(آیت 5){ وَتَكُوْنُالْجِبَالُكَالْعِهْنِالْمَنْفُوْشِ: ”اَلْعِهْنُ“} اُون یا رنگین اُون۔ {”الْمَنْفُوْشِ“} دھنکی ہوئی۔ قیامت کے دن پہاڑ دُھنک کر اون یا روئی کے گالوں کی طرح کر دیے جائیں گے، جیساکہ فرمایا: «وَيَسْـَٔلُوْنَكَعَنِالْجِبَالِفَقُلْيَنْسِفُهَارَبِّيْنَسْفًا» [طٰہٰ: ۱۰۵]”اور وہ تجھ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں، تو کہہ دے کہ میرا رب انھیں خوب اچھی طرح دُھنک کر رکھ دے گا۔“ چونکہ پہاڑ سرخ، سیاہ، سفید اور بے شمار رنگوں والے ہیں، اس لیے جب وہ دُھنکے جائیں گے تو رنگی اور دھنکی ہوئی اُون کی طرح ہو جائیں گے۔قیامت کے دن پہاڑوں پر گزرنے والے مختلف احوال کے لیے دیکھیے سورئہ نبا (۲۰) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
عھن، اس اون کو کہتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ساتھ رنگی ہوئی ہو، منفوش، دھنی ہوئی۔ یہ پہاڑوں کی وہ کیفیت بیان کی گئی ہے جو قیامت والے دن انکی ہوگی۔ قرآن کریم میں پہاڑوں کی یہ کیفیت مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے، جسکی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔ اب آگے ان دو فریقوں کا اجمالی ذکر کیا جا رہا ہے جو قیامت والے دن اعمال کے اعتبار سے ہوں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ اور پہاڑ ایسے جیسے مختلف رنگوں [4] کی دھنکی ہوئی اون
[4] یعنی زمین میں پہاڑوں کی گرفت ڈھیلی پڑ جائے گی۔ پھر وہ زمین بوس ہوں گے۔ اس دن گرد و غبار بن کر اڑتے پھریں گے۔ پہاڑوں کے بھی چونکہ مختلف رنگ ہوتے ہیں کوئی لال، کوئی کہیں سے سفید، کوئی کالا اور اسی طرح اون کے بھی مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ اس لیے جب پہاڑ ہوا میں اڑیں گے تو ایسا معلوم ہو گا جیسے دھنکی ہوئی اور رنگی ہوئی اون کے گالے اڑ رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔