اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یہ کام بھی وہی کرے گا جس میں مذکورہ خوبیاں ہونگی ورنہ یتیم کی طرح مسکین کو بھی دھکا ہی دے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب [3] (بھی) نہیں دیتا
[3] یتیموں کی پرورش سے غفلت برتنا یا محتاجوں کے کھانے تک کی فکر نہ کرنا، انہیں خود کھلانا تو درکنار کسی کو اس کی ترغیب تک نہ دینا ایسی اخلاقی اور معاشرتی برائیاں ہیں جو ہر مذہب میں مذموم سمجھی جاتی ہیں اور سمجھی جاتی رہی ہیں۔ مگر جب انسان کو مال و دولت جوڑنے اور اسے سنبھال سنبھال کر رکھنے کی فکر لاحق ہو جائے تو وہ اتنا بخیل بن جاتا ہے کہ اسے اور ضرورت مندوں اور محتاجوں کی حالت زار دیکھنے پر قطعاً رحم نہیں آتا اور ان کی اس سنگدلی کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ انہیں روز آخرت کی جوابدہی کا یقین ہی نہیں ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔