ترجمہ و تفسیر — سورۃ قريش (106) — آیت 1
لِاِیۡلٰفِ قُرَیۡشٍ ۙ﴿۱﴾
قریش کے دل میں محبت ڈالنے کی وجہ سے۔
قریش کے مانوس کرنے کے سبب
قریش کے مانوس کرنے کے لئے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

{سورۃ القریش}
(آیت 1تا4) ➊ {لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ …: أَلِفَ يَأْلَفُ أَلْفًا (س) هٗ } کسی سے مانوس ہونا، اس سے محبت کرنا۔ {اٰلَفَ يُؤْلِفُ إِيْلَافًا} (افعال) کسی کو کسی چیز سے مانوس کر دینا، اس کے دل میں اس کی محبت ڈال دینا۔ { قُرَيْشٍ قَرْشٌ} کی تصغیر ہے۔ { قَرَشَ يَقْرِشُ قَرْشًا} (ض،ن) جمع کرنا۔ قریش مشہور قبیلہ ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ یہ نام ان کے حرم میں جمع ہونے کی وجہ سے رکھا گیا۔ یہ لوگ مختلف جگہوں میں بکھرے ہوئے تھے۔ قصی بن کلاب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد اعلیٰ) کو خیال آیا کہ اپنے سارے قبیلے کو مکہ میں اکٹھا کرنا چاہیے، چنانچہ انھوں نے سارے قبیلے کو مکہ میں جمع کردیا، اس لیے ان کا نام {مُجَمِّعٌ} پڑ گیا، اس طرح کعبہ کی تولیت بھی ان کے ہاتھ آگئی۔ یا یہ نام سمندر کی ایک مچھلی کے نام پر رکھا گیا ہے جسے قریش کہتے ہیں۔ المنجد میں ہے کہ اس مچھلی کو {كَلْبُ الْبَحْرِ} کہا جاتا ہے، یہ سمندر کے جانوروں کو دانتوں سے اس طرح کاٹتی ہے جس طرح تلوار کاٹتی ہے، سمندر کے تمام جانور اس سے ڈرتے ہیں۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قریش پر اپنے کئی احسانات ذکر فرمائے ہیں۔ قریش مکہ معظمہ میں رہتے تھے اور کعبہ کے متولی تھے، یہ لوگ سال میں دو تجارتی سفر کرتے تھے، گرمی کے موسم میں شام کی طرف، کیونکہ وہ سرد علاقہ ہے اور سردی کے موسم میں یمن کی طرف، کیونکہ وہ گرم علاقہ ہے۔ پہلا احسان تو یہ کہ ان کے دل میں سفر کی محبت ڈال دی، نہ انھیں سردی کے سفر میں مشقت محسوس ہوتی ہے نہ گرمی میں اور سفر ہی دنیا میں وسیلۂ ظفر ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو سفر سے مانوس نہ کرتا تو وہ بھی اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے اور سفر سے جو مال و دولت، تجربہ و علم اور دنیا بھر کے لوگوں اور علاقوں سے واقفیت حاصل ہوتی ہے وہ کبھی حاصل نہ ہوتی۔ سفر سے مانوس ہونے کی یہی نعمت قریش کو آگے چل کر ہجرت کے سفر میں کام آئی، پھر کفار کے ساتھ لڑائی میں اور اس کے بعد روم و شام، عراق و فارس، ہند و سندھ، مصر و افریقہ بلکہ مشرق و مغرب کی فتوحات میں کام آئی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم قوم کے دنیا پر غالب آنے اور غالب رہنے کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ وہ سفر سے نہ گھبرائیں اور جب نکلنے کا موقع ہو زمین ہی سے نہ چمٹ جائیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ کافر اقوام ہی برّی، بحری اور فضائی سفروں کی اجارہ دارہیں، مسلمان اکثر و بیشتر یہ سبق بھول چکے ہیں۔
دوسرا احسان یہ کہ اس وقت تمام عرب میں سخت بدامنی تھی،کسی کو خبر نہ تھی کہ کب اس پر حملہ ہو جائے اور اسے قتل کر دیا جائے، یا اٹھا لیا جائے یا مال لوٹ لیا جائے اور عورتیں اور بچے غلام بنا لیے جائیں۔ ایسے حالات میں صرف اہلِ مکہ ہی کو یہ امن حاصل تھا کہ کوئی ان کی طرف میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھتا تھا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» [العنکبوت: ۶۷] اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک امن والا حرم بنا دیا ہے، جبکہ لوگ ان کے ارد گرد سے اچک لیے جاتے ہیں۔ تیسرا احسان یہ کہ حرم کے باشندے ہونے کی وجہ سے تجارتی سفروں میں کوئی نہ ان کا قافلہ لوٹتا، نہ ان سے وہ ٹیکس لیے جاتے جو ہر قبیلہ اور ہر قوم اپنے علاقے سے گزرنے والوں سے لیتی تھی اور نہ انھیں کہیں جانے سے روکا جاتا تھا۔ چوتھا یہ کہ تمام دنیا کے لوگ حج و عمرہ کے لیے مکہ میں آتے اور دنیا بھر کا سامانِ تجارت یہاں پہنچتا۔ اس کے علاوہ ہر قسم کے پھل ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے نتیجے میں یہاں پہنچتے، فرمایا: «‏‏‏‏اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰۤى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا» ‏‏‏‏ [القصص: ۵۷] اور کیا ہم نے انھیں ایسے امن والے حرم میں جگہ نہیں دی جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھینچ کر لائے جاتے ہیں، یہ ہماری طرف سے رزق ہے۔
ان تجارتی سفروں اور مکہ کی تجارت کے مالک ہونے کی وجہ سے قریش نہایت مال دار تھے اور حرم کی برکت سے امن و امان سے بھی بہرہ ور تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام نعمتیں اللہ کے گھر کی برکت سے تھیں اور صرف اور صرف رب تعالیٰ کا عطیہ تھیں، پھر جب یہ تمام نعمتیں اس گھر کے مالک نے دی ہیں تو تم اس اکیلے کی عبادت کیوں نہیں کرتے اور کیوں دوسروں کو اس کا شریک بنا کر ان کے آگے سجدے کرتے، ان کے آستانوں پر نذریں دیتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہو؟
➋ { لِاِيْلٰفِ قُرَيْشٍ } (قریش کے دل میں محبت ڈالنے کی وجہ سے) ترکیب کے اعتبار سے کیا ہونا چاہیے؟ یہ جار مجرور کس کے متعلق ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ { فَلْيَعْبُدُوْا } کے متعلق ہے، یعنی اس وجہ سے انھیں اس گھر کے رب کی عبادت کرنی چاہیے۔ یہ نحو کے مشہور امامِ خلیل بن احمد کا قول ہے، مگر اس پر یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ پھر فاء کیوں آئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں شرط محذوف ہے، جس کے جواب میں فاء آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ان دوسری بے شمار نعمتوں کی وجہ سے یہ لوگ ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے تو اس گھر کا رب ہونے ہی کی وجہ سے اس کی عبادت کریں جس گھر کی برکت سے انھیں سردی و گرمی میں سفر کرنے، دائمی امن و امان اور وافر رزق کی نعمتیں میسر ہیں۔ (زمخشری)
کسی بھی جگہ میں امن اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ہمیں بھی رزق کی فراخی اور امن جیسی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے، غیر اللہ کی عبادت اور شرک سے بچنا چاہیے اور شرک کے اڈوں کی تعمیر و ترقی کے بجائے توحید کے مراکز کی تعمیر و ترقی کرنی چاہیے۔ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو رزق کی تنگی اور بد امنی و فساد کا سامنا کرنا پڑے گا، جیسا کہ کرنا پڑ رہا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

قریش کے مانوس کرنے کے لئے

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ چونکہ (اللہ نے) قریش کو مانوس کر دیا [1] تھا
[1] ﴿ايلاف﴾ کے دو پہلو :۔
﴿اِيْلاَفٌ کا مادہ الف ہے اور اس سے الفت مشہور و معروف لفظ ہے۔ الفت کا معنی ایسی محبت ہے جو خیالات میں ہم آہنگی کی وجہ سے ہو (مفردات) اور الف کے معنی کسی چیز کے منتشر اجزاء کو اکٹھا کر کے انہیں ترتیب کے ساتھ جوڑ دینا۔ کسی کتاب کی تالیف کا بھی یہی مفہوم ہے۔ گویا ایلاف کے مفہوم میں الفت، موانست اور قریش کے منتشر افراد کی اجتماعیت کے سب مفہوم پائے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے ﴿ايلاف﴾ کے دو مختلف پہلو ہیں۔ ایک کا پس منظر یہ ہے کہ قبیلہ قریش حجاز میں متفرق مقامات پر بکھرا ہوا تھا۔ سب سے پہلے قصّی بن کلاب (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جد اعلیٰ) کو یہ خیال آیا کہ اپنے قبیلہ کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے۔ چنانچہ اس نے اپنے سارے قبیلہ کو مکہ میں اکٹھا کر دیا۔ اسی بنا پر قصّی کو ﴿مُجَمّع کا لقب دیا گیا۔ اس طرح کعبہ کی تولیت اس قبیلہ کے ہاتھ آگئی۔ اور ﴿ايلاف﴾ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہاشم کے بیٹوں کو خیال آیا کہ اس بین الاقوامی تجارت میں حصہ لینا چاہیے جو ان قافلوں کے ذریعے ہوتی تھی جو یمن سے شام و فلسطین تک جاتے تھے۔ یمن میں بلاد مشرق سے تجارت ہوتی تھی اور شام میں افریقہ و مصر سے۔ چنانچہ ہاشم کے بیٹوں نے آس پاس کے علاقوں سے تجارتی روابط قائم کیے اور عملاً تجارت میں حصہ لینا شروع کیا۔ جس سے مکہ ایک بین الاقوامی منڈی بن گیا۔ قریش کے قافلے سال بھر میں دو تجارتی سفر کرتے تھے۔ گرمیوں میں وہ شام و فلسطین کی طرف جاتے تھے۔ کیونکہ یہ علاقہ مکہ کی نسبت بہت ٹھنڈا تھا اور سردیوں میں ان کا قافلہ یمن کی طرف جاتا تھا کیونکہ یہ علاقہ مکہ کی نسبت گرم تھا۔ سال میں ان دو تجارتی سفروں سے اتنی آمدنی ہو جاتی تھی کہ سال کا باقی حصہ آرام سے گھر بیٹھ کر کھاتے تھے پھر بھی ان کے پاس بہت کچھ بچ جاتا تھا۔ اس طرح وہ آسودہ حال اور خاصے مالدار بن گئے۔ یہ دونوں موسموں کے تجارتی سفر ہی ان کی تمام تر دلچسپیوں کے مرکز و محور بن گئے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

امن و امان کی ضمانت ٭٭
موجودہ عثمانی قرآن کی ترتیب میں یہ سورت سورۃ الفیل سے علیحدہ ہے اور دونوں کے درمیان «بسم الله» کی آیت کا فاصلہ ہے، مضمون کے اعتبار سے یہ سورت پہلی سے ہی متعلق ہے جیسے کہ محمد بن اسحاق عبدالرحمن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ وغیرہ نے تصریح کی ہے اس بنا پر معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے مکہ سے ہاتھیوں کو روکا اور ہاتھی والوں کو ہلاک کیا۔ یہ قریشیوں کو الفت دلانے اور انہیں اجتماع کے ساتھ باامن اس شہر میں رہنے سہنے کے لیے تھا۔
اور یہ مراد بھی کی گئی ہے کہ یہ قریشی جاڑوں اور گرمیوں میں کیا دور دراز کے سفر امن و امان سے طے کر سکتے تھے کیونکہ مکہ جیسے محترم شہر میں رہنے کی وجہ سے ہر جگہ ان کی عزت ہوتی تھی بلکہ ان کے ساتھ بھی جو ہوتا تھا امن و امان سے سفر طے کر لیتا تھا اسی طرح وطن میں ہر طرح کا امن انہیں حاصل ہوتا تھا۔
جیسے اور جگہ قرآن کریم میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ» ۱؎ [29-العنكبوت:67]‏‏‏‏ الخ یعنی ’ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والی جگہ بنا دیا ہے اس کے آس پاس تو لوگ اچک لیے جاتے ہیں ‘، لیکن یہاں کے رہنے والے نڈر ہیں۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لِإِيلَافِ» ، میں پہلا «لام» تعجب کا «لام» ہے اور دونوں سورتیں بالکل جداگانہ ہیں جیسا کہ مسلمانوں کا اجماع ہے۔ تو گویا یوں فرمایا جا رہا ہے کہ تم قریشیوں کے اس اجتماع اور الفت پر تعجب کرو کہ میں نے انہیں کیسی بھاری نعمت عطا فرما رکھی ہے انہیں چاہیئے کہ میری اس نعمت کا شکر اس طرح ادا کریں کہ صرف میری ہی عبادت کرتے رہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُ كُلُّ شَيْءٍ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» ۱؎ [27-النمل:91]‏‏‏‏، یعنی ’ اے نبی تم کہہ دو کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرم بنایا جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا مطیع اور فرمانبردار رہوں ‘۔
پھر فرماتا ہے وہ رب بیت جس نے انہیں بھوک میں کھلایا اور خوف میں نڈر رکھا انہیں چاہیئے کہ اس کی عبادت میں کسی چھوٹے بڑے کو شریک نہ ٹھہرائیں جو اللہ کے اس حکم کی بجا آوری کرے گا وہ تو دنیا کے اس امن کے ساتھ آخرت کے دن بھی امن و امان سے رہے گا، اور اس کی نافرمانی کرنے سے یہ امن بھی بےامنی ہے اور آخرت کا امن بھی ڈر خوف اور انتہائی مایوسی سے بدل جائے گا۔
جیسے اور جگہ فرمایا: «وَضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّـهِ فَأَذَاقَهَا اللَّـهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ» * «وَلَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَهُمْ ظَالِمُونَ» ۱؎ [16-النحل:112-113]‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ تعالیٰ ان بستی والوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان کے ساتھ تھے ہر جگہ سے بافراغت روزیاں کھچی چلی آتی تھیں لیکن انہیں اللہ کی ناشکری کرنے کی سوجھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا یہی ان کے کرتوت کا بدلہ تھا ان کے پاس ان ہی میں سے اللہ کے بھیجے ہوئے آئے لیکن انہوں نے انہیں جھٹلایا اس ظلم پر اللہ کے عذابوں نے انہیں گرفتار کر لیا ‘۔
ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریشیو! تمہیں تو اللہ یوں راحت و آرام پہنچائے گھر بیٹھے کھلائے پلائے چاروں طرف بدامنی کی آگ کے شعلے بھڑک رہے ہوں اور تمہیں امن و امان سے میٹھی نیند سلائے پھر تم پر کیا مصیبت ہے جو تم اپنے اس پروردگار کی توحید سے جی چراؤ اور اس کی عبادت میں دل نہ لگاؤ بلکہ اس کے سوا دو سروں کے آگے سر جھکاؤ} ۱؎۔ [مسند احمد:460/6:اسناد ضعیف]‏‏‏‏
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ قريش کی تفسیر ختم ہوئی۔