ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 20

وَ یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ۚ فَقُلۡ اِنَّمَا الۡغَیۡبُ لِلّٰہِ فَانۡتَظِرُوۡا ۚ اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿٪۲۰﴾
اور وہ کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی؟ سو کہہ دے غیب تو صرف اللہ کے پاس ہے، پس انتظار کرو، بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔ En
اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا کو ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
En
اور یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان پر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی؟ سو آپ فرما دیجئے کہ غیب کی خبر صرف اللہ کو ہے سو تم بھی منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) ➊ {وَ يَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ:} مثلاً یہ مکہ کے سب پہاڑ سونے کے کر دیتا، ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا، یا کوئی فرشتہ اتار دیتا جو اس کے ساتھ بازاروں اور گلی کوچوں میں چل پھر کر اعلان کرتا کہ واقعی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اللہ ہی نے اپنا پیغمبر بنا کر دنیا میں بھیجا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل (۹۰تا ۹۳) میں ان کی معجزوں کی کئی فرمائشیں ذکر ہوئی ہیں۔
➋ { فَقُلْ اِنَّمَا الْغَيْبُ لِلّٰهِ …:} یعنی اللہ کے سوا کوئی غیب کی بات نہیں جانتا، لہٰذا مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس قسم کی کوئی نشانی اتارے گا کہ نہیں اور اگر اتارے گا تو کب اتارے گا۔ نشانی اتارنا یا نہ اتارنا اس کی مرضی پر موقوف ہے، اگر تم سمجھتے ہو کہ وہ نشانی اتارے گا تب تم ایمان لاؤ گے تو بیٹھے انتظار کرتے رہو، میں بھی دیکھوں گا تمھارا یہ مطالبہ پورا ہوتا ہے یا نہیں۔ (مگر تمھارے جیسے لوگوں کے متعلق تجربہ یہی ہے کہ وہ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے، بلکہ ایمان نہ لانے کا بہانہ بنانے کے لیے معجزے کو بھی جھٹلا دیتے ہیں۔ دیکھیے انعام: ۷، ۱۱۱۔ بنی اسرائیل: ۵۹)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20۔ 1 اس سے مراد کوئی بڑا اور واضح معجزہ، جیسے قوم ثمود کے لئے اونٹنی کا ظہور ہوا ان کے لئے صفا پہاڑی سونے کا یا مکہ کے پہاڑوں کو ختم کرکے ان کی جگہ نہریں اور باغات بنانے کا یا اور اس قسم کا کوئی معجزہ صادر کرکے دکھلایا جائے۔ 20۔ 2 یعنی اگر اللہ چاہے تو ان کی خواہشات کے مطابق وہ معجزے تو ظاہر کرکے دکھا سکتا ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی اگر وہ ایمان نہ لائے تو پھر اللہ کا قانون یہ ہے کہ ایسی قوم کو فوراً وہ ہلاک کردیتا ہے۔ اس لئے اس بات کا علم صرف اسی کو ہے کہ کسی قوم کے لئے اس کی خواہشات کے مطابق معجزے ظاہر کردیتا اس کے حق میں بہتر ہے یا نہیں؟ اور اس طرح اس بات کا علم بھی صرف اسی کو ہے کہ ان کے مطلوبہ معجزے اگر ان کو دکھائے گئے تو انہیں، کتنی مہلت دی جائے گی، اسی لئے آگے فرمایا، ' تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ نیز کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ [32] کیوں نہیں اتارا گیا؟“ آپ ان سے کہئے کہ غیب کے امور تو اللہ کے اختیار میں ہیں لہذا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
[32] کفار مکہ کا حسی معجزہ کا مطالبہ:۔
معجزہ سے مراد ایسا حسی معجزہ ہے جس کا کفار مطالبہ کر رہے تھے۔ مثلاً یہ کہ فلاں پہاڑ سونے کا بن جائے یا اس سرزمین سے کوئی چشمہ پھوٹ نکلے یا ہمارے گزرے ہوئے آباء و اجداد زندہ ہو کر ہمارے سامنے آکر ہمیں حقیقت حال سے مطلع کریں وغیرہ وغیرہ۔ ان کا مطالبہ کچھ اس لیے نہ تھا کہ جونہی وہ معجزہ دیکھ لیں گے تو فوراً ایمان لے آئیں گے بلکہ یہ محض ایمان نہ لانے کا بہانہ تھا ورنہ وہ کئی معجزات ایسے دیکھ چکے تھے جو ایمان لانے کے لیے بہت کافی تھے مثلاً ان میں سر فہرست قرآن بذات خود ایک ایسا معجزہ تھا۔ ان کافروں کے مطالبہ معجزہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہیے کہ جو نشانیاں آ چکیں وہ تم نے بھی دیکھ لی ہیں اور میں نے بھی۔ اور جو ابھی آنے والی ہیں ان کا مجھے بھی کچھ علم نہیں۔ کیونکہ میں غیب کی باتیں نہیں جانتا لہٰذا تم بھی ایسی آنے والی نشانی کا انتظار کرو اور میں بھی کرتا ہوں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی کئی نشانیاں دکھلا دیں۔ مثلاً ان کی خواہشات اور پیہم رکاوٹوں کے علی الرغم اسلام کا بول بالا ہوا، مسلمانوں کو اکثر جنگوں میں تائید الٰہی میسر آتی رہی اور کافر ہر میدان میں پٹتے اور ذلیل و خوار ہوتے رہے تا آں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک جزیرہ عرب سے کفر و شرک کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ثبوت صداقت مانگنے والے ٭٭
کہتے ہیں کہ اگر یہ سچا نبی ہے تو جیسے آل ثمود کو اونٹنی ملی تھی انہیں ایسی کوئی نشانی کیوں نہیں ملی؟ چاہیئے تھا کہ یہ صفا پہاڑ کوسونا بنا دیتا یا مکے کے پہاڑوں کو ہٹا کر یہاں کھیتیاں باغ اور نہریں بنا دیتا۔ گو اللہ کی قدرت اس سے عاجز نہیں لیکن اس کی حکمت کا تقاضا وہی جانتا ہے۔
آیت میں ہے «تَبَارَكَ الَّذِي إِن شَاءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّن ذَٰلِكَ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَيَجْعَل لَّكَ قُصُورًا بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:10]‏‏‏‏ ’ اگر وہ چاہے تو اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے باغات اور نہریں بنا دے لیکن یہ پھر بھی قیامت کے منکر ہی رہیں گے اور آخر جہنم میں جائیں گے ‘۔
آیت میں ہے «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا» ۱؎ [17-الإسراء:59]‏‏‏‏ ’ اگلوں نے بھی ایسے معجزے طلب کئے دکھائے گئے پھر بھی جھٹلایا تو عذاب اللہ آگئے ‘۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی فرمایا گیا تھا کہ ’ اگر تم چاہو تو میں ان کے منہ مانگے معجزے دکھا دوں لیکن پھر بھی یہ کافر رہے تو غارت کر دیئے جائیں گے اور اگر چاہو تو مہلت دوں ‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حلم و کرم سے دوسری بات ہی اختیار کی۔ یہاں حکم ہوتا ہے کہ ’ غیب کا علم اللہ ہی کو ہے تمام کاموں کا انجام وہی جانتا ہے۔ تم ایمان نہیں لاتے تو نتیجے کے منتظر رہو۔ دیکھو میرا کیا ہوتا ہے اور تمہارا کیا ہوتا ہے؟ ‘ آہ! کیسے بدنصیب تھے جو مانگتے تھے اس سے بدرجہا بڑھ کر دیکھ چکے تھے اور سب معجزوں کو جانے دو چاند کو ایک اشارے سے دو ٹکڑے کر دینا ایک ٹکڑے کا پہاڑ کے اس طرف اور دوسرے کا اس طرف چلے آنا کیا یہ معجزہ کس طرح اور کس معجزے سے کم تھا؟ لیکن چونکہ ان کا یہ سوال محض کفر کی بنا پر تھا ورنہ یہ بھی اللہ دکھا دیتا جن پر عذاب عملاً آ جاتا ہے وہ چاہے دنیا بھر کے معجزے دیکھ لیں انہیں ایمان نصیب نہیں ہوتا۔
آیت میں ہے «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:96،97]‏‏‏‏ یعنی ’ جن لوگوں کے بارے میں خدا کا حکم (‏‏‏‏عذاب) قرار پاچکا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے، جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں خواہ ان کے پاس ہر (‏‏‏‏طرح کی) نشانی آ جائے۔
اگر ان پر فرشتے اترتے اگر ان سے مردے باتیں کرتے اگر ہر ایک چیز ان کے سامنے کر دی جاتی پھر بھی انہیں تو ایمان نصیب نہ ہوتا اسی کا بیان آیت «وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا مِّنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِيهِ يَعْرُجُونَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَّسْحُورُونَ» ۱؎ [14-الحجر:14،15]‏‏‏‏، اور آیت «وَإِن يَرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَّرْكُومٌ» ۱؎ [52-الطور:44]‏‏‏‏، اور آیت «وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [6-الأنعام:7]‏‏‏‏ میں بھی ہوا ہے۔
پس ایسے لوگوں کو ان کے منہ مانگے معجزے دکھانے بھی بے سود ہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے تو کفر پر گرہ لگا لی ہے۔ اس لیے فرما دیا کہ ’ آگے چل کر دیکھ لینا کہ کیا ہوتا ہے ‘۔