ترجمہ و تفسیر — سورۃ هود (11) — آیت 103

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّمَنۡ خَافَ عَذَابَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ ۙ لَّہُ النَّاسُ وَ ذٰلِکَ یَوۡمٌ مَّشۡہُوۡدٌ ﴿۱۰۳﴾
بے شک اس میں اس شخص کے لیے یقینا ایک نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے، یہ وہ دن ہے جس کے لیے (سب) لوگ جمع کیے جانے والے ہیں اور یہ وہ دن ہے جس میں حاضری ہو گی۔ En
ان (قصوں) میں اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس میں سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے اور یہی وہ دن ہوگا جس میں سب (خدا کے روبرو) حاضر کیے جائیں گے
En
یقیناً اس میں ان لوگوں کے لئے نشان عبرت ہے جو قیامت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ وه دن جس میں سب لوگ جمع کئے جائیں گے اور وه، وه دن ہے جس میں سب حاضر کئے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 103) ➊ {اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ:} یعنی ان آیات و واقعات سے وہی عبرت حاصل کرے گا جس کا آخرت پر ایمان ہے، مگر جس کا آخرت پر ایمان نہیں وہ ان تمام واقعات کی کوئی نہ کوئی سائنسی توجیہ کرے گا کہ زمین و آسمان کے تغیرات کی وجہ سے ایسا ہوا، ظلم یا عدل سے اس کا کیا تعلق؟
➋ { ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ لَّهُ النَّاسُ:} یعنی وہ قیامت کا دن ایسا ہے جس کے لیے تمام لوگ جمع کیے ہوئے ہوں گے۔ زمخشری نے فرمایا کہ فعل مجہول {يُجْمَعُ لَهُ} (جمع کیے جائیں گے) کے بجائے اسم مفعول { مَّجْمُوْعٌ لَّهُ } (جمع کیے ہوئے ہوں گے) اس لیے استعمال فرمایا کہ اسم میں دوام اور ہمیشگی پائی جاتی ہے جب کہ فعل میں یہ چیز نہیں ہوتی۔
➌ { وَ ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ:} یعنی اس میں سب لوگ حاضر کیے ہوئے ہوں گے، کوئی چھپ سکے گا نہ ادھر ادھر ہو سکے گا۔ ایک معنی یہ ہے کہ اس دن ہر نیکی یا بدی کی شہادت موجود ہو گی اور پیش بھی کی جائے گی۔ یہ بھی مراد ہے کہ اس دن پہلے، پچھلے انسان اور جن سب حاضر ہوں گے، فرشتے بھی اور خود ذات الٰہی بھی فیصلے کے لیے تشریف لائیں گے، فرمایا: «{ وَ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا [الفجر: ۲۲] اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

13۔ 1 یعنی مواخذہ الٰہی میں یا ان واقعات میں جو عبرت و موعظبت کے لئے بیان کئے گئے ہیں۔ 13۔ 2 یعنی حساب اور بدلے کے لئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

103۔ جو شخص آخرت کے عذاب سے ڈرے [114] اس کے لئے بھی اس میں نشان عبرت ہے۔ وہ ایسا دن ہو گا جس میں سب لوگ اکٹھے کئے جائیں گے اور اس دن جو کچھ ہو گا سب کی موجودگی [115] میں ہو گا
[114] یعنی قوموں کے عروج و زوال کی داستان یا عروج و زوال کے قانون سے عبرت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جن میں اللہ کا خوف ہوتا ہے اور آخرت میں اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور سے ڈرتے رہتے ہیں اور یہ واقعات انھیں اللہ کی نافرمانی سے باز رکھنے میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو نہ اللہ سے ڈرتے ہیں نہ آخرت کے عذاب سے تو وہ ایسے عبرت انگیز واقعات سرسری طور پر پڑھ کر یا دیکھ کر انھیں اتفاقات زمانہ سے متعلق کر دیتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ ان کی مادی یا طبیعی توجیہات تلاش کرنے لگتے ہیں۔
[115] یوم مشہود کا ایک ترجمہ یہ بھی کیا گیا ہے کہ اس دن سب لوگوں کو حاضر کیا جائے گا یعنی تمام لوگ اس دن صرف جمع ہی نہیں کیے جائیں گے بلکہ انھیں باز پرس کے لیے اللہ کے سامنے حاضر بھی کیا جائے گا اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے مقدمات پر شہادتیں قائم کی جائیں گی اور سب کار روائی تمام لوگوں کی موجودگی میں کی جائے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہلاکت اور نجات، ٹھوس دلائل ٭٭
’ کافروں کی اس ہلاکت اور مومنوں کی نجات میں صاف دلیل ہے ہمارے ان وعدوں کی سچائی پر جو ہم نے قیامت کے بارے میں کئے ہیں جس دن تمام اول و آخر کے لوگ جمع کئے جائیں گے۔ ایک بھی باقی نہ چھوٹے گا اور وہ بڑا بھاری دن ہو گا تمام فرشتے، تمام رسول، تمام مخلوق حاضر ہو گی۔ حاکم حقیقی عادل کافی انصاف کرے گا۔ قیامت کے قائم ہونے میں دیر کی وجہ یہ ہے کہ رب یہ بات پہلے ہی مقرر کر چکا ہے کہ اتنی مدت تک دنیا بنی آدم سے آباد رہے گی۔ اتنی مدت خاموشی پر گزرے گی پھر فلاں وقت قیامت قائم ہو گی۔ جس دن قیامت آ جائے گی۔ کوئی نہ ہو گا جو اللہ کی اجازت کے بغیر لب بھی کھول سکے۔ مگر رحمن جسے اجازت دے اور وہ بات بھی ٹھیک بولے۔ تمام آوازیں رب رحمن کے سامنے پست ہوں گی ‘۔
بخاری و مسلم کی حدیث شفاعت میں ہے { اس دن صرف رسول علیہم السلام ہی بولیں گے اور ان کا کلام بھی صرف یہی ہو گا کہ یا اللہ سلامت رکھ، یا اللہ سلامتی دے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:806]‏‏‏‏
مجمع محشر میں بہت سے تو برے ہوں گے اور بہت سے نیک۔ { اس آیت کے اترنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کہ پھر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے اعمال اس بنا پر ہیں جس سے پہلے ہی فراغت کر لی گئی ہے یا کسی نئی بناء پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں بلکہ اس حساب پر جو پہلے سے ختم ہو چکا ہے جو قلم چل چکا ہے لیکن ہر ایک کے لیے وہی آسان ہو گا۔ جس کے لیے اس کی پیدائش کی گئی ہے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3111،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏