(آیت 8،7) ➊ {اِنَّالَّذِيْنَلَايَرْجُوْنَلِقَآءَنَا …:} آخرت کے ذکر کے بعد دو آیتوں میں اس کے منکرین اور پھر اس پر ایمان والوں کا ذکر فرمایا، آخرت کے منکروں کی چار صفات بیان فرمائی ہیں، پہلی صفت {”لَايَرْجُوْنَلِقَآءَنَا“”رَجَاءٌ“} کا لفظ طمع اور خوف دونوں معنوں میں آتا ہے، اس لیے {”لَايَرْجُوْنَ“} کا مطلب ہے کہ وہ اللہ سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے، یا اس سے نہیں ڈرتے، نہ ہی آخرت میں ہونے والے حشر و نشر پر ان کا ایمان ہے۔ دوسری یہ کہ وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہو گئے اور اس پر وہی خوش ہوتا ہے جو پورے کا پورا جسمانی لذات و خواہشات کا اسیر ہو جائے۔ تیسری یہ کہ وہ اس پر مطمئن ہو گئے، مطمئن وہی ہوتا ہے جو اسے اپنی آخری پناہ سمجھ لے، سعادت مند لوگوں کو تو اللہ کے ذکر سے اطمینان ہوتا ہے، کیونکہ ان کی آخری پناہ گاہ وہی ہے، حیاتِ دنیا کے فانی ہونے کی وجہ سے وہ کبھی اس پر مطمئن نہیں ہوتے۔ ➋ { وَالَّذِيْنَهُمْعَنْاٰيٰتِنَاغٰفِلُوْنَ:} چوتھی یہ کہ وہ آسمان و زمین میں موجود بے شمار نشانیوں سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے، نہ ان پر کچھ غورو فکر کرتے ہیں۔ اگر ان آیات سے مراد آیات قرآنی ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ ہمارے احکام سے غفلت برتتے ہیں، نہ ان پر غور کرتے ہیں اور نہ انھیں بجا لاتے ہیں۔ (ابن کثیر) ٹھکانا ان کا ان کے اعمال بد کی وجہ سے آگ ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ جو لوگ ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی [12] پر ہی راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں اور وہ لوگ جو ہماری قدرت کے نشانوں سے غافل ہیں،
[12] روز آخرت پر ایمان نہ ہونے سے اخلاقی اقدار بدل جاتی ہیں:۔
یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ آیات میں غور و فکر کی زحمت ہی گوارہ نہ کریں اور نہ اس کی ضرورت محسوس کریں بس دنیا کی زندگی پر ہی مست رہیں اور اپنی ساری زندگی اسی دنیا کے کاروبار میں منہمک ہو کر گزار دیں تو ایسے لوگوں کو بھلا اخروی زندگی کا یقین کیسے آئے اور چونکہ اللہ نے انسان کو قوت تمیز، عقل اور ارادہ و تصرف کا اختیار عطا کیا ہے لہٰذا جو لوگ عقل کو کام میں نہ لاتے ہوئے بس دنیا میں مگن اور دنیوی مفادات کے لیے ہی سب کچھ کرتے ہیں انہیں اس غفلت کا بدلہ جہنم کی صورت میں مل کر رہے گا۔ اس آیت سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ نیک اعمال صرف وہی لوگ بجا لا سکتے ہیں، جو روز آخرت میں اللہ کے سامنے جواب دہی کے نظریہ پر یقین رکھتے ہوں گویا روز آخرت پر ایمان ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کی صالح طرز زندگی کی عمارت اٹھائی جا سکتی ہے اگر یہ بنیاد کمزور ہو یا موجود ہی نہ ہو تو کوئی ایسی طاقت نہیں جو انسان کو بے راہروی سے محفوظ رکھ سکے۔ اندریں صورت انسان کے اچھے اخلاق یا اعمال کی پہچان صرف یہ رہ جاتی ہے کہ صرف وہ کام اچھا ہے جس کا فائدہ اس کی اپنی ذات کو، اس کی قوم کو یا معاشرہ کو اس دنیا میں پہنچ سکتا ہے غیروں کے لیے ان کے اخلاق و اعمال کی قدریں ہی بدل جاتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نادان و محروم لوگ ٭٭
جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں، جو اس دنیا پر خوش ہو گئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں، اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے، ان کی آخری جگہ جہنم ہے، جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔