اس آیت کی تفسیر آیت 5 میں تا آیت 7 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6۔ 1 یعنی ایسے لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ ہوئے تو نماز پڑھ لی بصورت دیگر نماز پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے، یعنی صرف نمود و نمائس اور ریا کاری کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ جو ریا کاری کرتے [5] ہیں
[5] اگر اس آیت کو سابقہ آیت سے متعلق قرار دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسی بھی وہ نماز پڑھتے ہیں وہ بھی اللہ کے حکم یا آخرت کے ڈر کی وجہ سے نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانے کی خاطر پڑھتے ہیں۔ پھر اس ریا کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ منافق نماز اس لیے پڑھتے ہیں کہ دوسرے مسلمان انہیں دیکھ لیں اور ان کا شمار مسلمانوں میں ہو جائے۔ دوسری یہ کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص انہیں نماز پڑھتے دیکھ رہا ہے تو اس وقت وہ نماز بنا سنوار کر اور لمبی کر کے پڑھنے لگتے ہیں۔ ایسی نمازیں ان کو فائدہ پہنچانے کی بجائے ان کی ہلاکت کا سبب بن جائیں گی اور حقیقتاً ایسے لوگ بھی آخرت کے منکر ہی ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔