ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 105

یَوۡمَ یَاۡتِ لَا تَکَلَّمُ نَفۡسٌ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ۚ فَمِنۡہُمۡ شَقِیٌّ وَّ سَعِیۡدٌ ﴿۱۰۵﴾
جس دن وہ (وقت) آئے گا، کوئی شخص اس کی اجازت کے سوا بات نہیں کرے گا، پھر ان میں سے کوئی بد بخت ہوگا اور کوئی خوش قسمت۔ En
جس روز وہ آجائے گا تو کوئی متنفس خدا کے حکم کے بغیر بول بھی نہیں سکے گا۔ پھر ان میں سے کچھ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
En
جس دن وه آجائے گی مجال نہ ہوگی کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بات بھی کر لے، سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 105) ➊ {يَوْمَ يَاْتِ: } یہاں چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس دن کا کچھ نقشہ بیان فرمایا ہے۔ { يَاْتِ } اصل میں { يَأْتِيْ } ہی ہے۔ زمخشری نے لکھا{ يَوْمَ يَاْتِ } کی طرح { لَا أَدْرِ} بھی کہہ دیتے ہیں۔ سیبویہ اور خلیل نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یاء کو حذف کرکے اس کی جگہ کسرہ پر اکتفا کرنا ہذیل کی لغت میں بہت ہے (یعنی دوسری لغات میں بھی ہے مگر کم ہے)۔ { يَاْتِ } کا فاعل وہی ہے جو اوپر گزرا { يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ ۔ يَوْمٌ } کا لفظ عربی میں وقت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے {التحرير والتنوير لابن عاشور} یعنی جس دن وہ وقت آئے گا، یا جس وقت وہ دن آئے گا۔ زمخشری نے ایک معنی یہ لکھا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ آئے گا، یعنی { يَاْتِ } کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا [الفجر: ۲۲] اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔
➋ { لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ:} یہاں سے نصرانیوں کی اور بعض مسلمانوں کی اس سفارش کا رد ہو گیا جو ان کے خیال میں کچھ ہستیوں کے اختیار میں ہے کہ وہ اللہ کے محبوب ہونے یا بڑے زبردست ہونے کی وجہ سے جسے چاہیں گے چھڑا لیں گے، حالانکہ وہاں اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کسی کو بات کرنے کی جرأت ہی نہیں ہو گی۔ دیکھیے سورۂ نبا (۳۸)۔
➌ {فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَّ سَعِيْدٌ: شَقِيٌّ } بروزن {فَعِيْلٌ} مبالغہ کے لیے ہے۔ قاموس میں ہے {اَلشَّقَا} کو کبھی {اَلشَّقَاءُ} بھی کہا جاتا ہے، سختی، تنگی۔ {شَقِيَ يَشْقٰي} (ع) یہ {رَضِيَ يَرْضٰي} کی طرح ہے، یعنی ناقص واوی ہے۔ زمخشری نے فرمایا: {اَلَّذِيْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ بِإِسَاءَتِهِ } یعنی وہ بدبخت جس کے لیے اس کی بدعملی کی وجہ سے آگ واجب ہو گئی۔ { سَعِيْدٌ } وہ خوش قسمت جس کے لیے اس کے نیک اعمال کی وجہ سے جنت واجب ہو گئی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 4 گفتگو نہ کرنے سے مراد، کسی کو اللہ تعالیٰ سے کسی طرح کی بات یا شفاعت کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ طویل حدیث شفاعت میں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اس دن انبیاء کے علاوہ کسی کو گفتگو کی ہمت نہ ہوگی اور انبیاء کی زبان پر بھی اس دن صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ! ہمیں بچا لے، ہمیں بچا لے '۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

105۔ جب یہ دن آجائے گا تو اللہ کے اذن کے بغیر کوئی شخص کلام [117] بھی نہ کر سکے گا۔ پھر ان لوگوں میں کچھ بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت
[117] اللہ کے ہاں سفارش کی کڑی شرائط:۔
اس آیت سے ان لوگوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو اپنے بزرگوں کی سفارش پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں ہمیں اولیاء کے تذکروں میں بکثرت ایسی حکایات ملتی ہیں کہ فلاں بزرگ اکڑ کر بیٹھ جائیں گے اور اپنے ایک ایک مرید کو بخشوائے بغیر راضی نہ ہوں گے اور نہ خود جنت میں داخل ہوں گے اور بالآخر وہ اللہ میاں کو اپنی بات منوا کے ہی چھوڑیں گے حالانکہ وہ دن ایسا سخت ہو گا کہ انبیاء بھی اللہ کے حضور لوگوں کی سفارش کرنے سے ہچکچائیں گے اور بالآخر قرعہ فال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے گا اور وہی اللہ کے حضور سفارش کریں گے۔ بلا شبہ دوسرے انبیاء اور بعض دوسرے نیک لوگوں کی سفارش کرنا بھی احادیث سے ثابت ہے مگر اس سفارش کے لیے بڑی کڑی شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ صرف وہی شخص سفارش کر سکے گا جس کو اللہ کی طرف سے اجازت حاصل ہو گی اور وہ بھی صرف اس شخص کے حق میں سفارش کر سکے گا جس کے حق میں اللہ کو منظور ہو گا اور خاص اس جرم کے لیے جس کی سفارش اللہ کو منظور ہو گی لہٰذا ایسی سفارش پر بھروسہ کرنے والوں کو وہاں سخت مایوسی سے دو چار ہونا پڑے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔