ترجمہ و تفسیر — سورۃ يونس (10) — آیت 102

فَہَلۡ یَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَیَّامِ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ قُلۡ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾
تو یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے ان لوگوں کے سے ایام کے جو ان سے پہلے گزر چکے ۔ کہہ دے پس انتظار کرو، یقینا میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔ En
سو جیسے (برے) دن ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں اسی طرح کے (دنوں کے) یہ منتظر ہیں۔ کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
En
سو وه لوگ صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اچھا تو تم انتظار میں رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 103،102) {فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ:} یعنی کیا یہ مشرکین چاہتے ہیں کہ ان پر گزشتہ قوموں کی طرح عذاب آ جائے؟ فرمایا، ٹھیک ہے تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظا رکرنے والوں میں شامل ہوں، مگر یاد رکھو کہ پھر عذاب آنے پر اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو اور ایمان والوں کو ہرحال میں عذاب سے بچا لیتا ہے اور یہ اللہ پر حق ہے کہ وہ مومنوں کو ضرور ہی بچا لیتا ہے۔ بطور مثال دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۱۸) میں قوم عاد و ثمود کے عذاب میں سے ایمان اور تقویٰ والوں کو بچا لینے کا ذکر۔ اس سے معلوم ہوا کہ جتنا بڑا عذاب بھی آ جائے اہل خیر کا وجود زمین میں ہمیشہ رہتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

12۔ 1 یعنی یہ لوگ، جن پر کوئی دلیل اور دھمکی اثر انداز نہیں ہوتی، لہذا ایمان نہیں لاتے۔ کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی تاریخ دہرائی جائے جن سے پچھلی امتیں گزر چکی ہیں۔ یعنی اہل ایمان کو بچا کر (جیسا کہ اگلی آیت میں وضاحت ہے) باقی سب کو ہلاک کردیا جاتا تھا۔ اگر اسی بات کا انتظار ہے تو ٹھیک ہے، تم بھی انتظار کرو، میں بھی انتظار کر رہا ہوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

102۔ کیا یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان پر ویسے ہی (برے) دن آئیں۔ جیسے ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں پر آچکے ہیں؟ آپ ان سے کہئے: اچھا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے [110] ساتھ انتظار کرتا ہوں
[110] ایسے لوگ اس وقت تک ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتے جب تک کہ وہ عذاب کی شکل میں اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھ نہ لیں۔ سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرنا ان کے لیے خارج از بحث ہوتا ہے کیونکہ وہ ایسے انجام کی بھی مادی توجیہات تلاش کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کو سمجھانا بھی بے سود ہی ثابت ہوتا ہے ایسے لوگوں کو یہی جواب مناسب ہوتا ہے کہ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں تا آنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کی کوئی ایسی صورت پیدا کر دے جس سے ہر ایک کو یہ معلوم ہو جائے کہ دونوں فریقوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ اور ایسا فیصلہ عموماً منکرین حق پر عذاب الٰہی کی صورت میں ہی ہوا کرتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دعوت غور و فکر ٭٭
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بے شمار ہیں۔ ستارے سورج، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی، کبھی راتوں کاچھوٹا ہو جانا، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن و زینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہو جانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا، اناج اور کھیتی کا اگنا، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا، جن کی شکلیں جدا گانہ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا، ان میں چھوٹی بڑی کشتیوں کا چلنا، یہ اس رب قدیر کی قدرتوں کے نشان کیا تمہاری رہبری، اس کی توحید اس کی جلالت اس کی عظمت اس کی یگانگت اس کی وحدت اس کی عبادت، اس کی اطاعت، اس کی ملکیت کی طرف نہیں کرتی؟
یقین مانو نہ اس کے سوا کوئی پروردگار، نہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت ہے درحقیقت بے ایمانوں کے لیے اس سے زیادہ نشانیاں بھی بےسود ہیں۔ آسمان ان کے سر پر اور زمین ان کے قدموں میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سامنے، دلیل و سند ان کے آگے، لیکن یہ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ ان پر کلمہ عذاب صادق آ چکا ہے۔ یہ تو عذاب کے آجانے سے پہلے مومن نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے اور انہی کٹھن دنوں کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے گزر چکے ہیں۔ اچھا انہیں انتظار کرنے دے اور تو بھی انہیں اعلان کر کے منتظر رہ۔ انہیں ابھی معلوم ہو جائے گا۔ یہ دیکھ لیں گے کہ ہم اپنے رسولوں اور سچے غلاموں کو نجات دیں گے۔ یہ ہم نے خود اپنے نفس کریم پر واجب کر لیا ہے۔ جیسے آیت میں ہے کہ «كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ» ۱؎ [6-الأنعام:35]‏‏‏‏ ’ تمہارے پروردگار نے اپنے نفس پر رحمت لکھ لی ہے ‘۔
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب لکھی ہے جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آچکی ہے }۔ [صحیح بخاری:7404]‏‏‏‏