ترجمہ و تفسیر — سورۃ الكوثر (108) — آیت 3

اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الۡاَبۡتَرُ ٪﴿۳﴾
یقینا تیر ا دشمن ہی لا ولد ہے۔ En
کچھ شک نہیں کہ تمہارا دشمن ہی بےاولاد رہے گا
En
یقیناً تیرا دشمن ہی ﻻوارث اور بے نام ونشان ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ { اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ: شَانِئٌ شَنِئَهٗ شَنْئًا } (س، ف) (بروزن {فَلْسٌ}) {وَشَنَئَانًا} (نون کے فتحہ اور سکون کے ساتھ) سے اسم فاعل ہے، اس کا معنی دشمنی رکھنے والا ہے۔ { الْاَبْتَرُ } جس کی اولاد نہ ہو۔ اصل میں یہ { بَتَرَهٗ } سے مشتق ہے، جس کا معنی ہے { قَطَعَهٗ } اس نے اسے کاٹ دیا۔ {حِمَارٌ أَبْتَرُ } وہ گدھا جس کی دم کٹی ہوئی ہو۔ دم کٹے سانپ کو بھی ابتر کہتے ہیں۔
➋ { هُوَ } ضمیر لانے کے علاوہ { الْاَبْتَرُ } پر الف لام لانے سے کلام میں مزید حصر پیدا ہوگیا، یعنی دشمن ہی لاولد ہے، تم نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کہتے تھے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اکیلے ہیں، ان کی اولاد نہیں، مر گئے تو کوئی نام لینے والا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آپ کے نام لینے والے بے شمار ہوں گے اور قیامت تک رہیں گے۔ کلمہ پڑھتے وقت، اذان میں، اقامت میں، نماز میں، درود میں، غرض آپ کا ذکر ہمیشہ رہے گا۔ آپ کی نسبت پر لوگ فخر کریں گے۔ اولاد بھی بہت ہوگی، مگر آپ کے دشمن کا کوئی نام لیوا نہیں ہوگا۔ اگر ان کی نسل چلی بھی تو اسے اپنے کافر باپ کی طرف منسوب ہونے پر کوئی فخر نہیں ہو گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 ابتر ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر ہو، یعنی اس کی ذات پر ہی اس کی نسل کا خاتمہ ہوجائے یا کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد نرینہ زندہ نہ رہی تو بعض کفار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابتر کہا، جس پر اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی کہ ابتر تو نہیں، تیرے دشمن ہی ہونگے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل کو باقی رکھا گو اس کا سلسلہ لڑکی کی طرف سے ہی ہے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد معنوی ہی ہے، جس کی کثرت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت والے دن فخر کریں گے، علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پوری دنیا میں نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغض وعناد رکھنے والے صرف صفحات تاریخ پر ہی موجود رہ گئے ہیں لیکن کسی دل میں ان کا احترام نہیں اور کسی زبان پر ان کا ذکر نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ بلا شبہ آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا [3] ہے
[3] کفار مکہ کے اخلاف :۔
﴿شانئ﴾ ﴿شَنأ ﴿شناء﴾ سے مصدر ﴿شَنَاٰنُ اور اسم فاعل ﴿شانيئ﴾ ہے اور اس سے مراد ایسا دشمن ہے جو بد خواہ بھی ہو اور کینہ پرور بھی۔ یعنی عداوت بھی رکھتا ہو اور بغض بھی اور یہ دشمنی کا تیسرا اور انتہائی درجہ ہے قریش مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے ہی دشمن تھے۔ بالخصوص ان کے سردار اور معتبر لوگ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا بیٹا (جسے طیب بھی کہتے ہیں اور طاہر بھی) بھی فوت ہو گیا تو یہ سب لوگ بہت خوش ہوئے اور تالیاں بجانے لگے اور ایک دوسرے کو مبارک کے طور پر کہنے لگے۔ بتر محمد اور بتر کا لفظ کسی جانور کے دم کاٹنے سے مخصوص ہے اور معنوی لحاظ سے مقطوع یا لا ولد کو کہتے ہیں یا جس کا ذکر خیر کرنے والا کوئی باقی نہ رہے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی نرینہ اولاد تو رہی نہیں۔ اس کا معاملہ بس اس کی اپنی زندگی تک ہی محدود ہے۔ اس کے بعد اس کا کوئی نام لیوا نہ رہے گا۔ اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ﴿اَبْتَرْ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ آپ کے دشمن ہیں۔ ان دشمنوں میں سے اکثر تو جنگ بدر میں مارے گئے اور اگر ان کی نسل کہیں بچی بھی ہے تو ان کی اولاد میں کوئی بھی اپنے ایسے اسلاف کا نام لینا اور اپنے آپ کو ان کی طرف منسوب کرنا گوارا تک نہیں کرتا۔ ان کا ذکر خیر کرنا تو بڑی دور کی بات ہے۔ سب لوگ ان پر لعنت ہی بھیجتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جو شان و عظمت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر خیر کو جو بقا بخشی ہے وہ لازوال ہے۔ دنیا کے اربوں مسلمان ہر روز کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود بھیجتے ہیں۔ اذانوں اور نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لیا جاتا ہے اور یہ سلسلہ تا قیامت بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ پھر میدان محشر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو درجات عطا کیے جائیں گے اور مقام محمود عطا کیا جائے گا ان کے ذکر سے قرآن اور حدیث کی کتب بھری پڑی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔