(آیت 9،8){ وَاَمَّامَنْخَفَّتْمَوَازِيْنُهٗ …: ”هَاوِيَةٌ“”هَوٰييَهْوِيْهُوِيًّا“} (ض) گرنا۔ {”هَاوِيَةٌ“} کا لفظی معنی گڑھا ہے جس میں گرا جائے، مراد جہنم ہے۔ {”فَاُمُّهٗ“} ”اس کی ماں“ مراد اس کا ٹھکانا ہے، جس طرح ماں اپنے بچے کو گود میں جگہ دیتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 جس کی برائیاں نیکیوں پر غالب ہوں گی اور برائیوں کا پلڑا بھاری اور نیکیوں کا ہلکا ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ اور جس کے پلڑے ہلکے ہوئے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔