ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 53

وَ یَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ؕؔ قُلۡ اِیۡ وَ رَبِّیۡۤ اِنَّہٗ لَحَقٌّ ۚؕؔ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿٪۵۳﴾
اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے؟ تو کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم! یقینا یہ ضرور سچ ہے اور تم ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ En
اور تم سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا یہ سچ ہے۔ کہہ دو ہاں خدا کی قسم سچ ہے اور تم (بھاگ کر خدا کو) عاجز نہیں کرسکو گے
En
اور وه آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا عذاب واقعی سچ ہے؟ آپ فرما دیجئے کہ ہاں قسم ہے میرے رب کی وه واقعی سچ ہے اور تم کسی طرح اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 53) ➊ {وَ يَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ …: نَبَأٌ } بہت بڑی اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ (راغب) { يَسْتَنْبِـُٔوْنَ نَبَأٌ} کے باب استفعال سے طلب کے لیے ہے۔ جب کفار کو ان کے سوال { مَتٰي هٰذَا الْوَعْدُ } کا مذکورہ جواب دیا گیا تو انھوں نے اسی سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ سوال کیا { اَحَقٌّ هُوَ } کیا یہ سچ ہی ہے، یا محض ہمیں ڈرایا جا رہا ہے؟ چونکہ کفار اپنے قیامت کے انکار اور قرآن کے اس کے قیام پر واضح دلائل کی وجہ سے سخت قلق اور پریشانی کا شکار تھے کہ اسے مانیں یا نہ مانیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں یقین دلانے کے لیے تاکید کے کئی الفاظ جمع کرکے فرمایا { قُلْ } آپ ان سے کہہ دیجیے:{اِيْ وَ رَبِّيْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ اِيْ} کا معنی { نَعَمْ } یعنی ہاں ہے، مگر یہ ہمیشہ قسم کے ساتھ آتا ہے، پھر{إِنَّ } تاکید کا ہے، پھر لامِ تاکید ہے کہ ہاں، مجھے اپنے رب کی قسم ہے! یقینا یہ ضرور حق ہے۔ حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے فرمایا، قرآن مجید میں اس جیسی صرف دو اور آیتیں ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے منکروں کو قسم کھا کر کہنے کا حکم دیا، پہلی آیت: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم [سبا: ۳] دوسری آیت: «{ زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْاقُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ [التغابن: ۷]
➋ {وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ:} باء کی وجہ سے نفی کی تاکید کے لیے ترجمہ ہر گز کیا گیا ہے، یعنی نہ تم ہمارے عذاب سے بھاگ کر کہیں جا سکتے ہو کہ ہمیں پکڑنے سے عاجز کر دو اور نہ کسی طرح اسے روک سکتے ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

53۔ 1 یعنی وہ پوچھتے ہیں کہ یہ قیامت اور انسانوں کے مٹی ہوجانے کے بعد ان کا دوبارہ جی اٹھا ایک برحق ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اے پیغمبر! ان سے کہہ دیجئے کہ تمہارا مٹی ہو کر مٹی میں مل جانا، اللہ تعالیٰ کو دوبارہ زندہ کرنے سے عاجز نہیں کرسکتا۔ اس لئے یقینا یہ ہو کر رہے گا۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت کی نظیر قرآن میں مذید صرف دو آیتیں ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ وہ قسم کھا کر قیامت کے وقوع کا اعلان کریں۔ ایک سورة سبا، آیت 13 اور دوسرا سورة تغابن آیت۔ 7۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

53۔ نیز وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ”آیا یہ واقعی [68] سچ ہے؟“ آپ ان سے کہئے: میرے پروردگار کی قسم! یہ بالکل سچ ہے اور تم اسے روک نہیں سکتے
[68] اس سے مراد ہر وہ چیز لی جا سکتی ہے جس کا مشرکین مکہ انکار کر رہے تھے۔ مثلاً قرآن، عذاب الٰہی کا ان پر واقع ہونا، موت کے بعد دوبارہ زندگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزاء و سزا دیا جانا وغیرہ۔ ان کے سوال کا انداز ہی اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ وہ یہ باتیں ماننے کو قطعاً تیار نہ تھے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا کہ آپ پورے وثوق کے ساتھ اپنے پروردگار کی قسم کھا کر اور اسے شاہد بنا کر کہہ دو کہ یہ امور ایسے حقائق ہیں جو ہو کر رہنے والے ہیں اور تم نہ انھیں روک سکتے ہو اور نہ ہی اللہ کے قبضۂ قدرت سے تم فرار کی راہ اختیار کر سکتے ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مٹی ہو نے کے بعد جینا کیسا ہے؟ ٭٭
’ پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہو جانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اُٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تمہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہو جاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ «إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82]‏‏‏‏ ’ یوں ہو جا اسی وقت ہو جاتا ہے ‘ ‘۔ اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔
سورۃ سبا میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم» ۱؎ [34-سبأ:3]‏‏‏‏، سورۃ التغابن میں ہے «قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم» ۱؎ [64-التغابن:7]‏‏‏‏ ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔
«يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ أَفَسِحْرٌ هَـٰذَا أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ» ۱؎ [52-الطور:13-16]‏‏‏‏ ’ جس دن وه دھکے دیدے کر آتش جہنم کی طرف لائیں جائیں گے، یہی وه آتش دوزخ ہے جسے تم جھوٹ بتلاتے تھے، (‏‏‏‏اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو، جاؤ دوزخ میں اب تمہارا صبر کرنا اور نہ کرنا تمہارے لیے یکساں ہے تمہیں فقط تمہارے کیے کا بدلہ دیا جائے گا ‘۔