ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 113

وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۱۳﴾
اور ان لوگوں کی طرف مائل نہ ہونا جنھوں نے ظلم کیا، ورنہ تمھیں آگ آلپٹے گی اور تمھارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست نہیں ہوں گے، پھر تمھیں مدد نہ دی جائے گی۔ En
اور جو لوگ ظالم ہیں، ان کی طرف مائل نہ ہونا، نہیں تو تمہیں (دوزخ کی) آگ آلپٹے گی اور خدا کے سوا تمہارے اور دوست نہیں ہیں۔ اگر تم ظالموں کی طرف مائل ہوگئے تو پھر تم کو (کہیں سے) مدد نہ مل سکے گی
En
دیکھو ﻇالموں کی طرف ہرگز نہ جھکنا ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ لگ جائے گی اور اللہ کے سوا اور تمہارا مددگار نہ کھڑا ہو سکے گا اور نہ تم مدد دیئے جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 113) ➊ {وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا:رَكِنَ} (ن، ع، ف) مائل ہونا۔ (1) { الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا } اور {اَلظَّالِمِيْنَ} میں فرق ہے۔ { الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا } وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا، خواہ کبھی کبھار کیا ہو اور {اَلظَّالِمِيْنَ} ظلم کرنے والے، جن کی روش ہی یہ ہے۔ جب پہلی قسم کے لوگوں کی طرف مائل ہونے سے منع فرمایا تو دوسری قسم کی طرف مائل ہونے کا آپ خود اندازہ کر لیں۔ (2) جب ان کی طرف مائل ہونا منع ہے جنھوں نے ظلم کیا تو خود کسی پر ظلم کرنا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کس قدر قبیح ہو گا۔ حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [يَا عِبَادِيْ! إِنِّيْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِيْ وَ جَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلَا تَظَالَمُوْا] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۷، عن أبي ذر رضی اللہ عنہ] اے میرے بندو! میں نے کسی پر ظلم کرنا خود اپنے آپ پر حرام کر رکھا ہے اور اسے تمھارے درمیان بھی حرام کر دیا، سو تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اِتَّقُوْا الظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَّوْمَ الْقِيَامَةِ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۸، عن جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما] ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن کئی اندھیرے ہو گا۔ (3) ظلم میں شرک اور دوسرے تمام ظلم شامل ہیں، یعنی جو لوگ ظلم کی طرف مائل ہوں ان سے کوئی دوستی اور محبت نہ رکھو، چاہے وہ کافر ہوں یا نام کے مسلمان۔ (شوکانی) (4) ان کی طرف مائل ہونے میں ان کے ساتھ محبت، ان کے ساتھ مجلس آرائی، ان کے پاس بیٹھنا، انھیں ملنے کے لیے جانا، ان کے ظلم پر چپ رہنا، ان کے کاموں پر خوش ہونا، ان جیسا بننا، ان کا فیشن اختیار کرنا، ان کا ذکر عزت اور تعظیم کے ساتھ کرنا، سب کچھ شامل ہے۔ { رُكُوْنٌ } (مائل ہونے) کا کم از کم مرتبہ پاس رہ کر چپ رہنا اور آخری مرتبہ ظلم پر ان کی حوصلہ افزائی اور مدد ہے۔
➋ { فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ …: وَ لَا تَرْكَنُوْۤا } نہی کے جواب میں فاء نے { تَمَسَّ} مضارع کو نصب دیا ہے۔ اس آیت سے ظالم حکمرانوں، سرداروں اور چودھریوں سے ربط و تعلق کی ممانعت نکلتی ہے۔ ہاں ان کے شر سے بچنے کے لیے یا مصلحت عامہ یا دعوت دین یا دینی ضرورت کے تقاضے کے پیش نظر ان سے میل جول رکھے تو اس کی اجازت ہے، بشرطیکہ دل میں ان کے ظلم کی وجہ سے نفرت رکھے، جیسا کہ سورۂ آل عمران (۲۸) اور بعض احادیث میں آیا ہے۔ غرض ظلم کرنے والوں سے دلی محبت یا میلان کسی صورت جائز نہیں، البتہ مجبوری کی وجہ سے ان کے پاس جانا، نصیحت کرنا، ان کے ظلم پر مجبوراً خاموش رہنا یا دین کی مصلحت اور حق کی دعوت و تاکید کے لیے ربط و تعلق رکھنا الگ بات ہے۔
➌ {ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ:} اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حاکم اگر ظالم اور بدکار ہو تو اس کی اطاعت اسی وقت ہے جب وہ ظلم یا شریعت کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ اگر وہ شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت جائز نہیں، الا یہ کہ اس کے ضرر سے بچنے کے لیے بظاہر اطاعت کا اظہار کرے اور دل میں برا سمجھے، جیسا کہ اوپر سورۂ آل عمران کے حوالے سے گزرا۔ حاکم کی اطاعت اس وقت فرض ہے: (1) جب وہ مسلمان ہو۔ دیکھیے سورۂ نساء (۵۹)۔ (2) مسلمانوں میں اقامت ِصلوۃ جاری رکھے۔ دیکھیے مسلم (۱۸۵۵)۔ (3) اس سے کھلم کھلا کفر کا ظہور نہ ہو۔ دیکھیے بخاری (۷۰۵۶)۔ (4) اور وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔ دیکھیے بخاری (۷۱۴۴)۔ { وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ } سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ظالم حکمرانوں کی حمایت اور ان کی طرف میلان کا نتیجہ آخرت کے عذاب کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ولایت (دوستی و حمایت) اور اس کی نصرت(مدد) سے محرومی بھی ہے۔ آج یہ حقیقت ہر شخص اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

113۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ساتھ نرمی کرتے ہوئے ان سے مدد حاصل مت کرنا۔ اس سے ان کو یہ تأثر ملے گا کہ گویا تم ان کی دوسری باتوں کو بھی پسند کرتے ہو۔ اس طرح یہ تمہارا ایک بہت بڑا جرم بن جائے گا جو تمہیں بھی ان کے ساتھ، نار جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے۔ اس سے ظالم حکمرانوں کے ساتھ ربط وتعلق کی بھی ممانعت نکلتی ہے، اگر مصلحت عامہ یا دینی منافع متقاضی ہوں۔ ایسی صورت میں دل سے نفرت رکھتے ہوئے ان سے ربط وتعلق کی اجازت ہوگی۔ جیسا کہ بعض احادیث سے واضح ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

113۔ نہ ہی ان لوگوں کی طرف جھکنا [125] جنہوں نے ظلم کیا ورنہ تمہیں بھی (دوزخ کی) آگ آ لپٹے گی پھر تمہیں کوئی ایسا سرپرست نہ ملے گا جو اللہ سے تمہیں بچا سکے نہ ہی کہیں سے تمہیں مدد پہنچے گی
[125] کافروں سے سمجھوتہ یا دوستی کی ممانعت:۔
پہلی آیت میں ہدایات ایجابی قسم کی تھیں اور اس آیت میں سلبی قسم کی ہیں اور یہ بھی ایمان کا تقاضا ہیں یعنی اپنے مخالفوں اور اسلام دشمنوں سے دین کی باتوں میں کسی بات پر لچک پیدا نہ کرنا، نہ ان سے سمجھوتہ کیا جائے اور نہ ہی ان میں سے کسی کو دوست سمجھا یا بنایا جائے۔ اگر ان میں سے تم لوگوں نے کوئی کام بھی کیا تو وہ تمہیں بھی لے ڈوبیں گے اس صورت میں تم اللہ کی گرفت سے بچ نہ سکو گے اور نہ ہی اللہ کے سوا کوئی دوسری طاقت تمہاری کچھ مدد کر سکے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

استقامت کی ہدایت ٭٭
استقامت اور سیدھی راہ پر دوام، ہمیشگی اور ثابت قدمی کی ہدایت اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں کو کر رہا ہے۔ یہی سب سے بڑی چیز ہے۔ ساتھ ہی سرکشی سے روکا ہے کیونکہ یہی توبہ کرنے والی چیز ہے گو کسی مشرک ہی پر کی گئی ہو۔
پرودگار بندوں کے ہر عمل سے آگاہ ہے مداہنت اور دین کے کاموں میں سستی نہ کرو۔ شرک کی طرف نہ جھکو۔ مشرکین کے اعمال پر رضا مندی کا اظہار نہ کرو۔ ظالموں کی طرف نہ جھکو۔ ورنہ آگ تمہیں پکڑ لے گی۔ ظالموں کی طرف داری ان کے ظلم پر مدد ہے یہ ہرگز نہ کرو۔ اگر ایسا کیا تو کون ہے جو تم سے عذاب اللہ ہٹائے؟ اور کون ہے جو تمہیں اس سے بچائے۔