(آیت 11) {نَارٌحَامِيَةٌ: ”حَامِيَةٌ“”حَمِيَيَحْمٰيحَمْيًا“} (س) (گرم ہونا) سے اسم فاعل ہے، یعنی وہ ہاویہ صرف ایک بے انتہا گہرا گڑھا ہی نہیں بلکہ سراسر آگ ہے، جو سخت گرم ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نَارُكُمْجُزْءٌمِّنْسَبْعِيْنَجُزْءًامِّنْنَارِجَهَنَّمَ][بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ النار وأنھا مخلوقۃ: ۳۲۶۵]”تمھاری آگ جہنم کی آگ کے ستر (۷۰) حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ اللہ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔ (آمین)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ انسان دنیا میں جو آگ جلاتا ہے، یہ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے، جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے 69 درجہ زیادہ ہے (صحیح بخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ لنار وأنھا مخلوقۃ مسلم، کتاب الجنۃ، باب فی شدۃ حرنار جھنم) ایک اور حدیث میں ہے کہ " آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ میرا ایک حصہ دوسرے حصے کو کھائے جا رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت فرما دی۔ ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس سردی میں پس جو سخت سردی ہوتی ہے یہ اس کا ٹھنڈا سانس ہے، اور نہایت سخت گرمی جو پڑتی ہے، وہ جہنم کا گرم سانس ہے " (بخاری، کتاب و باب مذکور) ایک اور حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جب گرمی زیادہ سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے۔ (حوالہ مذکور، مسلم، کتاب المساجد)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ وہ آگ [7] ہے بھڑکتی ہوئی۔
[7] یعنی وہ محض ایک گہرا گڑھا ہی نہ ہو گا بلکہ اس کی آگ جہنم کی دوسری آگ کے مقابلہ میں زیادہ گرم اور تیز ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔