الَّذِیۡ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَہٗ ۙ﴿۲﴾
وہ جس نے مال جمع کیا اور اسے گن گن کر رکھا ۔
En
جو مال جمع کرتا اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے
En
جو مال کو جمع کرتا جائے اور گنتا جائے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 2) ➊ {الَّذِيْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗ:} یعنی لوگوں کی عیب جوئی، ان پر طعنہ زنی اور ان کی تحقیر کا اصل باعث اس کی مال جمع کرنے کی حد سے بڑھی ہوئی خواہش اور شدید بخل ہے۔ اس بخل نے چونکہ اس میں فراخ دلی یا ہمدردی وغیرہ کی کوئی خوبی باقی نہیں چھوڑی، اس لیے وہ اپنی خست و کمینگی پر پردہ ڈالنے کے لیے ہر صاحب خیر پر طعن کرتا اور اس کی عیب جوئی کرتا ہے، تاکہ کوئی اس کے بخل و حرص کی مذمت کی طرف متوجہ ہی نہ ہو سکے۔ منافقین بھی یہی کام کرتے تھے، فرمایا: «اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ» [التوبۃ: ۷۹] ” یہ وہ لوگ ہیں جو خوشی سے صدقہ کرنے والے مومنوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں اور ان پر بھی جن کے پاس اپنی محنت کی کمائی کے علاوہ کچھ نہیں، سو یہ ان سے مذاق کرتے ہیں۔“ اس کے علاوہ وہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کے لیے دوسروں کی بدگوئی اور عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے آپ کو صاف ستھرا ظاہر کرتا ہے، تاکہ لوگ ہر سودے اور ہر کام میں کسی اور سے معاملہ کرنے کے بجائے صرف اس سے معاملہ کریں اور اس کا مال بڑھتا رہے۔ اگر {” هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ“} کا واضح نقشہ دیکھنا ہو تو جمہوری انتخابات میں کھڑے ہونے والے امیدواروں کے بیانات پڑھ لیں کہ وہ سیٹ کے حصول کے لیے اپنے حریفوں پر کس قدر طعن اور بہتان تراشی کرتے ہیں۔
➋ یعنی مال جو انسان کی ضرورت پوری کرنے اور آسائش حاصل کرنے کا ذریعہ تھا، وہ اس کے لیے اصل مطلوب بن گیا۔ اب وہ اسی کو جمع کرنے اور گن گن کر رکھنے کی دھن میں لگا ہوا ہے۔
➋ یعنی مال جو انسان کی ضرورت پوری کرنے اور آسائش حاصل کرنے کا ذریعہ تھا، وہ اس کے لیے اصل مطلوب بن گیا۔ اب وہ اسی کو جمع کرنے اور گن گن کر رکھنے کی دھن میں لگا ہوا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس سے مراد مال جمع کرتا ہے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتا۔ ورنہ مطلق مال جمع کرکے رکھنا مذموم نہیں ہے۔ یہ مذموم اس وقت ہے جب اس میں زکوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ نہ کا اہتمام نہ ہو۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ جس نے مال جمع کیا [2] اور اسے گن گن کر رکھا
[2] ان کا ایسی حرکتیں کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ مالدار تھے اور اپنی دولت کے نشہ میں مسلمانوں کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر ایسی حرکتیں کرتے تھے۔ مالدار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بخیل بھی انتہا درجے کے تھے۔ روپے پیسے کو محفوظ رکھنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں انہیں خاص لطف آتا تھا۔ واضح رہے کہ اگرچہ ان آیات کا روئے سخن رؤسائے قریش کی طرف ہے۔ لیکن الفاظ عام ہیں اور ان کا اطلاق ایسے تمام مالداروں پر ہوتا ہے جو ان صفات کے حامل ہوں اور یہ تو عام مشاہدہ کی بات ہے کہ مالداروں اور زر پرستوں کو مال جمع کرنے اور اسے گن گن کر رکھنے میں ایک خاص فرحت محسوس ہوتی ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وزنی بیڑیاں اور قید و بند کو یاد رکھو ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے زبان سے لوگوں کی عیب گیری کرنے والا، اپنے کاموں سے دوسروں کی حقارت کرنے والا، خرابی والا شخص ہے۔ «هَمَّاز مَشَّاء بِنَمِيمٍ» ۱؎ [68-القلم:11] کی تفسیر بیان ہو چکی ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔
ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔
پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۱؎۔ [70-المعارج:18]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ اس سے مراد طعنہ دینے والا غیبت کرنے والا ہے۔
ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں سامنے برا کہنا تو «هُمَزَ» ہے اور پیٹھ پیچھے عیب بیان کرنا «لُّمَزَ» ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں زبان سے اور آنکھ کے اشاروں سے بندگان اللہ کو ستانا اور چڑانا مراد ہے کہ کبھی تو ان کا گوشت کھائے یعنی غیبت کرے اور کبھی ان پر طعنہ زنی کرے۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «هُمَزَ» ہاتھ اور آنکھ سے ہوتا ہے اور «لُّمَزَ» زبان سے بعض کہتے ہیں اس سے مراد اخنس بن شریق کافر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت عام ہے۔
پھر فرمایا: جو جمع کرتا ہے اور گن گن کر رکھتا جاتا ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ» ۱؎۔ [70-المعارج:18]
سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر تو مال کمانے کی ہائے وائے میں لگا رہا اور رات کو سڑی بھسی لاش کی طرح پڑ رہا اس کا خیال یہ ہے کہ اس کا مال اسے ہمیشہ دنیا میں رکھے گا حالانکہ واقعہ یوں نہیں بلکہ یہ بخیل اور لالچی انسان جہنم کے اس طبقے میں گرے گا جو ہر اس چیز کو جو اس میں گرے چور چور کر دیتا ہے۔
پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔
ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔
ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف]
اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔
اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
پھر فرماتا ہے یہ توڑ پھوڑ کرنے والی کیا چیز ہے؟ اس کا حال اے نبی! تمہیں معلوم نہیں یہ اللہ کی سلگائی ہوئی آگ ہے جو دلوں پر چڑھ جاتی ہے جلا کر بھسم کر دیتی ہے لیکن مرتے نہیں۔
ثابت بنانی رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کر کے اس کا یہ معنی بیان کرتے تو رو دیتے اور کہتے انہیں عذاب نے بڑا ستایا۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں آگ جلاتی ہوئی حلق تک پہنچ جاتی ہے پھر لوٹتی پھر پہنچی ہے یہ آگ ان پر چاروں طرف سے بند کر دی گئی ہے جیسے کہ سورۃ البلد کی تفسیر میں گزرا۔
ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے۔ ۱؎ [ابن مردودیہ:اسنادہ ضعیف]
اور دوسرا طریق اس کا موقوف ہے لوہا جو مثل آگ کے ہے اس کے ستونوں میں یہ لمبے لمبے دروازے ہیں۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرات میں «بِعَمَدٍ» مروی ہے، ان دوزخیوں کی گردنوں میں زنجیریں ہوں گی یہ لمبے لمبے ستونوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور اوپر سے دروازے بند کر دئیے جائیں گے ان آگ کے ستونوں میں انہیں بدترین عذاب کیے جائیں گے۔
ابوصالح رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی وزنی بیڑیاں اور قید و بند ان کے لیے ہو گی۔
اس سورت کی تفسیر بھی اللہ کے فضل و کرم سے پوری ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»