ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 106

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ شَقُوۡا فَفِی النَّارِ لَہُمۡ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّ شَہِیۡقٌ ﴿۱۰۶﴾ۙ
تو وہ جو بدبخت ہوئے سو وہ آگ میں ہوں گے، ان کے لیے اس میں گدھے کی طرح آواز کھینچنا اور نکالنا ہے۔ En
تو جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں (ڈال دیئے جائیں گے) اس میں ان کا چلانا اور دھاڑنا ہوگا
En
لیکن جو بدبخت ہوئے وه دوزخ میں ہوں گے وہاں چیخیں گے چلائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 106){فَاَمَّا الَّذِيْنَ شَقُوْا …: زَفِيْرٌ } اور { شَهِيْقٌ } دونوں گدھے کی آوازیں ہیں۔ { زَفِيْرٌ } اس کے شروع کی آواز اور { شَهِيْقٌ } اس کے آخر کی آواز، یعنی نہایت بری چیخنے چلانے کی آوازیں نکالیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

106۔ تو جو بد بخت ہیں وہ تو جہنم میں (داخل) ہوں گے اور [118] وہیں چیختے چلاتے رہا کریں گے
[118] اس جملہ کے دو مطلب ہیں ایک تو وہی ہے جو ترجمہ میں بیان کیا گیا ہے اور یہ مطلب قرآن کے دوسرے مقامات سے بھی ثابت ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جہنم کے بھڑکنے سے ایسی جگر خراش آوازیں پیدا ہوں گی جو ان بدبختوں کی مصیبت اور گھبراہٹ میں مزید اضافہ کرتی جائیں گی اور یہ مطلب بھی قرآن کے دوسرے مقامات سے ثابت ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عذاب یافتہ لوگوں کی چیخیں ٭٭
گدھے کے چیخنے میں جیسے زیر و بم ہوتا ہے ایسے ہی ان کی چیخیں ہوں گی۔ یہ یاد رہے کہ عرب کے محاوروں کے مطاق قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ وہ ہمیشگی کے محاورے کو اسی طرح بولا کرتے ہیں کہ یہ ہمیشگی والا ہے جب تک آسمان و زمین کو قیام ہے۔ یہ بھی ان کے محاورے میں ہے کہ یہ باقی رہے گا جب تک دن رات کا چکر بندھا ہوا ہے۔ پس ان الفاظ سے ہمیشگی مراد ہے نہ کہ قید۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس زمین و آسمان کے بعد دار آخرت میں ان کے سوا اور آسمان و زمین ہو پس یہاں مراد جنس ہے۔ چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر جنت کا آسمان و زمین ہے۔‏‏‏‏
اس کے بعد اللہ کی منشاء کا ذکر ہے جیسے «النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّـهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [6-الأنعام:128]‏‏‏‏ میں ہے۔ اس استثناء کے بارے میں بہت سے قول ہیں جنہیں جوزی نے زاد المیسر میں نقل کیا ہے۔ ابن جریر نے خالد بن معدان، ضحاک، قتادہ اور ابن سنان رحمہ اللہ علیہم کے اس قول کو پسند فرمایا ہے کہ موحد گنہگاروں کی طرف استثناء عائد ہے بعض سلف سے اس کی تفسیر میں بڑے ہی غریب اقوال وارد ہوئے ہیں۔ ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:635/3:]‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ ہی کو اس کا پورا علم ہے۔‏‏‏‏