ترجمہ و تفسیر — سورۃ الماعون (107) — آیت 7

وَ یَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ ٪﴿۷﴾
اور عام برتنے کی چیزیں روکتے ہیں۔ En
اور برتنے کی چیزیں عاریتہً نہیں دیتے
En
اور برتنے کی چیز روکتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {وَ يَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ:} آخرت پر ایمان نہ ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا معاملہ تو ان کی نمازوں ہی سے ظاہر ہے، لوگوں سے بھی ان کا معاملہ درست نہیں۔ وہ معمولی چیز کے ساتھ بھی کسی کو فائدہ پہنچانے پر تیار نہیں ہیں، جب اس کے عوض انھیں دنیا میں کچھ ملنے کی توقع نہ ہو۔ { الْمَاعُوْنَ مَعْنٌ} سے ہے، جس کا معنی {شَيْءٌ قَلِيْلٌ} (تھوڑی سی چیز) ہے۔ تفسیر الوسیط للطنطاوی میں ہے: { الْمَاعُوْنَ } کی اصل {مَعُوْنَةٌ} ہے جس کا مادہ {عَوْنٌ} (مدد) ہے، اس کا الف تاء کے بدلے میں لایا گیا ہے جو آخر سے حذف کر دی گئی ہے۔ گویا { الْمَاعُوْنَ } سے مراد وہ چیزیں ہیں جن سے عام ضرورتوں میں مدد لی جاتی ہے۔ (الوسیط) علی رضی اللہ عنہ اور بعض مفسرین نے اس سے مراد زکوٰۃ لی ہے، کیونکہ وہ کل مال کے مقابلے میں بالکل قلیل یعنی اڑھائی فیصد ہوتی ہے، یعنی یہ لوگ اتنا معمولی صدقہ کرنے پر بھی تیار نہیں۔ ابوہریرہ، ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنھم اور بہت سے مفسرین نے اس سے گھروں میں برتنے کی وہ چیزیں مراد لی ہیں جو ہر وقت ہر گھر میں نہیں ہوتیں بلکہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے سے مانگ لی جاتی ہیں، مثلاً سوئی، ہانڈی، کلہاڑی، پیالہ، آگ اور پانی وغیرہ اور عام طور پر ماعون کا اطلاق انھی چیزوں پر ہوتا ہے۔ یعنی وہ معمولی سے معمولی چیز جو استعمال کے بعد انھیں واپس مل جائے گی، وہ بھی کسی کو دینے پر تیار نہیں، کیونکہ آخرت میں اس کے ثواب کی انھیں امید نہیںاور دنیا میں انھیں اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا۔ اللہ تعالیٰ نے آخرت کو جھٹلانے والے ایسے لوگوں کے لیے تباہی اور بربادی کی وعید ذکر فرمائی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 معن شیء قلیل کہتے ہیں۔ بعض اس سے مراد زکوٰۃ لیتے ہیں، کیونکہ وہ بھی اصل مال کے مقابلے میں بالکل تھوڑی سی ہوتی ہے (ڈھائی فی صد) اور بعض اس سے گھروں میں برتنے والی چیزیں مراد لیتے ہیں جو پڑوسی ایک دوسرے سے عاریتا مانگ لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ گھریلو چیزیں عاریتا دے دینا اور اس میں کبیدگی محسوس نہ کرنا اچھی صفت ہے اور اس کے برعکس بخل اور کنجوسی برتنا، یہ منکرین قیامت ہی کا شیوہ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور معمولی برتنے کی چیزیں (بھی مانگنے پر) نہیں دیتے [6]۔
[6] ﴿مَاعُوْن ہر اس برتنے والی چیز کو کہتے ہیں جو معمولی قسم کی ہو اور عام لوگوں کے استعمال میں آنے والی ہو۔ برتنے کی اشیاء گھریلو استعمال کی چھوٹی موٹی چیزیں مثلاً کلہاڑی، ہنڈیا، کھانے کے برتن، ماچس وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ زر پرستی کی ہوس اور آخرت سے انکار نے ان لوگوں میں اتنا بخل پیدا کر دیا ہے کہ یتیموں کو ان کا حق ادا کرنا اور محتاجوں کی ضروریات کا خیال رکھنا تو درکنار، وہ معمولی معمولی عام برتنے کی چیزیں عاریتاً مانگنے پر بھی دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ بعض لوگ مانگ کر کوئی برتنے کی چیز لے لیتے ہیں پھر واپس ہی نہیں کرتے یا اس چیز کا نقصان کر دیتے ہیں تو ایسی صورت میں شریعت نے جو احکام دیئے ہیں وہ درج ذیل احادیث میں ملاحظہ فرمائیے:
عاریتاً مانگی ہوئی چیز کے متعلق احکام:۔
1۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کے ہاں قیام پذیر تھے۔ کسی دوسری بیوی نے کھانے کی رکابی بھیجی تو اس بیوی نے جس کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے ہوئے تھے (از راہ رقابت) خادم کے ہاتھ کو جھٹکا دیا۔ رکابی گر گئی اور ٹوٹ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکابی کے ٹکڑے اور جو کھانا اس میں تھا اسے جمع کرنے لگے اور فرمایا: ”تمہاری ماں کو غیرت آگئی“ پھر خادم کو ٹھہرایا اور اس بیوی سے ایک سالم رکابی لے کر اس بیوی کے ہاں بھجوا دی جس نے بھیجی تھی اور یہ ٹوٹی ہوئی رکابی اسی گھر میں رکھ لی، جہاں ٹوٹی تھی۔ [بخاری، کتاب المظالم، باب اذاکسر قصعۃ اوشیأ الغیرہ]
2۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”مانگی ہوئی چیز واپس کرنا، ضامن کو تاوان بھرنا، اور قرضہ کی ادائیگی لازم ہے۔“ [ترمذی۔ ابواب البیوع، باب ان العاریۃ مؤادۃ]
3۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس ہاتھ نے جو کچھ لیا ہو اسی پر اس کا ادا کرنا واجب ہے۔“ (خواہ نقد رقم ہو یا کوئی اور چیز) [ابو داؤد۔ کتاب البیوع۔ باب فی تضمین العاریہ]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔