وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
اورکسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے اور وہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو نہیں سمجھتے۔
En
حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے
En
حاﻻنکہ کسی شخص کا ایمان ﻻنا اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بے عقل لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 100) ➊ { وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ:} یعنی جس طرح تکوینی طور پر دنیا کی کوئی نعمت کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی، یعنی دنیا کی نعمتوں میں بھی اگرچہ آدمی کی محنت کا دخل ہے، مگر اللہ کے اذن کے بغیر کوئی محنت نہ ہو سکتی ہے اور نہ نتیجہ خیز ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو ایمان کی نعمت حاصل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار بھی اللہ کے اذن پر ہے۔ کوئی شخص اس نعمت کو نہ خود پا سکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو عطا کر سکتا ہے، اس لیے اگر نبی چاہے بھی کہ تمام لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب، نوح علیہ السلام کا بیٹا اور نوح اور لوط علیہما السلام کی بیویاں اس کی مثال ہیں، اسی طرح بت گر آزر کا بیٹا ابراہیم، فرعون کی بیوی آسیہ، ابوجہل کا بیٹا عکرمہ اللہ کے اپنی مرضی سے ایمان کی نعمت عطا کرنے کی مثالیں ہیں۔
➋ { وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ:} یعنی اگرچہ ایمان کی توفیق دینے یا نہ دینے کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، مگر اس کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ اس نعمت سے انھی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور انھی کو کفر و شرک کی نجاست میں پڑے رہنے کے لیے چھوڑتا ہے جو اس کی عطا کردہ عقل سے کام نہیں لیتے اور جس راستے پر اپنے باپ دادا کو چلتے دیکھتے ہیں اسی پر آنکھیں بند کرکے چلتے رہنا پسند کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶، ۲۷)۔
➋ { وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ:} یعنی اگرچہ ایمان کی توفیق دینے یا نہ دینے کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، مگر اس کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ اس نعمت سے انھی لوگوں کو محروم رکھتا ہے اور انھی کو کفر و شرک کی نجاست میں پڑے رہنے کے لیے چھوڑتا ہے جو اس کی عطا کردہ عقل سے کام نہیں لیتے اور جس راستے پر اپنے باپ دادا کو چلتے دیکھتے ہیں اسی پر آنکھیں بند کرکے چلتے رہنا پسند کرتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶، ۲۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 گندگی سے مراد عذاب یا کفر ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی آیات پر غور نہیں کرتے، وہ کفر میں مبتلا رہتے ہیں اور یوں عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
100۔ کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر ایمان لائے اور اللہ تو ان لوگوں پر گندگی ڈالتا ہے جو عقل [108] سے کام نہیں لیتے
[108] اللہ کے اذن کا مفہوم:۔
یعنی اللہ کی توفیق اور منظوری کے بغیر کسی کو ایمان کی نعمت نصیب نہیں ہوتی اور یہ توفیق صرف اس شخص کو نصیب ہوتی ہے جو حق کی تلاش میں اپنی عقل سے کام لے اور اسے حق کی تلاش کی فکر دامن گیر ہو۔ اور وہ ہر طرح کے تعصبات اور خارجی نظریات سے ذہن کو پاک کر کے اللہ کی آیات میں خالی الذہن ہو کر غور و فکر کرے اور جو شخص اس انداز سے حق کا متلاشی ہو تو اللہ تعالیٰ یقیناً اسے حق کی راہ دکھا دیتا ہے اور ایمان لانے کی توفیق بھی بخشتا ہے اور اسی کا نام اللہ کا اذن ہے لیکن جو شخص آبائی تقلید، مذہبی تعصبات اور خارجی نظریات سے بالا تر ہو کر کچھ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرے اسے اللہ، ایمان کی نعمت نصیب نہیں کرتا۔ اس کی قسمت میں جہالت، گمراہی، غلط کاری، غلط بینی اور کفر و شرک کی نجاستوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کی حکمت سے کوئی آگاہ نہیں ٭٭
اللہ کی حکمت ہے کہ کوئی ایمان لائے اور کسی کو ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ «وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ إِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَٰلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ» ۱؎ [11-هود:118-119] ’ ورنہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو تمام انسان ایماندار ہو جاتے۔ اگر وہ چاہتا تو سب کو اسی دین پر کار بند کر دیتا۔ لوگوں میں اختلاف تو باقی ہی نہ رہے۔ سوائے ان کے جن پر رب کا رحم ہو، انہیں اسی لیے پیدا کیا ہے، تیرے رب کا فرمان حق ہے کہ جہنم انسانوں اور جنوں سے پر ہوگی ‘۔
’ کیا ایماندار ناامید نہیں ہوگئے؟ یہ کہ اللہ اگر چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت کرسکتا تھا۔ یہ تو ناممکن ہے کہ تو ایمان ان کے دلوں کے ساتھ چپکا دے، یہ تیرے اختیار سے باہر ہے ‘۔
«أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا» ۱؎ [13-الرعد:31] ’ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے، تو ان پر افسوس اور رنج و غم نہ کر اگر یہ ایمان نہ لائیں تو تو اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر دے گا؟ ‘ «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تو جسے چاہے راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ یہ تو اللہ کے قبضے میں ہے ‘، «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہم خود لے لیں گے ‘، «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:21، 22] ’ تو تو نصیحت کر دینے والا ہے، ان پر داروغہ نہیں ‘۔
«مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» ۱؎ [35-فاطر:8] ’ جسے چاہے راہ راست دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے۔ اس کا علم اس کی حکمت اس کا عدل اسی کے ساتھ ہے ‘۔
«إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [28-القص:56] ’ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘۔
اس کی مشیت کے بغیر کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا۔ وہ ان کو ایمان سے خالی، ان کے دلوں کو نجس اور گندہ کر دیتا ہے جو اللہ کی قدرت، اللہ کی برھان، اللہ کے احکام کی آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے۔ عقل و سمجھ سے کام نہیں لیتے، وہ عادل ہے، حکیم ہے، اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔
’ کیا ایماندار ناامید نہیں ہوگئے؟ یہ کہ اللہ اگر چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت کرسکتا تھا۔ یہ تو ناممکن ہے کہ تو ایمان ان کے دلوں کے ساتھ چپکا دے، یہ تیرے اختیار سے باہر ہے ‘۔
«أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذِينَ آمَنُوا أَن لَّوْ يَشَاءُ اللَّـهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيعًا» ۱؎ [13-الرعد:31] ’ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے، تو ان پر افسوس اور رنج و غم نہ کر اگر یہ ایمان نہ لائیں تو تو اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کر دے گا؟ ‘ «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تو جسے چاہے راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ یہ تو اللہ کے قبضے میں ہے ‘، «فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ’ تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہم خود لے لیں گے ‘، «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:21، 22] ’ تو تو نصیحت کر دینے والا ہے، ان پر داروغہ نہیں ‘۔
«مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ» ۱؎ [35-فاطر:8] ’ جسے چاہے راہ راست دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے۔ اس کا علم اس کی حکمت اس کا عدل اسی کے ساتھ ہے ‘۔
«إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [28-القص:56] ’ آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘۔
اس کی مشیت کے بغیر کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا۔ وہ ان کو ایمان سے خالی، ان کے دلوں کو نجس اور گندہ کر دیتا ہے جو اللہ کی قدرت، اللہ کی برھان، اللہ کے احکام کی آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے۔ عقل و سمجھ سے کام نہیں لیتے، وہ عادل ہے، حکیم ہے، اس کا کوئی کام الحکمت سے خالی نہیں۔