(آیت 6) {نَارُاللّٰهِالْمُوْقَدَةُ: ”نَارُاللّٰهِ“} (اللہ کی آگ) اور{”الْمُوْقَدَةُ“} (بھڑکائی ہوئی)کہنے میں اس آگ کی جو ہولناکی بیان ہوئی ہے وہ کسی اور لفظ میں بیان ہو ہی نہیں سکتی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
6۔ اللہ کی آگ سے خوب بھڑکائی [5] ہوئی
[5] سارے قرآن میں غالباً یہی ایک مقام ہے جہاں دوزخ کی آگ کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے کہ اللہ نے اس آگ کو بھڑکایا ہے۔ اسی سے اس آگ کی شدت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور اس لحاظ سے بھی کہ اللہ متکبرین کو سب سے زیادہ رسوا کن عذاب دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔