6۔ 1 یعنی اگر تم اپنے دین پر راضی ہو اور اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو، تو میں اپنے دین پر راضی ہوں میں اسے کیوں چھوڑوں۔؟ (لنا اعمالنا ولکم اعمالکم)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے [4] لیے میرا دین
[4] شرک سے متعلق کسی قسم کی لچک اور روا داری کی کوئی گنجائش نہیں :۔
یہ ہے وہ دو ٹوک فیصلہ جو صرف مکہ کے کافروں کو نہیں، دنیا بھر کے کافروں کو بھی نہیں بلکہ مسلمانوں کو بھی واضح الفاظ میں بتایا گیا کہ مشرکوں کو ان کے معبود مبارک رہیں۔ مگر مسلمان اسے کسی قیمت پر گوارا نہیں کر سکتے۔ شرک کے معاملہ میں اسلام نے کسی قسم کی لچک اور روا داری برداشت نہیں کی۔ خواہ یہ مشرک کافر ہوں یا اپنے آپ کو مسلمان ہی کہلاتے ہوں۔ کیونکہ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود لوگوں کی اکثریت مشرک ہی ہوتی ہے جیسا کہ سورت یوسف کی آیت نمبر 106 میں فرمایا: ﴿وَمَايُؤْمِنُاَكْثَرُهُمْباللّٰهِاِلَّاوَهُمْمُّشْرِكُوْنَ﴾
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں