قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَلَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾
کہہ دے میں اپنی ذات کے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے۔ ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، جب ان کا وقت آپہنچتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے رہتے ہیں اور نہ آگے بڑھتے ہیں۔
En
کہہ دو کہ میں اپنے نقصان اور فائدے کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ مگر جو خدا چاہے۔ ہر ایک امت کے لیے (موت کا) ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھی دیر نہیں کرسکتے اور نہ جلدی کرسکتے ہیں
En
آپ فرما دیجئے کہ میں اپنی ذات کے لیے تو کسی نفع کا اور کسی ضرر کا اختیار رکھتا ہی نہیں مگر جتنا اللہ کو منظور ہو۔ ہر امت کے لیے ایک معین وقت ہے جب ان کا وه معین وقت آپہنچتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے سرک سکتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 49) ➊ {قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ:} یعنی یہ تعیین میرے اختیار میں نہیں، بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہر امت کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وقت مقرر ہے، جب وہ آ جائے گا پھرایک لمحے کا آگا پیچھا نہیں ہو گا۔
➋ {قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ …:} یعنی تمھاری موت کا وقت یا عذاب آنے کا وقت سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے، جب چاہے گا تم پر عذاب بھیجے گا اور جب تک نہیں چاہے گا نہیں بھیجے گا۔ رہا تمھارا مجھ سے اصرار تو میں تمھیں کیا بتاؤں، میں تو خود اپنی ذات کے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے، میرے اختیار میں ہوتا تو تم پر کبھی کا عذاب آ چکا ہوتا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۵۷، ۵۸) قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ ہے جو مصیبتوں اور مشکل کی گھڑیوں میں، جنھیں اللہ کے سو اکوئی نہیں ٹال سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کرتے ہیں، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں چاہتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پورا نہیں کر سکتا۔ یہ مقام صرف رب العالمین کا ہے جس نے تمام انبیاء، صالحین اور مخلوقات کو پیدا فرمایا، وہی انھیں روزی اور زندگی بخشتا ہے اور جب چاہتا ہے اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے، پھر کسی نبی یا فرشتے یا کسی نیک سے نیک بندے سے کسی ایسی چیز کی درخواست کیونکر کی جا سکتی ہے جس پر اسے قدرت ہی حاصل نہیں؟ اس آیت میں نصیحت کا خاص پہلو یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو تمام بنی آدم کے سردار اور تمام انبیاء سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہ ہونے کی صراحت فرما دی ہے تو کوئی ولی یا امام یا پیر اپنے یا کسی دوسرے کے نفع نقصان کا مالک کیونکر ہو سکتا ہے؟ سخت تعجب کا مقام ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ، جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں، مردوں کی قبروں پر جھکتے اور ان سے ایسی ایسی مرادیں طلب کرتے ہیں جنھیں پورا کرنے کی قدرت اللہ کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔ یہ صریحاً شرک اور کلمہ{” لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ “} کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس سے بڑھ کر افسوس ان کے علماء و مشائخ پر ہے جو انھیں اس کام سے منع نہیں کرتے۔ یہ وہی جاہلیت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عربوں میں پائی جاتی تھی، بلکہ اس کا معاملہ اس جاہلیت سے بھی زیادہ سخت ہے، کیونکہ عرب مشرکین نفع نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھتے تھے اور بتوں کو صرف اپنا سفارشی خیال کرتے تھے، مگر یہ لوگ تو قبروں والوں کو نفع نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اور کبھی ان کو علیحدہ اور کبھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اس امت میں کتنے ہی لوگ ہیں جنھیں شیطان مردود نے اس ذریعے سے کفر کی راہ پر ڈال دیا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہوئے اس پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں کہ «{ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا }» [الکہف: ۱۰۴] ”وہ بڑا نیک کام کر رہے ہیں۔“ [فَإنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ] اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے۔ آمین! (مختصر از شوکانی)
➋ {قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ …:} یعنی تمھاری موت کا وقت یا عذاب آنے کا وقت سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت اور مرضی پر موقوف ہے، جب چاہے گا تم پر عذاب بھیجے گا اور جب تک نہیں چاہے گا نہیں بھیجے گا۔ رہا تمھارا مجھ سے اصرار تو میں تمھیں کیا بتاؤں، میں تو خود اپنی ذات کے لیے نہ کسی نقصان کا مالک ہوں اور نہ کسی نفع کا، مگر جو اللہ چاہے، میرے اختیار میں ہوتا تو تم پر کبھی کا عذاب آ چکا ہوتا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۵۷، ۵۸) قاضی شوکانی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ ہے جو مصیبتوں اور مشکل کی گھڑیوں میں، جنھیں اللہ کے سو اکوئی نہیں ٹال سکتا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کرتے ہیں، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیزیں چاہتے ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پورا نہیں کر سکتا۔ یہ مقام صرف رب العالمین کا ہے جس نے تمام انبیاء، صالحین اور مخلوقات کو پیدا فرمایا، وہی انھیں روزی اور زندگی بخشتا ہے اور جب چاہتا ہے اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے، پھر کسی نبی یا فرشتے یا کسی نیک سے نیک بندے سے کسی ایسی چیز کی درخواست کیونکر کی جا سکتی ہے جس پر اسے قدرت ہی حاصل نہیں؟ اس آیت میں نصیحت کا خاص پہلو یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو تمام بنی آدم کے سردار اور تمام انبیاء سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے کسی نقصان یا نفع کا مالک نہ ہونے کی صراحت فرما دی ہے تو کوئی ولی یا امام یا پیر اپنے یا کسی دوسرے کے نفع نقصان کا مالک کیونکر ہو سکتا ہے؟ سخت تعجب کا مقام ہے کہ پھر بھی کچھ لوگ، جو اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں، مردوں کی قبروں پر جھکتے اور ان سے ایسی ایسی مرادیں طلب کرتے ہیں جنھیں پورا کرنے کی قدرت اللہ کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔ یہ صریحاً شرک اور کلمہ{” لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ “} کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور اس سے بڑھ کر افسوس ان کے علماء و مشائخ پر ہے جو انھیں اس کام سے منع نہیں کرتے۔ یہ وہی جاہلیت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عربوں میں پائی جاتی تھی، بلکہ اس کا معاملہ اس جاہلیت سے بھی زیادہ سخت ہے، کیونکہ عرب مشرکین نفع نقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ کو سمجھتے تھے اور بتوں کو صرف اپنا سفارشی خیال کرتے تھے، مگر یہ لوگ تو قبروں والوں کو نفع نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اور کبھی ان کو علیحدہ اور کبھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اس امت میں کتنے ہی لوگ ہیں جنھیں شیطان مردود نے اس ذریعے سے کفر کی راہ پر ڈال دیا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہوئے اس پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں کہ «{ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا }» [الکہف: ۱۰۴] ”وہ بڑا نیک کام کر رہے ہیں۔“ [فَإنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ] اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے۔ آمین! (مختصر از شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
49۔ 1 یہ مشرکین کے عذاب الٰہی مانگنے پر کہا جا رہا ہے کہ میں تو اپنے نفس کے لئے بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ چہ جائیکہ کہ میں کسی دوسرے کو نقصان یا نفع پہنچا سکوں، ہاں سارا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی مشیت کے مطابق ہی کسی کو نفع یا نقصان پہنچانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ نے ہر امت کے لئے ایک وقت مقرر کیا ہوا ہے، اس وقت تک مہلت دیتا ہے۔ لیکن جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر وہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکتے ہیں نہ آگے سرک سکتے ہیں۔ تنبیہ: یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ جب افضل الخلائق سید الرسل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں، تو آپ کے بعد انسانوں میں اور کون سی ہستی ایسی ہوسکتی ہے جو کسی کی حاجت برآری اور مشکل کشائی پر قادر ہو؟ اسی طرح خود اللہ کے پیغمبر سے مدد مانگنا، ان سے فریاد کرنا " یا رسول اللہ مدد " اور اغثنی یارسول اللہ " وغیرہ الفاظ سے استغاثہ واستعانت کرنا، کسی طرح بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ قرآن کی اس آیت اور اس قسم کی دیگر واضح تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ شرک کے ذیل میں آتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
49۔ آپ ان سے کہئے کہ: مجھے تو اپنے بھی نفع و نقصان کا کچھ اختیار نہیں مگر جو اللہ کی مشیت ہو، ہر امت کے لئے مہلت کی ایک مدت ہے جب ان کی یہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو پھر ایک گھڑی کی تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭
ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں ‘۔
وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ’ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے ‘۔
«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» ۱؎ [63-المنافقون:11] ’ جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ وہ تو اچانک آنے والی ہے ‘ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔
«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدہ:12] ’ اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں ‘۔
«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ ‘۔
انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔
وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ’ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے ‘۔
«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» ۱؎ [63-المنافقون:11] ’ جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ وہ تو اچانک آنے والی ہے ‘ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔
«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدہ:12] ’ اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں ‘۔
«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ ‘۔
انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔