ترجمہ و تفسیر — سورۃ الماعون (107) — آیت 5

الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾
وہ جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ En
جو نماز کی طرف سے غافل رہتے ہیں
En
جو اپنی نماز سے غافل ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 4 میں تا آیت 6 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 اس مراد وہ لوگ ہیں نماز یا تو پڑھتے ہی نہیں یا پہلے پڑھتے رہے پھر سست ہوگئے یا نماز کو اس کے اپنے مسنوں وقت میں نہیں پڑھتے۔ جب جی چاہتا ہے پڑھ لیتے ہیں یا تاخیر سے پڑھنے کو معمول بنا لیتے ہیں یا خشوع خضوع کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ یہ سارے ہی مفہوم اس میں آجاتے ہیں اس لیے نماز کی مذکورہ ساری ہی کوتاہیوں سے بچنا چاہیے۔ کہاں اس مقام پر ذکر کرنے سے یہ بھی واضح ہے کہ نماز میں ان کوتاہیوں کے مرتکب وہی لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کی جزا اور حساب کتاب پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لیے منافقین کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ (وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيْلًا 142؁ۡۙ) 4۔ النساء:142)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ جو اپنی نماز سے غافل [4] رہتے ہیں
[4] اس سورت کی آیت نمبر 4 اور 5 سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ کیونکہ ان میں منافقوں کی نماز کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اور منافقوں کا مکی دور میں کوئی وجود نہ تھا۔ یہ فرقہ مدنی دور میں ہی وجود میں آیا تھا جب مسلمانوں کی ریاست قائم ہو چکی تھی۔ نماز سے غافل رہنے سے مراد یہ ہے کہ کبھی پڑھ لی، کبھی نہ پڑھی، کبھی بے وقت پڑھ لی جب وقت تنگ ہو چکا ہو۔ جلدی جلدی چند ٹھونگیں مار لیں۔ نماز کو بس ایک عادت اور ورزش کے طور پر پڑھ لیا۔ مگر اللہ کی یاد ایک لمحہ کے لیے بھی نہ آئی۔ بس دنیوی خیالات میں مستغرق رہے۔ غرض نماز سے غفلت کی بے شمار صورتیں ہیں جو اسی ضمن میں آتی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔