(آیت 9،8) {اِنَّهَاعَلَيْهِمْمُؤْصَدَةٌ …: ”أَوْصَدَيُوْصِدُإِيْصَادًا“ (افعال) ”اَلْبَابَ“} دروازہ بند کر دینا۔ {”مُؤْصَدَةٌ“} اسم مفعول ہے، بند کی ہوئی۔{”عَمَدٍ“”عَمُوْدٌ“} کی جمع ہے، یعنی انھیں جہنم میں لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ باندھ کر چاروں طرف سے بند کر دیا جائے گا، حتیٰ کہ کوئی دروازہ یا کھڑکی بلکہ کوئی شگاف یا درز بھی باقی نہیں چھوڑی جائے گی۔ [أَعَاذَنَااللّٰہُمِنْھَا] دوسرا معنی یہ ہے کہ اس آگ کے شعلے لمبے لمبے ستونوں کی شکل میں ہوں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 مؤصدۃ جہنم کے دروازے اور راستے بند کر دئیے جائیں گے تاکہ کوئی باہر نہ نکل سکے اور انہیں لوہے کی میخوں کے ساتھ باندھ دیا جائے گا، جو لمبے لمبے ستونوں کی طرح ہوں گی، بعض کے نزدیک عمد سے مراد بیڑیاں یا طوق ہیں اور بعض کے نزدیک ستون ہیں جن میں انہیں عذاب دیا جائے گا۔ (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ وہ ان پر ہر طرف سے بند کر دی [7] جائے گی
[7] یعنی ایسے لوگوں کو نہایت ذلت کے ساتھ بے کار چیز سمجھ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا پھر اوپر سے منہ بند کر دیا جائے گا اور اس میں دروازے یا کھڑکی تو درکنار کوئی سوراخ تک نہ رہنے دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔