شاید اس کا خاوند غیر حاضر ہوگا۔“ اس نے کہا جی ہاں یہ بات تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تم جاؤ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھو۔“
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی یہی سوال کیا پس آپ رضی اللہ عنہ نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح فرمایا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی حالت بیان کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { شاید اس کا خاوند اللہ کی راہ میں گیا ہوا ہوگا؟ } پس قرآن کریم کی یہ آیت اتری تو کہنے لگا ”کیا یہ خاص میرے لیے ہی ہے“؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا ”نہیں اس طرح صرف تیری ہی آنکھیں ٹھنڈی نہیں ہو سکتیں بلکہ یہ سب لوگوں کے لیے عام ہے۔“ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { عمر سچے ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:245/1:ضعیف]
ابن جریر میں ہے کہ { وہ عورت مجھ سے ایک درہم کی کھجوریں خریدنے آئی تھی تو میں نے اسے کہا کے اندر کوٹھڑی میں اس سے بہت اچھی کھجوریں ہیں وہ اندر گئی میں نے بھی اندر جا کر اسے چوم لیا۔ پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اللہ سے ڈر اور اپنے نفس پر پردہ ڈالے رہ۔“ لیکن ابو الیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں مجھ سے صبر نہ ہو سکا۔ میں نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے ایک غازی مرد کی اس غیر حاضری میں ایسی خیانت کی۔ میں نے تو یہ سن کر اپنے آپ کو جہنمی سمجھ لیا اور میرے دل میں خیال آنے لگا کہ کاش کہ میرا اسلام اس کے بعد کا ہوتا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا سی دیر اپنی گردن جھکا لی اسی وقت جبرائیل یہ آیت لے کر اترے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3115،قال الشيخ الألباني:حسن]
ابن جریر میں ہے کہ { ایک شخص نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی اللہ کی مقرر کردہ حد مجھ پر جاری کیجئے۔ ایک دو دفعہ اس نے یہ کہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا۔ پھر جب نماز کھڑی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھی طرح وضو کیا؟ اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔“ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تو تو ایسا ہی ہے جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ خبردار اب کوئی ایسی حرکت نہ کرنا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18694:]
ابن جریر میں ہے کہ { ایک شخص نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی اللہ کی مقرر کردہ حد مجھ پر جاری کیجئے۔ ایک دو دفعہ اس نے یہ کہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا۔ پھر جب نماز کھڑی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو دریافت فرمایا کہ وہ شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اچھی طرح وضو کیا؟ اور ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔“ اس نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس تو تو ایسا ہی ہے جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ خبردار اب کوئی ایسی حرکت نہ کرنا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:18694:]
ابوعثمان رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے ایک درخت کی خشک شاخ پکڑ کے اسے جھنجھوڑا تو تمام خشک پتے جھڑ گئے پھر فرمایا ”ابوعثمان تم پوچھتے نہیں ہو کہ میں نے یہ کیوں کیا؟“ میں نے کہا ہاں جناب ارشاد ہو، فرمایا ”اسی طرح میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، پھر فرمایا: جب بندہ مسلمان اچھی طرح وضو کر کے پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی چھڑ جاتے ہیں جیسے اس خشک شاخ کے پتے جھڑ گئے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ ۱؎ [مسند احمد:437/5:حسن]
مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”برائی اگر کوئی ہو جائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کر لو کہ اسے مٹا دے۔ اور لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملا کرو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:228/5:حسن]
اور حدیث میں ہے { جب تجھ سے کوئی گناہ ہو جائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کر لیا کر تاکہ یہ اسے مٹا دے میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھنا بھی نیکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو بہترین اور افضل نیکی ہے“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:361/3:حسن]
ابو یعلیٰ میں ہے { دن رات کے جس وقت میں کوئی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھے اس کے نامہ اعمال میں سے برائیاں مٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی جگہ ویسی ہی نیکیاں ہو جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3611:ضعیف] اس کے راوی عثمان میں ضعف ہے۔
مسند بزار میں ہے { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں نے کوئی خواہش ایسی نہیں چھوڑی جسے پوری نہ کی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اللہ کے ایک ہونے کی اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس یہ ان سب پر غالب رہے گی }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3433/6:صحیح]
مسند میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”برائی اگر کوئی ہو جائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کر لو کہ اسے مٹا دے۔ اور لوگوں سے خوش اخلاقی سے ملا کرو“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:228/5:حسن]
اور حدیث میں ہے { جب تجھ سے کوئی گناہ ہو جائے تو اس کے پیچھے ہی نیکی کر لیا کر تاکہ یہ اسے مٹا دے میں نے کہا: یا رسول اللہ! کیا «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھنا بھی نیکی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو بہترین اور افضل نیکی ہے“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:361/3:حسن]
ابو یعلیٰ میں ہے { دن رات کے جس وقت میں کوئی «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» پڑھے اس کے نامہ اعمال میں سے برائیاں مٹ جاتی ہیں یہاں تک کہ ان کی جگہ ویسی ہی نیکیاں ہو جاتی ہیں }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3611:ضعیف] اس کے راوی عثمان میں ضعف ہے۔
مسند بزار میں ہے { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میں نے کوئی خواہش ایسی نہیں چھوڑی جسے پوری نہ کی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو اللہ کے ایک ہونے کی اور میری رسالت کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بس یہ ان سب پر غالب رہے گی }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:3433/6:صحیح]