(آیت 104) {وَمَانُؤَخِّرُهٗۤاِلَّالِاَجَلٍمَّعْدُوْدٍ:”مَعْدُوْدٍ“} کا معنی ہے گنا ہوا۔ گنی ہوئی چیز آخر ختم ہو جاتی ہے، یعنی قیامت کی مہلت گنتی کے چند دن ہیں، جیسے روزوں کے متعلق فرمایا: «{ اَيَّامًامَّعْدُوْدٰتٍ }»[البقرۃ: ۱۸۴]”گنے ہوئے چند دنوں میں۔“ اور وہ گنتی صرف اللہ کے علم میں ہے، قیامت نہ اس سے پہلے آ سکتی ہے، نہ اس سے مؤخر ہو سکتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 یعنی قیامت کے دن میں تاخیر کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے لئے ایک وقت معین کیا ہوا ہے۔ جب وہ وقت مقرر آجائے گا، تو ایک لمحے کی تاخیر نہیں ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
104۔ اور ہم نے اس دن کو بس ایک معینہ مدت تک کے لئے [116] ہی مؤخر کر رکھا ہے
[116] قیامت بد ترین لوگوں پر قائم ہو گی:۔
حدیث میں ہے کہ «لاتقوم الساعة الآ عليٰ شرار الناس» یعنی قیامت اس وقت قائم ہوگی جب برائی اتنی عام ہو جائے گی کہ تمام نیک لوگ دنیا سے اٹھ جائیں گے یا اٹھا لیے جائیں گے قیامت کی بہت سی نشانیاں تو احادیث میں مذکور ہیں مگر اس کا معین وقت کسی کو نہیں بتلایا گیا اور نہ ہی کسی کو اس کی موت کا وقت بتلایا گیا ہے اس لیے یہ باتیں اللہ کی مشیئت کے خلاف ہیں اور اس سے وہ مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل ٭٭
’ کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہو گا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہو گی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کر چکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہو گی۔ جس دن قیامت آ جائے گی۔ کوئی نہ ہو گا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی ‘۔ بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے { اس دن صرف رسول علیہم السلام ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہو گا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے }۔ ۱؎[صحیح بخاری:806] مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ { اس آیت کے اترنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کر لی گئی ہے یا کسی نئی بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہو چکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہو گا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے } }۔ ۱؎[سنن ترمذي:3111،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔