(آیت 33) {كَذٰلِكَحَقَّتْكَلِمَتُرَبِّكَ …:} یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کا رب ہونا ثابت ہوا، یا جس طرح یہ ثابت ہوا کہ حق کے بعد گمراہی کے سواکچھ نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ جو لوگ فسق اختیار کریں، یعنی جان بوجھ کر ضد اور سرکشی اختیار کریں وہ ایمان نہیں لایا کرتے۔ شاہ عبد القادررحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”یعنی چونکہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ لوگ سرکش اور نافرمان ہوں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسمت میں ایمان لکھا ہی نہیں۔“ (موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
33۔ 1 یعنی جس طرح مشرکین تمام تر اعتراف کے باوجود اپنے شرک پر قائم ہیں اور اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ اسی طرح تیرے رب کی بات ثابت ہوگئی کہ ایمان والے نہیں ہیں، کیونکہ یہ غلط راستہ چھوڑ کر صحیح راستہ اختیار کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں تو ہدایت اور ایمان انہیں کس طرح نصیب ہوسکتا ہے؟ یہ وہی بات ہے جسے دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا گیا ہے (وَلٰكِنْحَقَّتْكَلِمَةُالْعَذَابِعَلَيالْكٰفِرِيْنَ) 39۔ الزمر:71) لیکن عذاب کی بات کافروں پر ثابت ہوگئی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ اس طرح آپ کے پروردگار کی بات ان بد کرداروں پر صادق آ گئی کہ وہ کبھی ایمان [48] نہ لائیں گے
[48] یعنی ایسے لوگ جو حقائق کے مقابلہ پر محض ضد اور تعصب سے کام لے رہے ہوں ان کے متعلق اللہ کا یہی فیصلہ ہوا کرتا ہے کہ جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں وہ کبھی راہ راست پر نہیں آ سکتے اور نہ ہی انہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔