(آیت 11){ اِنَّرَبَّهُمْبِهِمْيَوْمَىِٕذٍلَّخَبِيْرٌ:} اس آیت پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ تو ہمیشہ ہی بندوں کے حالات سے باخبرہے، پھر اس دن کو خاص کیوں فرمایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن جب ظاہری اعضا سے سرزد ہونے والے اعمال کے علاوہ دلوں کے اعمال ظاہر کرکے ان کی بھی جزا و سزا دی جائے گی، تو اگر پہلے کسی کو شک تھا تو اس دن وہ بھی دور ہو جائے گا کہ یقینا ان کا رب ان کے متعلق خوب خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
11۔ 1 یعنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہر کر دے گا اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں پھر وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ گویا ان اشخاص کو تنبیہ ہے جو رب کی نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے، اسکی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی طرح مال کی محبت میں گرفتار ہو کر مال کے وہ حقوق ادا نہیں کرتے جو اللہ نے اس میں دوسرے لوگوں کے رکھے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
11۔ تو اس دن [11] ان کا پروردگار یقیناً ان سے پوری طرح با خبر ہو گا
[11] اللہ تو آج بھی، پہلے بھی اور اس وقت بھی یعنی ہر وقت بندوں کے اعمال سے پوری طرح واقف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دن تمام لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ اللہ دنیا کی زندگی میں بھی ان کے احوال سے پوری طرح باخبر تھا اور آج بھی پوری طرح با خبر ہے۔ لہٰذا کسی شخص کو انکار کی گنجائش نہ رہے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔