ترجمہ و تفسیر — سورۃ الهمزة (104) — آیت 7

الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الۡاَفۡـِٕدَۃِ ؕ﴿۷﴾
وہ جو دلوں پر جھانکتی ہے ۔ En
جو دلوں پر جا لپٹے گی
En
جو دلوں پر چڑھتی چلی جائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) {الَّتِيْ تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـِٕدَةِ: تَطَّلِعُ اِطَّلَعَ يَطَّلِعُ اِطِّلَاعًا} (افتعال) جھانکنا۔ { الْاَفْـِٕدَةِ فُؤَادٌ} کی جمع ہے، دل۔ جو دلوں پر جھانکتی ہے یعنی وہ صاحبِ شعور ہے، دلوں میں جو کفر و نفاق اور بخل و کمینگی ہے یا ایمان اور سخاوت و کرم ہے سب دیکھ لیتی ہے اور جلاتی اسی کو ہے جو جلانے کے قابل ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی آگ بھی اگرچہ ہر چیز کو جلا ڈالتی ہے، مگر یہ آگ دل تک پہنچنے سے پہلے ہی آدمی کی موت واقع ہو جاتی ہے، جبکہ جہنم کی آگ جسم کو جلاتے ہوئے دل تک پہنچ جائے گی مگر آدمی مرے گا نہیں۔ دلوں تک آگ اس لیے پہنچے گی کہ دل ہی گندے عقائد، خبیث نیتوں اور کفر و نفاق کا مرکز ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 یعنی اس کی حرارت دل تک پہنچ جائے گی۔ اگرچہ دنیا کی آگ کے اندر بھی یہ خاصیت ہے کہ وہ دل تک پہنچ جائے لیکن وہ پہنچتی نہیں کیوں انسا کی موت اس سے پہلے ہی ہوجاتی ہے لیکن جہنم کی آگ دلوں تک پہنچے گی لیکن موت نہ آئے گی۔ باوجود آرزو کے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ جو دلوں [6] پر چڑھ جائے گی
[6] ﴿فوأد﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿أفْئِدَةَ ﴿فوأد﴾ کی جمع ہے جو ﴿فأد﴾ سے مشتق ہے اور ﴿فَأدَ اللَحْمَ بمعنی گوشت کو بھوننا اور ﴿لَحْمٌ فَئِيْد یعنی بھونا ہوا گوشت، ابن الفارس کے نزدیک یہ لفظ گرمی اور شدید حرارت پر دلالت کرتا ہے۔ اور ﴿فُوَادُ سے مراد دل کا وہ حصہ ہے جو انسان کے جذبات، جذبات کی شدت اور تاثیر سے تعلق رکھتا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ دل کے اس حصے پر پہنچے گی جو جذبات کا مرکز ہے۔ جس میں زرپرستی کا جذبہ ہے اور جو دوسرے لوگوں کو حقیر اور ذلیل سمجھنے اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے کے جذبات سے معمور ہے۔ یہ آگ اس کے جذبات کو اور دل کے اس حصے کو بھون کر رکھ دے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔