اس آیت کی تفسیر آیت 8 میں تا آیت 10 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9۔ 1 ہاویہ جہنم کا نام ہے اس کو ہاویہ اس لیے کہتے ہیں کہ جہنمی اس کی گہرائی میں گرے گا۔ اور اس کو ام (ماں) سے اس لیے تعبیر کیا کہ جس طرح انسان کے لیے ماں، جائے پناہ ہوتی ہے اسی طرح جہنمیوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ بعض کہتے ہیں کہ ام کے معنی دماغ کے ہیں۔ جہنمی، جہنم میں سرکے بل ڈالے جائیں گے۔ (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ تو اس کا ٹھکانا یہ گہری کھائی [6] ہو گا
[6]﴿هاوية﴾﴿هوي﴾﴿يهوي﴾ بمعنی بلندی سے زمین پر گرنا۔ ﴿اُهوية﴾ گہرے کنوئیں کو بھی کہتے ہیں اور گہرے گڑھے کو بھی اور ﴿هاوية﴾ سے مراد جہنم کی گہرائی یا گہری جہنم بھی ہو سکتا ہے۔ اور دوزخ میں ایک گہرے گڑھے کا نام بھی۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی نیکیوں کا پلڑا اوپر اٹھ گیا، اسے جہنم کی گہرائی میں یا جہنم کے گہرے گڑھے میں پھینک دیا جائے گا اور اُمّ کا لغوی معنی ماں یعنی جس طرح بچہ کا ملجا و ماویٰ ماں اور اس کی گود ہی ہوتی ہے اسی طرح ایسے شخص کا ملجا و ماویٰ یہی ھاویہ ہی ہو گا۔ اس کے علاوہ اسے کوئی اور ٹھکانہ میسر نہ آئے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔