اس آیت کی تفسیر آیت 102 میں تا آیت 104 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
103۔ پھر ہم رسولوں اور ایمان لانے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ یہی ہمارا طریقہ ہے کہ مومنوں کو بچا لینا [111] ہمارے ذمہ ہوتا ہے
[111] رسول پر ایمان لانے والوں کو عذاب سے بچانا اللہ کی ذمہ داری ہے:۔
اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ جب کسی مجرم قوم پر اپنے رسول کی تکذیب کی وجہ سے عذاب نازل کرتا ہے تو وہ وحی کے ذریعہ اس عذاب کی آمد سے رسول کو مطلع کر دیتا ہے اور اس عذاب سے بچاؤ کی صورت بھی سمجھا دیتا ہے۔ اس طرح رسول اور اس پر ایمان لانے والے تو اس عذاب سے بچ جاتے ہیں اور مجرمین اس عذاب سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس آیت میں در اصل اہل مکہ کو انتباہ ہے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی مخالفت میں، اسلام کی راہ روکنے اور مسلمانوں کو اذیتیں پہچانے میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے اور انھیں بتلانا یہ مقصود تھا کہ تمہارا بھی وہی حشر ہونے والا ہے جو سابقہ مجرموں کا ہو چکا ہے اور ان کمزور اور ستم رسیدہ مسلمانوں کو تمہاری چیرہ دستیوں سے بچانا اور انھیں تم پر غالب کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔