(آیت 3) {وَاَرْسَلَعَلَيْهِمْ …: ”اَبَابِيْلَ“} عام طور پر ایک خاص قسم کی چڑیوں کو ”ابابیل “ کہا جاتا ہے، مگر یہ درست نہیں۔ {”اَبَابِيْلَ“} ان گھوڑوں یا پرندوں کو کہا جاتا ہے جو گروہ در گروہ اور جھنڈ کے جھنڈ آئیں۔ یہ لفظ جمع ہی استعمال ہوتا ہے، بعض نے اس کی واحد {”إِبَّالَةٌ“} بیان کی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 ابابیل پرندے کا نام نہیں بلکہ اس کے معنی غول در غول۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور ان پرندوں کے غول کے غول بھیج دیے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔