ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 40

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یُّؤۡمِنُ بِہٖ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّا یُؤۡمِنُ بِہٖ ؕ وَ رَبُّکَ اَعۡلَمُ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۴۰﴾
اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے اور تیرا رب فساد کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔ En
اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمھارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے
En
اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو اس پر ایمان لے آئیں گے اور بعض ایسے ہیں کہ اس پر ایمان نہ ﻻئیں گے۔ اور آپ کا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40) ➊ { وَ مِنْهُمْ مَّنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا يُؤْمِنُ بِهٖ:} یعنی ان کفار میں دو طرح کے لوگ ہیں، بعض ایسے ہیں جنھیں یقینی طور پر معلوم ہے کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس جیسی معجز تصنیف کر لینا کسی انسان کے بس میں نہیں ہے، مگر وہ ہٹ دھرمی سے اسے جھٹلائے جا رہے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو بالکل عقل کے اندھے اور سمجھ کے کورے ہیں، انھیں اس قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا واقعی یقین نہیں ہے۔ اس آیت کا ایک ترجمہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بعض وہ ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لے آئیں گے اور ان میں سے کچھ وہ ہیں جو اس پر ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ کفر پر قائم رہیں گے۔ یہ مطلب بھی درست ہے۔
➋ { وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِيْنَ:} جو خواہ مخواہ تعصب اور ہٹ دھرمی سے قرآن کے برحق ہونے سے انکار کیے جا رہے ہیں، حالانکہ وہ اپنے دل میں اس کے برحق ہونے کا یقین رکھتے ہیں، یا تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ان میں سے کفر پر اڑا رہے گا اور کون اس کفر سے باز آ جائے گا۔ گویا مفسدین کا معنی ہے مسلمان نہ ہونے والے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

40۔ 1 وہ خوب جانتا ہے کہ ہدایت کا مستحق کون ہے؟ اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور گمراہی کا مستحق کون ہے اس کے لئے گمراہی کا راستہ چوپٹ کھول دیتا ہے۔ وہ عادل ہے، اس کے کسی کام میں شک نہیں۔ جو جس بات کا مستحق ہوتا ہے، اس کے مطابق وہ چیز اس کو عطا کردیتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

40۔ اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ نہیں لاتے اور آپ کا پروردگار ان مفسدوں [57] کو خوب جانتا ہے
[57] ایمان نہ لانے والے مفسد اس لحاظ سے ہوتے ہیں کہ وہ اللہ کے کسی حکم کی پروا نہیں کرتے اور یہی بات فساد کی سب سے بڑی جڑ ہے علاوہ ازیں وہ اسلام لانے والوں کو تکلیفیں بھی پہنچاتے ہیں اور اسلام کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے سلسلہ میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔