وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۸﴾
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔
En
اور یہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعدہ (ہے وہ آئے گا) کب؟
En
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ وعده کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 48) {وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ …:} جب مخلوق کو دوبارہ زندہ کرنے اور ان کا محاسبہ کرنے کے خلاف کفار کے پاس کوئی دلیل نہ رہ جاتی تو ان کا آخری تیر یہ تھا کہ لاؤ وہ قیامت، وہ عذا ب لاتے کیوں نہیں، یہ وعدہ جو تم کرتے ہو کب پورا ہو گا؟ اس کا جواب تو واضح ہے کہ جب معلوم ہو کہ امتحان ہونا یقینی ہے، پھر آدمی محض اس لیے تیاری نہ کرے یا اس کا انکار کرے کہ اس کی تاریخ بتاؤ، ڈیٹ شیٹ کیا ہے، تو ایسے آدمی کی بے عقلی میں کیا شبہ ہے۔ مگر ان کے اصرار پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جواب دینے کے لیے کہا جو اگلی آیت میں ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ نیز وہ یہ پوچھتے ہیں کہ: ”اگر تم سچے ہو تو جو دھمکی [65] ہمیں دے رہے ہو وہ کب پوری ہو گی؟“
[65] عذاب کے وعدہ پر کافروں کا مذاق اور اس کا جواب:۔
کافروں کو دھمکی یہ دی گئی تھی کہ اگر وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کریں گے تو انھیں ذلت اور رسوائی نصیب ہو گی اور بالآخر اسلام کا بول بالا ہو گا لیکن کافروں کی سمجھ میں یہ بات آہی نہیں سکتی تھی کہ یہ مٹھی بھر ستم رسیدہ اور بے سر و سامان مسلمان کسی وقت ان پر غالب آ جائیں گے لہذا وہ از راہ تمسخر مسلمانوں سے پوچھتے تھے کہ بھئی اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو ایسا وعدہ کب پورا ہو گا؟ ان کے اس تمسخر کا جواب اللہ نے دو طرح سے دیا ہے۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو اپنے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر صرف اتنا ہی جتنا اللہ کو منظور ہوتا ہے پھر میں تم پر کیا عذاب ڈھا سکتا ہوں؟ عذاب دینا اللہ کا کام ہے میرا نہیں اور نہ ہی میں نے کوئی ایسا دعویٰ کیا ہے کہ میں تمہیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا یا فلاں وقت عذاب آئے گا ہاں جب اللہ کی مشیئت ہو گی تو تم پر ایسا عذاب آکے رہے گا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ عذاب دینے کے متعلق بھی اللہ کا ایک قانون ہے جو یہ ہے کہ اللہ کسی کے گناہوں پر فوراً گرفت کر کے اس پر عذاب ڈھا کر اسے تباہ نہیں کر دیتا بلکہ اس کو سنبھلنے کے لیے مہلت دیئے جاتا ہے پھر جب بار بار کی تنبیہ کے باوجود وہ راہ راست پر نہیں آتا تو اس وقت اس پر عذاب آتا ہے وہ وقت کب ہوتا ہے یہ اللہ ہی جانتا ہے اور جب عذاب کا وقت آجاتا ہے تو پھر اس میں قطعاً تقدیم و تاخیر نہیں ہو سکتی۔ عذاب کا معین وقت بتلا دینا اللہ کے دستور کے خلاف ہے یا جیسا کہ کسی کی موت یا قیامت کا وقت معین بھی بتلانا دستور کے خلاف ہے اس لیے کہ اس طرح یہ دنیا دار الامتحان نہ رہے گی جبکہ اللہ کی مشیئت یہی ہے کہ انسان کے لیے یہ دنیا دار الامتحان اور دار العمل ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بے معنی سوال کرنے والوں کو جواب ٭٭
ان کا بے فائدہ سوال دیکھو، وعدہ کا دن کب آئے گا؟ «يَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِهَا وَالَّذِينَ آمَنُوا مُشْفِقُونَ مِنْهَا وَيَعْلَمُونَ أَنَّهَا الْحَقُّ» ۱؎ [42-الشورى:18] ’ یہ پوچھتے ہیں اور پھر وہ بھی نہ ماننے اور انکار کے بعد بطور یہ جلدی مچا رہے ہیں اور مومن خوف زدہ ہو رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں ‘۔
وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ’ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے ‘۔
«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» ۱؎ [63-المنافقون:11] ’ جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ وہ تو اچانک آنے والی ہے ‘ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔
«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدہ:12] ’ اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں ‘۔
«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ ‘۔
انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔
وقت نہ معلوم ہو نہ سہی جانتے ہیں کہ بات سچی ہے ایک دن آئے گا ضروری۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ انہیں جواب دے کہ ’ میرے اختیار میں تو کوئی بات نہیں۔ جو بات مجھے بتلا دی جائے میں تو وہی جانتا ہوں۔ کسی چیز کی مجھ میں قدرت نہیں یہاں تک کہ خود اپنے نفع نقصان کا بھی میں مالک نہیں۔ میں تو اللہ کا غلام ہوں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے مجھ سے فرمایا میں نے تم سے کہا کہ قیامت آئے گی ضرور۔ نہ اس نے مجھے اس کا خاص وقت بتایا نہ میں تمہیں بتا سکوں ہاں ہر زمانے کی ایک معیاد معین ہے ‘۔
«وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّـهُ نَفْسًا إِذَا جَاءَ أَجَلُهَا» ۱؎ [63-المنافقون:11] ’ جہاں اجل آئی پھر نہ ایک ساعت پیچھے نہ آگے اجل آنے کے بعد نہیں رکتی ‘۔
پھر فرمایا کہ ’ وہ تو اچانک آنے والی ہے ‘ ممکن ہے رات کو آ جائے دن کو آ جائے اس کے عذاب میں دیر کیا ہے؟ پھر اس شور مچانے سے اور وقت کا تعین پوچھنے سے کیا حاصل؟ کیا جب قیامت آ جائے عذاب دیکھ لو تب ایمان لاؤ گے؟ وہ محض بے سود ہے۔
«رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدہ:12] ’ اس وقت تو یہ سب کہیں گے کہ ہم نے دیکھ سن لیا۔ کہیں گے ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور دوسرے سے کفر کرتے ہیں ‘۔
«فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّـهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّـهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [40-غافر:84-85] ’ لیکن ہمارے عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان بے نفع ہے۔ اللہ کا طریقہ اپنے بندوں میں یہی رہا ہے وہاں تو کافروں کو نقصان ہی رہے گا۔ اس دن تو ان سے صاف کہہ دیا جائے گا اور بہت ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ کہ اب تو دائمی عذاب چکھو، ہمیشہ کی مصیبت اٹھاؤ ‘۔
انہیں دھکے دیدے کر جہنم میں جھونک دیا جائے گا کہ یہ ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔ اب بتاؤ کہ یہ جادو ہے یا تم اندھے ہو؟ جاؤ اب اس میں چلے جاؤ اب تو صبر کرنا نہ کرنا برابر ہے اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پاؤ گے۔