ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكافرون (109) — آیت 5

وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ عٰبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ ؕ﴿۵﴾
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں ۔ En
اور نہ تم اس کی بندگی کرنے والے (معلوم ہوتے) ہو جس کی میں بندگی کرتا ہوں
En
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 4 میں تا آیت 6 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

بعض نے پہلی آیت کو حال کے اور دوسری کو استقبال کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن امام شوکانی نے کہا ہے کہ ان تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔ تاکید کے لیے تکرار، عربی زبان کا عام اسلوب ہے، جسے قرآن کریم میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے سورة رحمٰن، سورة مرسلات میں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی تاکید کے لیے یہ جملہ دہرایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں کہ میں توحید کا راستہ چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کرلوں، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہاری قسمت میں ہدایت نہیں لکھی ہے، تو تم بھی اس توحید اور عبادت الہی سے محروم ہی رہو گے۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی جب کفار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معبود کی اور ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کی عبادت کریں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ اور نہ ہی تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت [3] کرتا ہوں
[3] بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت نمبر 4 اور 5 میں آیت 2 اور 3 کے مضمون کا ہی تکرار ہے اور اگر اسے تکرار ہی تسلیم کیا جائے تو بھی یہ تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ تاہم یہ محض تکرار نہیں بلکہ ان میں دو قسم کا فرق ہے۔ ایک یہ کہ پہلی دو آیات میں ﴿ما﴾ کو موصولہ اور پچھلی دو آیات میں ﴿ما﴾ کو مصدریہ قرار دیا جائے۔ اس صورت میں پچھلی آیات کا معنی یہ ہو گا کہ جو طریق عبادت میں نے اختیار کیا ہے۔ اسے تم قبول نہیں کر سکتے اور جو تم نے اختیار کر رکھا ہے اسے میں نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق عبادت یہ تھا کہ آپ نماز میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتے تھے اور اس طریق عبادت سے کافروں کو خاصی چڑ تھی اور اس سے منع بھی کرتے تھے جیسا کہ سورت علق میں ابو جہل اور عتبہ بن ابی معیط سے متعلق کئی واقعات درج کیے جا چکے ہیں۔ اور کافروں کا طریق عبادت یہ تھا کہ گاتے، سیٹیاں اور تالیاں بجاتے، کعبہ کا ننگے ہو کر طواف کرتے تھے۔ آپ بھلا ان کا یہ طریق عبادت اختیار کر سکتے تھے۔؟ اور اگر بعد کی آیات میں بھی ﴿ما﴾ کو موصولہ ہی سمجھا جائے تو بھی دو فرق واضح ہیں۔ ایک یہ کہ پہلی آیت میں ﴿لاَ اعْبُدُ آیا ہے اور بعد کی آیات میں ﴿لاَ اَنَا عَابٍدٌ اور ظاہر ہے کہ جو تاکید ﴿لاَ اَنَا عَابِدٌ (یعنی میں کسی قیمت پر عبادت کرنے والا نہیں) میں پائی جاتی ہے وہ ﴿لاَ اَعْبُدُ میں نہیں پائی جاتی اور دوسرا فرق یہ ہے کہ پہلی آیات میں ﴿ما تَعْبُدُوْنَ (یعنی جنہیں تم آج کل پوجتے ہو) ہے۔ اور بعد والی آیات میں ﴿ماعَبَدْتُمْ صیغہ ماضی میں ہے یعنی جنہیں تم پہلے پوجتے رہے یا تمہارے آباء و اجداد پوجا کرتے تھے۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ مشرک اپنی حسب پسند اپنے معبودوں میں تبدیلی کر لیا کرتے تھے۔ جو چیز فائدہ مند نظر آئی یا جو خوبصورت سا پتھر نظر آیا اسے اٹھا کر معبود بنا لیا اور پہلے کو رخصت کیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔