(آیت 7) {فَهُوَفِيْعِيْشَةٍرَّاضِيَةٍ: ”عَاشَيَعِيْشُعَيْشًاوَمَعَاشًاوَعِيْشَةًوَمَعِيْشَهً“} (ض) زندگی والا ہونا۔ {”عِيْشَةٍ“”فِعْلَةٌ“} کے وزن پر مصدر ہے، جو حالت اور کیفیت پر دلالت کرتا ہے، تو {”عِيْشَةٍ“} زندگی کی حالت۔ {”رَاضِيَةٍ“”رَضِيَيَرْضٰيرِضًا“} (س) سے ہے، یہاں {”رَاضِيَةٍ“} بمعنی {”ذَاتُالرِّضَا“} ہے، یعنی خوشی والی زندگی، جیسے {”تَامِرٌ“} کھجور والے کو اور {”لَابِنٌ“} دودھ والے کو کہا جاتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 یعنی ایسی زندگی جس کو وہ صاحب زندگی پسند کرے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ وہ تو دل پسند عیش میں ہو گا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔