(آیت 50) {قُلْاَرَءَيْتُمْاِنْاَتٰىكُمْعَذَابُهٗ …:”اَرَءَيْتُمْ“} کا لفظی معنی تو یہی ہے کہ ”کیا تم نے دیکھا“ مگر اہل عرب اس سے مراد {”اَخْبِرُوْنِيْ“} لیتے ہیں، یعنی اگر تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ {”بَيَاتًا“} یعنی رات کو، گھر کو{ ”بَيْتٌ“} اسی لیے کہتے ہیں کہ آدمی وہاں رات گزارتا ہے۔ یہ ان کے سوال {”مَتٰيهٰذَاالْوَعْدُ“} کا دوسرا جواب ہے، یعنی اگر بالفرض عذاب رات سوتے ہوئے یا دن کی مصروفیت میں یک لخت آگیا تو وہ کون سی میٹھی اور خوش گوار چیز ہے کہ مجرم جلد از جلد اس کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ تو نہایت تلخ اور ناقابل برداشت چیز ہے، اس کے آنے کے بعد ایمان لانا فائدہ مند نہیں ہو سکے گا اور آخرت میں دائمی عذاب سامنے ہے، پس جب حالت یہ ہے تو اس کے آنے کی کیوں جلدی مچا رہے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
50۔ 1 یعنی عذاب تو ایک نہایت ہی ناپسندیدہ چیز ہے جس سے دل نفرت کرتے ہیں اور طبیعتیں انکار کرتی ہیں، پھر یہ اس میں کیا خوبی دیکھتے ہیں اور اس کو جلدی طلب کرتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ آپ ان سے پوچھئے: ذرا سوچو تو اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو یا دن کو آ جائے تو پھر مجرم لوگ آخر [66] کس چیز کی جلدی مچا رہے ہیں
[66] یعنی عذاب کے آنے میں ایسی کون سی مزے اور خوشی کی بات ہے جس کی وجہ سے مجرم اسے جلد طلب کر رہے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ تعجب کا مقام ہے کہ مجرم کیسی خوفناک چیز کے لیے جلدی مچا رہے ہیں حالانکہ ایک مجرم کے لائق تو یہ تھا کہ وہ ملنے والی سزا کے تصور سے کانپ اٹھتا اور ڈر کے مارے ہلاک ہو جاتا۔ اور ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب آجائے گا تو اس وقت یہ لوگ جلد جلد اپنا کیا بچاؤ کر سکیں گے؟ یہ عذاب طلب کرنے والوں کے لیے تیسرا جواب ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔