صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۙ۬ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾
ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔
En
ان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے
En
ان لوگوں کی راه جن پر تو نے انعام کیا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا (یعنی وه لوگ جنہوں نے حق کو پہچانا، مگر اس پر عمل پیرا نہیں ہوئے) اور نہ گمراہوں کی (یعنی وه لوگ جو جہالت کے سبب راه حق سے برگشتہ ہوگئے)
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 7) ➊ { صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ:} یعنی جن لوگوں پر تو نے دوسرے بے شمار انعامات کے ساتھ اپنی اطاعت کی توفیق کاخاص انعام کیا، ان سے مراد چار قسم کے لوگ ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہے، فرمایا: «وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ» [النساء: ۶۹] ”اور جو کوئی اللہ اور رسول کی فرماں برداری کرے تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے۔“ قرآن مجید میں مذکور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے تمام واقعات اس مختصر جملے کی تفصیل ہیں۔
➋ { غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ:} قرآن مجید میں {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} یہود کو کہا گیا ہے، چنانچہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: «وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ» [البقرۃ: ۶۱] ”اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کی طرف سے بھاری غضب لے کر لوٹے۔“ اور فرمایا: «فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ» [البقرۃ: ۹۰] ”پس وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے۔“ اور فرمایا: «قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِيْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ اُولٰٓىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ» [المائدۃ: ۶۰] ”کہہ دے کیا میں تمھیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتاؤں؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر وہ غصے ہوا اور جن میں سے اس نے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ یہ لوگ درجے میں سب سے برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“
اور {” الضَّآلِّيْنَ “} نصاریٰ کو کہا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ» [المائدۃ: ۷۷] ”اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔“ اس آیت سے پہلے مسلسل نصاریٰ کا ذکر آ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} اور {” الضَّآلِّيْنَ “} کی یہی تفسیر فرمائی۔ چنانچہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْيَهُوْدُ مَغْضُوْبٌ عَلَيْهِمْ وَ النَّصَارٰی ضُلَّالٌ] ”یہود {” مَغْضُوْبٌ عَلَيْهِمْ “} ہیں اور نصاریٰ گمراہ ہیں۔“ [ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ فاتحۃ الکتاب: ۲۹۵۴، و صححہ الألبانی]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر سے ثابت ہو گیا کہ {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} یہود ہیں اور {” الضَّآلِّيْنَ “} نصاریٰ، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن میں وہ عادات و خصائل پائے جاتے ہیں جو یہود کے {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} بننے کا باعث ٹھہرے، یا جن کی وجہ سے نصاریٰ {” الضَّآلِّيْنَ “} (گمراہ) ٹھہرے۔ مثلاً یہود پر غضب نازل ہونے کے اسباب جو اللہ تعالیٰ نے شمار فرمائے ہیں اختصار کے ساتھ یہ ہیں، اللہ کی کتاب میں تحریف، اللہ کی آیات کو چھپانا، اللہ کی حدود مثلاً رجم اور ہاتھ کاٹنے کو معطل کرنا، اللہ پر جھوٹ باندھنا، اپنے پاس سے مسائل بیان کرکے انھیں اللہ کا حکم قرار دینا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حسد کی وجہ سے ایمان نہ لانا اور باہمی ضد کی وجہ سے بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ جانا۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: {” وَ بِالْجُمْلَةِ فَاِنْ شِئْتَ أَنْ تَرَي نَمُوْذَجَ الْيَهُوْدِ فَانْظُرْ اِلٰي عُلَمَاءِ السُّوْءِ مِنَ الَّذِيْنَ يَطْلُبُوْنَ الدُّنْيَا وَ قَدِ اعْتَادُوْا تَقْلِيْدَ السَّلَفِ وَ اَعْرَضُوْا عَنْ نُّصُوْصِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَ تَمَسَّكُوْا بِتَعَمُّقِ عَالِمٍ وَ تَشَدُّدِهِ وَ اسْتِحْسَانِهِ فَاَعْرَضُوْا عَنْ كَلَامِ الشَّارِعِ الْمَعْصُوْمِ وَ تَمَسَّكُوْا بِأَحَادِيْثَ مَوْضُوْعَةٍ وَ تَأْوِيْلَاتٍ فَاسِدَةٍ كَانَتْ سَبَبَ هَلَاكِهِمْ “} ”قصہ مختصر اگر تم چاہو کہ یہود کا نمونہ دیکھو تو ان علمائے سوء کو دیکھ لو جو دنیا طلب کر رہے ہیں اور پہلے لوگوں کی تقلید کے عادی ہو چکے ہیں، جنھوں نے کتاب و سنت کی صریح آیات و احادیث سے منہ موڑ لیا اور کسی عالم کے تکلف، اس کے تشدد اور اس کے استحسان کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے معصوم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے منہ موڑ لیا اور من گھڑت احادیث اور فاسد تاویلات سے چمٹ گئے، جو ان کی ہلاکت کا باعث بن گئیں۔“ (الفوز الکبیر)
اور نصاریٰ کی گمراہی کے اسباب یہ تھے، مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلو، ان کو عین خدا یا تین میں سے ایک خدا کہنا، مریم علیھا السلام کو تین میں سے ایک خدا کہنا، مسیح علیہ السلام، مریم علیھا السلام اور صلیب کی پوجا کرنا، قبروں کو مسجدیں بنانا، احبار و رہبان کو رب بنانا وغیرہ۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: {”وَاِنْ شِئْتَ أَنْ تَرَي نَمُوْذَجًا لِهٰذَا الْفَرِيْقِ فَانْظُرِ الْيَوْمَ اِلٰي أَوْلَادِ الْمَشَائِخِ الْأَوْلِيَاءِ مَاذَا يَظُنُّوْنَ بِآبَائِهِمْ؟ فَتَجِدُهُمْ قَدْ أَفْرَطُوْا فِيْ اِجْلَالِهِمْ كُلَّ الْاِفْرَاطِ وَ سَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ “} ”اگر چاہو کہ اس گروہ کا نمونہ دیکھو تو بزرگ اولیاء کی آج کل کی اولاد کو دیکھ لو کہ وہ اپنے باپ دادا کے متعلق کیا گمان رکھتے ہیں، چنانچہ تم انھیں پاؤ گے کہ وہ ان کی بزرگی بیان کرتے ہیں، جتنا مبالغہ ہو سکے کرتے ہیں اور عنقریب وہ لوگ جان لیں گے جنھوں نے ظلم کیا کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔“ (الفوز الکبیر)
➍ {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} کا ترجمہ عام طور پر کیا جاتا ہے: ”نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا“ مگر حقیقت یہ ہے کہ {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} میں لفظ {” غَيْرِ “} پچھلی آیت میں {” الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} سے بدل یا اس کی صفت ہے، یعنی {” الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} اور {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} دونوں ایک ہی لوگ ہیں، اس لیے ترجمہ یہ ہو گا: ”ہمیں سیدھے راستے پر چلا، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔“
➎ یہاں ایک سوال ہے کہ کیا {” صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} کافی نہ تھا، پھر اس کے بعد {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} لانے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انعام تو اس کی ہر مخلوق پر بے شمار ہے، کم از کم اسے پیدا کرنا اور اس کی زندگی کی ہر ضرورت پوری کرنا ہی بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے یہ تعلیم دی کہ ان لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا کرو جن پر اللہ نے انعام کیا، مگر وہ غضب کا نشانہ نہیں بنے، نہ ہی وہ گمراہ ہیں، ایسے لوگ وہ چار گروہ ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔
➏ {” صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} میں انعام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے، جب کہ غضب اور ضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے ادب کی تعلیم ہے کہ اگرچہ خیر و شر دونوں کا خالق وہ ہے مگر شر کی نسبت اس کی طرف نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کا ہر فعل خیر ہی خیر ہے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنھما «عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب سب لوگ ایک میدان میں کھڑے ہوں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے: [لَبَّيْكَ وَ سَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِيْ يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ] [مستدرک حاکم، تفسیر سورۃ بنی إسرائیل: 363/2، ح: ۳۳۸۴] ”بار بار حاضر ہوں اور بار بار حاضر ہوں، خیر تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے۔“ اسے حاکم نے شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔ سورۂ کہف میں خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو کشتی توڑنے اور دوسرے دو واقعات کی اصل حقیقت بیان کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے اس ادب کا خاص خیال رکھا ہے، ملاحظہ فرمائیں سورۂ کہف (۷۹ تا ۸۲) کی تفسیر۔
➐ سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد ”آمین“ کہنی چاہیے، اس کا معنی اے اللہ! قبول فرما، یا ایسے ہی کر دے ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید کا حصہ نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ اسے قرآن مجید کے ساتھ نہیں لکھا گیا۔ امام کے {” وَ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} کہنے پر امام اور مقتدی دونوں کو آمین کہنی چاہیے۔ مقتدی کو امام کی آمین کے ساتھ آمین کہنی چاہیے۔ اس کے متعلق چند احادیث درج کی جاتی ہیں، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ» کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا ”آمین“ کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گیا اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [بخاری، الأذان، باب جھر المأموم بالتأمین: ۷۸۲] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو گیا اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [بخاری، الأذان، باب جھر الإمام بالتأمین: ۷۸۰۔ مسلم: ۴۱۰]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام {” وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} کہے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمھاری دعا قبول کر لے گا۔“ [مسلم، الصلاۃ، باب التشھد فی الصلاۃ: ۴۰۴] وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے بلند آواز سے آمین کہی اور دائیں اور بائیں سلام پھیرا، یہاں تک کہ میں نے آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لی۔ [أبوداوٗد، الصلٰوۃ، باب التأمین وراء الإمام: ۹۳۴، وقال الألبانی حسن صحیح] وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب {” وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} پڑھتے تو ”آمین“ کہتے اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔ [أبوداوٗد، باب التأمین وراء الإمام: ۹۳۳، وقال الألبانی صحیح]
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ» پڑھا اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کیا۔ [ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی التأمین: ۲۴۸، وقال الألبانی صحیح] عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودیوں نے تم پرکسی چیز میں وہ حسد نہیں کیا جو انھوں نے آمین کہنے اور سلام میں تم پر حسد کیا ہے۔“ [ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب الجھر بآمین: ۸۵۶۔ مسند أحمد: 134/6، ۱۳۵، ح: ۲۵۰۸۲، و قال الألبانی صحیح]
➋ { غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ:} قرآن مجید میں {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} یہود کو کہا گیا ہے، چنانچہ ان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: «وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ» [البقرۃ: ۶۱] ”اور ان پر ذلت اور محتاجی مسلط کر دی گئی اور وہ اللہ کی طرف سے بھاری غضب لے کر لوٹے۔“ اور فرمایا: «فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ» [البقرۃ: ۹۰] ”پس وہ غضب پر غضب لے کر لوٹے۔“ اور فرمایا: «قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَيْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِيْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ اُولٰٓىِٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ» [المائدۃ: ۶۰] ”کہہ دے کیا میں تمھیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتاؤں؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر وہ غصے ہوا اور جن میں سے اس نے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی۔ یہ لوگ درجے میں سب سے برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔“
اور {” الضَّآلِّيْنَ “} نصاریٰ کو کہا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: «وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِيْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِيْلِ» [المائدۃ: ۷۷] ”اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔“ اس آیت سے پہلے مسلسل نصاریٰ کا ذکر آ رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} اور {” الضَّآلِّيْنَ “} کی یہی تفسیر فرمائی۔ چنانچہ عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْيَهُوْدُ مَغْضُوْبٌ عَلَيْهِمْ وَ النَّصَارٰی ضُلَّالٌ] ”یہود {” مَغْضُوْبٌ عَلَيْهِمْ “} ہیں اور نصاریٰ گمراہ ہیں۔“ [ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ فاتحۃ الکتاب: ۲۹۵۴، و صححہ الألبانی]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر سے ثابت ہو گیا کہ {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} یہود ہیں اور {” الضَّآلِّيْنَ “} نصاریٰ، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے اس میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن میں وہ عادات و خصائل پائے جاتے ہیں جو یہود کے {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} بننے کا باعث ٹھہرے، یا جن کی وجہ سے نصاریٰ {” الضَّآلِّيْنَ “} (گمراہ) ٹھہرے۔ مثلاً یہود پر غضب نازل ہونے کے اسباب جو اللہ تعالیٰ نے شمار فرمائے ہیں اختصار کے ساتھ یہ ہیں، اللہ کی کتاب میں تحریف، اللہ کی آیات کو چھپانا، اللہ کی حدود مثلاً رجم اور ہاتھ کاٹنے کو معطل کرنا، اللہ پر جھوٹ باندھنا، اپنے پاس سے مسائل بیان کرکے انھیں اللہ کا حکم قرار دینا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حسد کی وجہ سے ایمان نہ لانا اور باہمی ضد کی وجہ سے بہتر (۷۲) فرقوں میں بٹ جانا۔
شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں: {” وَ بِالْجُمْلَةِ فَاِنْ شِئْتَ أَنْ تَرَي نَمُوْذَجَ الْيَهُوْدِ فَانْظُرْ اِلٰي عُلَمَاءِ السُّوْءِ مِنَ الَّذِيْنَ يَطْلُبُوْنَ الدُّنْيَا وَ قَدِ اعْتَادُوْا تَقْلِيْدَ السَّلَفِ وَ اَعْرَضُوْا عَنْ نُّصُوْصِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَ تَمَسَّكُوْا بِتَعَمُّقِ عَالِمٍ وَ تَشَدُّدِهِ وَ اسْتِحْسَانِهِ فَاَعْرَضُوْا عَنْ كَلَامِ الشَّارِعِ الْمَعْصُوْمِ وَ تَمَسَّكُوْا بِأَحَادِيْثَ مَوْضُوْعَةٍ وَ تَأْوِيْلَاتٍ فَاسِدَةٍ كَانَتْ سَبَبَ هَلَاكِهِمْ “} ”قصہ مختصر اگر تم چاہو کہ یہود کا نمونہ دیکھو تو ان علمائے سوء کو دیکھ لو جو دنیا طلب کر رہے ہیں اور پہلے لوگوں کی تقلید کے عادی ہو چکے ہیں، جنھوں نے کتاب و سنت کی صریح آیات و احادیث سے منہ موڑ لیا اور کسی عالم کے تکلف، اس کے تشدد اور اس کے استحسان کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے۔ چنانچہ انھوں نے معصوم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے منہ موڑ لیا اور من گھڑت احادیث اور فاسد تاویلات سے چمٹ گئے، جو ان کی ہلاکت کا باعث بن گئیں۔“ (الفوز الکبیر)
اور نصاریٰ کی گمراہی کے اسباب یہ تھے، مسیح علیہ السلام کے بارے میں غلو، ان کو عین خدا یا تین میں سے ایک خدا کہنا، مریم علیھا السلام کو تین میں سے ایک خدا کہنا، مسیح علیہ السلام، مریم علیھا السلام اور صلیب کی پوجا کرنا، قبروں کو مسجدیں بنانا، احبار و رہبان کو رب بنانا وغیرہ۔ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: {”وَاِنْ شِئْتَ أَنْ تَرَي نَمُوْذَجًا لِهٰذَا الْفَرِيْقِ فَانْظُرِ الْيَوْمَ اِلٰي أَوْلَادِ الْمَشَائِخِ الْأَوْلِيَاءِ مَاذَا يَظُنُّوْنَ بِآبَائِهِمْ؟ فَتَجِدُهُمْ قَدْ أَفْرَطُوْا فِيْ اِجْلَالِهِمْ كُلَّ الْاِفْرَاطِ وَ سَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ “} ”اگر چاہو کہ اس گروہ کا نمونہ دیکھو تو بزرگ اولیاء کی آج کل کی اولاد کو دیکھ لو کہ وہ اپنے باپ دادا کے متعلق کیا گمان رکھتے ہیں، چنانچہ تم انھیں پاؤ گے کہ وہ ان کی بزرگی بیان کرتے ہیں، جتنا مبالغہ ہو سکے کرتے ہیں اور عنقریب وہ لوگ جان لیں گے جنھوں نے ظلم کیا کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔“ (الفوز الکبیر)
➍ {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} کا ترجمہ عام طور پر کیا جاتا ہے: ”نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر غضب ہوا اور نہ گمراہوں کا“ مگر حقیقت یہ ہے کہ {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} میں لفظ {” غَيْرِ “} پچھلی آیت میں {” الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} سے بدل یا اس کی صفت ہے، یعنی {” الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} اور {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} دونوں ایک ہی لوگ ہیں، اس لیے ترجمہ یہ ہو گا: ”ہمیں سیدھے راستے پر چلا، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔“
➎ یہاں ایک سوال ہے کہ کیا {” صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} کافی نہ تھا، پھر اس کے بعد {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} لانے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انعام تو اس کی ہر مخلوق پر بے شمار ہے، کم از کم اسے پیدا کرنا اور اس کی زندگی کی ہر ضرورت پوری کرنا ہی بہت بڑی نعمت ہے، اس لیے یہ تعلیم دی کہ ان لوگوں کے راستے پر چلنے کی دعا کرو جن پر اللہ نے انعام کیا، مگر وہ غضب کا نشانہ نہیں بنے، نہ ہی وہ گمراہ ہیں، ایسے لوگ وہ چار گروہ ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔
➏ {” صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} میں انعام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے، جب کہ غضب اور ضلال کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کے ادب کی تعلیم ہے کہ اگرچہ خیر و شر دونوں کا خالق وہ ہے مگر شر کی نسبت اس کی طرف نہیں کی جاتی، کیونکہ اس کا ہر فعل خیر ہی خیر ہے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنھما «عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا» کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب سب لوگ ایک میدان میں کھڑے ہوں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو پکاریں گے: [لَبَّيْكَ وَ سَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِيْ يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ] [مستدرک حاکم، تفسیر سورۃ بنی إسرائیل: 363/2، ح: ۳۳۸۴] ”بار بار حاضر ہوں اور بار بار حاضر ہوں، خیر تیرے ہاتھوں میں ہے اور شر تیری طرف نہیں ہے۔“ اسے حاکم نے شیخین کی شرط پر صحیح کہا ہے اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے۔ سورۂ کہف میں خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو کشتی توڑنے اور دوسرے دو واقعات کی اصل حقیقت بیان کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے اس ادب کا خاص خیال رکھا ہے، ملاحظہ فرمائیں سورۂ کہف (۷۹ تا ۸۲) کی تفسیر۔
➐ سورۂ فاتحہ پڑھنے کے بعد ”آمین“ کہنی چاہیے، اس کا معنی اے اللہ! قبول فرما، یا ایسے ہی کر دے ہے۔ یہ لفظ قرآن مجید کا حصہ نہیں، اس کی دلیل یہ ہے کہ اسے قرآن مجید کے ساتھ نہیں لکھا گیا۔ امام کے {” وَ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} کہنے پر امام اور مقتدی دونوں کو آمین کہنی چاہیے۔ مقتدی کو امام کی آمین کے ساتھ آمین کہنی چاہیے۔ اس کے متعلق چند احادیث درج کی جاتی ہیں، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ» کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا ”آمین“ کہنا فرشتوں کے کہنے کے موافق ہو گیا اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [بخاری، الأذان، باب جھر المأموم بالتأمین: ۷۸۲] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو گیا اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“ [بخاری، الأذان، باب جھر الإمام بالتأمین: ۷۸۰۔ مسلم: ۴۱۰]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام {” وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} کہے تو تم آمین کہو، اللہ تعالیٰ تمھاری دعا قبول کر لے گا۔“ [مسلم، الصلاۃ، باب التشھد فی الصلاۃ: ۴۰۴] وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے بلند آواز سے آمین کہی اور دائیں اور بائیں سلام پھیرا، یہاں تک کہ میں نے آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھ لی۔ [أبوداوٗد، الصلٰوۃ، باب التأمین وراء الإمام: ۹۳۴، وقال الألبانی حسن صحیح] وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب {” وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} پڑھتے تو ”آمین“ کہتے اور اس کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتے۔ [أبوداوٗد، باب التأمین وراء الإمام: ۹۳۳، وقال الألبانی صحیح]
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے «غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ» پڑھا اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کیا۔ [ترمذی، الصلاۃ، باب ما جاء فی التأمین: ۲۴۸، وقال الألبانی صحیح] عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودیوں نے تم پرکسی چیز میں وہ حسد نہیں کیا جو انھوں نے آمین کہنے اور سلام میں تم پر حسد کیا ہے۔“ [ابن ماجہ، إقامۃ الصلوات، باب الجھر بآمین: ۸۵۶۔ مسند أحمد: 134/6، ۱۳۵، ح: ۲۵۰۸۲، و قال الألبانی صحیح]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
1 یہ صراط مستقیم یہ وہ اسلام ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جو اب قرآن و احادیث صحیحہ میں محفوظ ہے۔ 2 صراط مستقیم کی وضاحت ہے کہ یہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر لوگ چلے، جن پر تیرا انعام ہوا۔ (وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا) 4:69 اور جو بھی اللہ تعالیٰ کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں۔ اس آیت میں یہ بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ انعام یافتہ لوگوں کا یہ راستہ اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا راستہ ہے نہ کہ کوئی اور راستہ۔ بعض روایات سے ثابت ہے کہ مَغْضُوْبُ عَلَیْھِمْ (جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا) سے مراد یہودی اور (وَلا الضَّآلِیْن) گمراہوں سے مراد نصاریٰ (عیسائی) ہیں ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ مفسرین کے درمیان اسمیں کوئی اختلاف نہیں مستقیم پر چلنے والوں کی خواہش رکھنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ دونوں کے گمراہیوں سے بچ کر رہیں۔ یہود کی بڑی گمراہی تھی وہ جانتے بوجھتے صحیح راستے پر نہیں چلتے تھے آیات الٰہی میں تحریف اور حیلہ کرنے میں گریز نہیں کرتے تھے حضرت عزیر ؑ کو ابن اللہ کہتے اپنے احبارو رھبان کو حرام و حلال کا مجاز سمجھتے تھے۔ نصاریٰ کی بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ابن اللہ کہا حرام و حلال کا مجاز سمجھتے تھے۔ نصارٰی کی بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کی شان میں غلو کیا اور انہیں (اللہ کا بیٹا) اور تین خدا میں سے ایک قرار دیا۔ افسوس ہے کہ امت محمدیہ میں بھی یہ گمراہیاں عام ہیں اور اسی وجہ سے وہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہیں اللہ تعالیٰ اسے ضلالت کے گڑھے سے نکالے۔ تاکہ ادبار و نکبت کے برھتے ہوئے سائے سے وہ محفوظ رہ سکے۔ سورة کے آخر میں آمِیْن کہنے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی اسلیے امام اور مقتدی ہر ایک کو آمین کہنی چاہئے۔ اے اللہ ہماری دعا قبول فرما۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ ان لوگوں کی راہ پر جن پر تو نے انعام کیا [14] جن پر تیرا غضب نہیں ہوا اور نہ وہ راہ راست سے بھٹکے [15]
[14] انعام والے اور گمراہ لوگ کون ہیں؟
قرآن کی تصریح کے مطابق ان سے مراد انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں۔ [4: 69] وہ لوگ نہیں جنہیں مال و دولت یا حشمت و جاہ کی فراوانیاں حاصل ہیں۔ اور آپ کے ارشاد کے مطابق ﴿مَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ﴾ سے مراد تو یہود ہیں جو گناہ کے کاموں پر دلیر ہو گئے تھے اور ان پر اللہ کا عذاب اور پھٹکار نازل ہوئی اور ضالِّیْن سے مراد عیسائی حضرات ہیں جو فلسفیانہ موشگافیوں میں پھنس کر تثلیث اور گمراہی کا شکار ہوئے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے: عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (مدینہ) آیا۔ وہ اس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگ کہنے لگے کہ یہ عدی بن حاتم ہے جو بغیر کسی کی امان یا تحریر کے آیا ہے۔ چنانچہ مجھے پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور اس سے پہلے آپ صحابہؓ کو خبر دے چکے تھے کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عدی کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دے گا۔ پھر آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور میں آپ کے ساتھ تھا (راہ میں) ایک عورت اور اس کا بچہ ملے۔ وہ آپ سے کہنے لگے: ”ہمیں آپ سے کچھ کام ہے“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور ان کا کام پورا کر دیا۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے گھر تشریف لائے۔ ایک لڑکی نے آپ کے لئے بچھونا بچھایا۔ آپ اس پر بیٹھ گئے اور میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر مجھے کہا: ”وہ کون سی بات ہے جو تمہیں لا الٰہ الا اللہ کہنے سے باز رکھتی ہے، کیا تم اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ جانتے ہو؟‘میں نے کہا ’نہیں ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر باتیں کیں پھر پوچھا: ’تمہیں اللہ اکبر کہنے سے کون سی چیز دور رکھتی ہے۔ کیا اللہ سے کسی بڑی چیز کو تم جانتے ہو؟“ میں نے کہا ”نہیں“ پھر آپ نے فرمایا: ”یہود پر تو اللہ تعالیٰ کا غصہ ہے اور نصاریٰ گمراہ ہیں“ میں نے کہا کہ میں تو یکطرفہ مسلمان ہوتا ہوں۔ پھر میں نے آپ کے چہرہ پر فرحت و انبساط دیکھی۔ پھر آپ نے میرے بارے میں حکم دیا اور میں ایک انصاری کے ہاں مقیم ہوا۔ اب میں روزانہ صبح و شام آپ کے پاس حاضر ہوا کرتا۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير۔ سورة فاتحه]
دور نبوی میں تو واقعی یہی فرقے ﴿مغضوب عليهم﴾ اور ﴿ضالّين﴾ تھے۔ مگر آج مسلمانوں کے اکثر فرقے ان میں شامل ہو چکے ہیں اور ﴿صراط مستقيم﴾ پر تو مسلمانوں کا صرف وہی فرقہ ہے جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا «مَا اَنَاعَلَيْهِ وَ اَصْحَابِيْ» [ترمذي، كتاب الايمان۔ باب افتراق هذه الامة]
دور نبوی میں تو واقعی یہی فرقے ﴿مغضوب عليهم﴾ اور ﴿ضالّين﴾ تھے۔ مگر آج مسلمانوں کے اکثر فرقے ان میں شامل ہو چکے ہیں اور ﴿صراط مستقيم﴾ پر تو مسلمانوں کا صرف وہی فرقہ ہے جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا «مَا اَنَاعَلَيْهِ وَ اَصْحَابِيْ» [ترمذي، كتاب الايمان۔ باب افتراق هذه الامة]
[15] آمین بالجہر کا ثبوت:۔
(1) سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام ﴿وَلاَالضَّالِيْنَ﴾ کہے تو تم آمین کہو۔ جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہو گیا۔ اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے“ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ سورة فاتحه نيز كتاب الاذان والجماعة۔ باب فضل التامين]
(2) نیز عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ آمین دعا ہے اور عبد اللہ بن زبیرؓ نے اور ان کے پیچھے مقتدیوں نے اس زور سے آمین کہی کہ مسجد گونج اٹھی۔ [بخاري۔ كتاب الاذان والجماعه۔ باب جهر الامام بالتامين]
(3) وائل بن حجرؓ جو عام الوفود یعنی 10ھ میں مدینہ تشریف لائے، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب آپ نے نماز میں ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ﴾ کہا تو اپنی آواز کو خوب لمبا کر کے آمین کہی۔ [ترمذي۔ ابواب الصلٰوة۔ باب ماجاء فى التامين]
(2) نیز عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ آمین دعا ہے اور عبد اللہ بن زبیرؓ نے اور ان کے پیچھے مقتدیوں نے اس زور سے آمین کہی کہ مسجد گونج اٹھی۔ [بخاري۔ كتاب الاذان والجماعه۔ باب جهر الامام بالتامين]
(3) وائل بن حجرؓ جو عام الوفود یعنی 10ھ میں مدینہ تشریف لائے، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جب آپ نے نماز میں ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّيْنَ﴾ کہا تو اپنی آواز کو خوب لمبا کر کے آمین کہی۔ [ترمذي۔ ابواب الصلٰوة۔ باب ماجاء فى التامين]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انعام یافتہ کون؟ ٭٭
اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے کہ بندے کے اس قول پر اللہ کریم فرماتا ہے یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے ہے جو کچھ وہ مانگے یہ آیت «صِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ» کی تفسیر ہے اور نحویوں کے نزدیک یہ اس سے بدل ہے اور عطف بیان بھی ہو سکتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور جن پر اللہ کا انعام ہوا ان کا بیان سورۃ نساء میں آ چکا ہے فرمان ہے: «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا» * «ذَٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّـهِ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ عَلِيمًا» ۱؎ [4-النساء:69-70] الخ یعنی ’اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے پر عمل کرنے والے ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا انعام ہے جو نبی، صدیق، شہید، صالح لوگ ہیں، یہ بہترین ساتھی اور اچھے رفیق ہیں۔ یہ فضل ربانی ہے اور اللہ جاننے والا کافی ہے‘۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تو مجھے ان فرشتوں، نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی راہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت و عبادت کی وجہ سے انعام نازل فرمایا۔ یہ آیت ٹھیک «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ» ۱؎ [4-النساء:69] کی طرح ہے۔
ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد انبیاء ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مومن ہیں۔
وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان مراد ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مراد ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول زیادہ معقول اور قابل تسلیم ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اور جن پر اللہ کا انعام ہوا ان کا بیان سورۃ نساء میں آ چکا ہے فرمان ہے: «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَفِيقًا» * «ذَٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّـهِ وَكَفَىٰ بِاللَّـهِ عَلِيمًا» ۱؎ [4-النساء:69-70] الخ یعنی ’اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہے پر عمل کرنے والے ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ کا انعام ہے جو نبی، صدیق، شہید، صالح لوگ ہیں، یہ بہترین ساتھی اور اچھے رفیق ہیں۔ یہ فضل ربانی ہے اور اللہ جاننے والا کافی ہے‘۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ تو مجھے ان فرشتوں، نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی راہ پر چلا جن پر تو نے اپنی اطاعت و عبادت کی وجہ سے انعام نازل فرمایا۔ یہ آیت ٹھیک «وَمَنْ يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ» ۱؎ [4-النساء:69] کی طرح ہے۔
ربیع بن انس رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد انبیاء ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد مومن ہیں۔
وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں مسلمان مراد ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ مراد ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول زیادہ معقول اور قابل تسلیم ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
جمہور کی قرأت میں «غَيْرِ» «رے» کے زیر کے ساتھ ہے اور صفت ہے۔ زمحشری کہتے ہیں «رے» کی زبر کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور حال ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی قرأت یہی ہے اور ابن کثیر رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت کی گئی ہے۔
«عَلَيْهِمْ» میں جو ضمیر ہے وہ اس کا ذوالحال ہے اور «أَنْعَمْتَ» عامل ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ اللہ جل شانہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ جو ہدایت اور استقامت والے تھے اور اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار، اس کے حکموں پر عمل کرنے والے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک رہنے والے تھے۔
«عَلَيْهِمْ» میں جو ضمیر ہے وہ اس کا ذوالحال ہے اور «أَنْعَمْتَ» عامل ہے۔ معنی یہ ہوئے کہ اللہ جل شانہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا۔ جو ہدایت اور استقامت والے تھے اور اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار، اس کے حکموں پر عمل کرنے والے، اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک رہنے والے تھے۔
مغضوب کون؟ ٭٭
ان کی راہ سے بچا، جن پر غضب و غصہ کیا گیا، جن کے ارادے فاسد ہو گئے، حق کو جان کر پھر اس سے ہٹ گئے اور گم گشتہ راہ لوگوں کے طریقے سے بھی ہمیں بچا لے جو سرے سے علم نہیں رکھتے مارے مارے پھرتے ہیں راہ سے بھٹکے ہوئے حیران و سرگرداں ہیں اور راہ حق کی طرف رہنمائی نہیں کئے جاتے «لَا» کو دوبارہ لا کر کلام کی تاکید کرنا اس لیے ہے کہ معلوم ہو جائے کہ یہاں دو غلط راستے ہیں، ایک یہود کا دوسرا نصاریٰ کا۔
بعض نحوی کہتے ہیں کہ «غَيْرَ» کا لفظ یہاں پر استثناء کے لیے ہے تو استثناء منقطع ہو سکتا ہے کیونکہ جن پر انعام کیا گیا ہے ان میں سے استثناء ہونا تو درست ہے۔ مگر یہ لوگ انعام والوں میں داخل ہی نہ تھے لیکن ہم نے جو تفسیر کی ہے یہ بہت اچھی ہے۔
عرب شاعروں کے شعر میں ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ موصوف کو حذف کر دیتے ہیں اور صرف صفت بیان کر دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں بھی صفت کا بیان ہے اور موصوف محذوف ہے۔ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ» سے مراد «غَيْرِ صِرَاطِ الْمَغْضُوبِ» ہے۔ مضاف «إِلَيْهِ» کے ذکر سے کفایت کی گئی اور مضاف بیان نہ کیا گیا اس لیے کہ نشست الفاظ ہی اس پر دلالت کر رہی ہے۔ پہلے دو مرتبہ یہ لفظ آ چکا ہے۔
بعض کہتے ہیں «وَلَا الضَّالِّينَ» میں «لَا» زائد ہے اور ان کے نزدیک تقدیر کلام اس طرح ہے «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَالضَّالِّينَ» اور اس کی شہادت عرب شاعروں کے شعر سے بھی ملتی ہے لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔
بعض نحوی کہتے ہیں کہ «غَيْرَ» کا لفظ یہاں پر استثناء کے لیے ہے تو استثناء منقطع ہو سکتا ہے کیونکہ جن پر انعام کیا گیا ہے ان میں سے استثناء ہونا تو درست ہے۔ مگر یہ لوگ انعام والوں میں داخل ہی نہ تھے لیکن ہم نے جو تفسیر کی ہے یہ بہت اچھی ہے۔
عرب شاعروں کے شعر میں ایسا پایا جاتا ہے کہ وہ موصوف کو حذف کر دیتے ہیں اور صرف صفت بیان کر دیا کرتے ہیں۔ اسی طرح اس آیت میں بھی صفت کا بیان ہے اور موصوف محذوف ہے۔ «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ» سے مراد «غَيْرِ صِرَاطِ الْمَغْضُوبِ» ہے۔ مضاف «إِلَيْهِ» کے ذکر سے کفایت کی گئی اور مضاف بیان نہ کیا گیا اس لیے کہ نشست الفاظ ہی اس پر دلالت کر رہی ہے۔ پہلے دو مرتبہ یہ لفظ آ چکا ہے۔
بعض کہتے ہیں «وَلَا الضَّالِّينَ» میں «لَا» زائد ہے اور ان کے نزدیک تقدیر کلام اس طرح ہے «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَالضَّالِّينَ» اور اس کی شہادت عرب شاعروں کے شعر سے بھی ملتی ہے لیکن صحیح بات وہی ہے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَغَيْرِ الضَّالِّينَ» پڑھنا صحیح سند سے مروی ہے اور اسی طرح سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے اور یہ محمول ہے اس پر کہ ان بزرگوں سے یہ بطور تفسیر صادر ہوا۔
تو ہمارے قول کی تائید ہوئی کہ «لَا» نفی کی تاکید کے لیے ہی لایا گیا ہے تاکہ یہ وہم ہی نہ ہو کہ یہ «أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ» پر عطف ہے اور اس لیے بھی کہ دونوں راہوں کا فرق معلوم ہو جائے تاکہ ہر شخص ان دونوں سے بھی بچتا رہے۔
اہل ایمان کا طریقہ تو یہ ہے کہ حق کا علم بھی ہو اور حق پر عمل بھی ہو۔ یہودیوں کے ہاں علم نہیں اور نصاریٰ کے ہاں عمل نہیں اسی لیے یہودیوں پر غضب ہوا اور نصرانیوں کو گمراہی ملی۔ اس لیے کہ علم کے باوجود عمل کو چھوڑنا غضب کا سبب ہے اور نصرانی گو ایک چیز کا قصد تو کرتے ہیں مگر اس کے باوجود صحیح راستہ کو نہیں پا سکتے اس لیے کہ ان کا طریقہ کار غلط ہے اور اتباع حق سے ہٹے ہوئے ہیں یوں تو غضب اور گمراہی ان دونوں جماعتوں کے حصہ میں ہے لیکن یہودی غضب کے حصہ میں پیش پیش ہیں۔
جیسے کہ اور جگہ قرآن کریم میں ہے: «مَنْ لَعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ» ۱؎ [5-المائدة:60] الخ اور نصرانی ضلالت میں بڑھے ہوئے ہیں۔
فرمان الٰہی ہے: «قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» ۲؎ [5-المائدة:77] الخ یعنی ’یہ پہلے ہی سے گمراہ ہیں اور بہتوں کو گمراہ کر بھی چکے ہیں اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں‘۔ اس کی تائید میں بہت سی حدیثیں اور روایتیں پیش کی جا سکتی ہیں۔
تو ہمارے قول کی تائید ہوئی کہ «لَا» نفی کی تاکید کے لیے ہی لایا گیا ہے تاکہ یہ وہم ہی نہ ہو کہ یہ «أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ» پر عطف ہے اور اس لیے بھی کہ دونوں راہوں کا فرق معلوم ہو جائے تاکہ ہر شخص ان دونوں سے بھی بچتا رہے۔
اہل ایمان کا طریقہ تو یہ ہے کہ حق کا علم بھی ہو اور حق پر عمل بھی ہو۔ یہودیوں کے ہاں علم نہیں اور نصاریٰ کے ہاں عمل نہیں اسی لیے یہودیوں پر غضب ہوا اور نصرانیوں کو گمراہی ملی۔ اس لیے کہ علم کے باوجود عمل کو چھوڑنا غضب کا سبب ہے اور نصرانی گو ایک چیز کا قصد تو کرتے ہیں مگر اس کے باوجود صحیح راستہ کو نہیں پا سکتے اس لیے کہ ان کا طریقہ کار غلط ہے اور اتباع حق سے ہٹے ہوئے ہیں یوں تو غضب اور گمراہی ان دونوں جماعتوں کے حصہ میں ہے لیکن یہودی غضب کے حصہ میں پیش پیش ہیں۔
جیسے کہ اور جگہ قرآن کریم میں ہے: «مَنْ لَعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ» ۱؎ [5-المائدة:60] الخ اور نصرانی ضلالت میں بڑھے ہوئے ہیں۔
فرمان الٰہی ہے: «قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» ۲؎ [5-المائدة:77] الخ یعنی ’یہ پہلے ہی سے گمراہ ہیں اور بہتوں کو گمراہ کر بھی چکے ہیں اور سیدھی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں‘۔ اس کی تائید میں بہت سی حدیثیں اور روایتیں پیش کی جا سکتی ہیں۔
مسند احمد میں ہے۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر نے میری پھوپھی اور چند اور لوگوں کو گرفتار کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو میری پھوپھی نے کہا میری خبرگیری کرنے والا غائب ہے اور میں عمر رسیدہ بڑھیا ہوں جو کسی خدمت کے لائق نہیں آپ مجھ پر احسان کیجئے اور مجھے رہائی دیجئیے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر بھی احسان کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ تیری خیر خبر لینے والا کون ہے؟ اس نے کہا عدی بن حاتم آپ نے فرمایا وہی جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگتا پھرتا ہے؟ پھر آپ نے اسے آزاد کر دیا۔ جب لوٹ کر آپ آئے تو آپ کے ساتھ ایک شخص تھے اور غالباً وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے آپ نے فرمایا: لو ان سے سواری مانگ لو۔ میری پھوپھی نے ان سے درخواست کی جو منظور ہوئی اور سواری مل گئی۔ وہ یہاں سے آزاد ہو کر میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت نے تیرے باپ حاتم کی سخاوت کو بھی ماند کر دیا۔ آپ کے پاس جو آتا ہے وہ خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا۔ یہ سن کر میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ چھوٹے بچے اور بڑھیا عورتیں بھی آپ کی خدمت میں آتی جاتی ہیں اور آپ ان سے بھی بےتکلفی کے ساتھ بولتے چالتے ہیں۔ اس بات نے مجھے یقین دلایا دیا کہ آپ قیصر و کسریٰ کی طرح بادشاہت اور وجاہت کے طلب کرنے والے نہیں۔ آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا: ”عدی «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہنے سے کیوں بھاگتے ہو؟ کیا اللہ کے سوا اور کوئی عبادت کے لائق ہے؟ «اللَّهُ أَكْبَرُ» کہنے سے کیوں منہ موڑتے ہو؟ کیا اللہ عزوجل سے بھی بڑا کوئی ہے؟“ مجھ پر ان کلمات نے آپ کی سادگی اور بےتکلفی نے ایسا اثر کیا کہ میں فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ جس سے آپ بہت خوش ہوئے اور فرمانے لگے «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» سے مراد یہود ہیں اور «الضَّالِّينَ» سے مراد نصاریٰ ہیں} ۱؎۔ [سنن ترمذي:2954،قال الشيخ الألباني:حسن]
ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تفسیر ارشاد فرمائی تھی ۲؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:209،195:حسن] اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ بنوقین کے ایک شخص نے وادی القریٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ نے جواب میں یہی فرمایا ۳؎۔ [مسند احمد:5/32:حسن بالشواھد] بعض روایتوں میں ان کا نام عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ایک اور حدیث میں ہے کہ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کے سوال پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تفسیر ارشاد فرمائی تھی ۲؎۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:209،195:حسن] اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہے۔ بنوقین کے ایک شخص نے وادی القریٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ نے جواب میں یہی فرمایا ۳؎۔ [مسند احمد:5/32:حسن بالشواھد] بعض روایتوں میں ان کا نام عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابن مردویہ میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی روایت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بہت سے صحابیوں رضی اللہ عنہم سے بھی یہ تفسیر منقول ہے۔ ربیع بن انس، عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں بلکہ ابن ابی حاتم تو فرماتے ہیں مفسرین میں اس بارے میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ ان ائمہ کی اس تفسیر کی دلیل ایک تو وہ حدیث ہے جو پہلے گزری۔
دوسری سورۃ البقرہ کی یہ آیت جس میں بنی اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا ہے: «بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّـهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّـهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ» ۱؎ [2-البقرة:90] اس آیت میں ہے کہ ان پر غضب پر غضب نازل ہوا۔
اور سورۃ المائدہ کی آیت «قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّـهِ مَنْ لَعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَـٰئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» ۲؎ [5-المائدة:60] میں بھی ہے کہ ان پر غضب الہٰی نازل ہوا
اور جگہ فرمان الہٰی ہے: «لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ * كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ» ۳؎ [5-المائدة:79] یعنی ’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی۔ دواؤد علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبانی یہ ان کی نافرمانی اور حد سے گزر جانے کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ کسی برائی کے کام سے آپس میں روک ٹوک نہیں کرتے تھے یقیناً ان کے کام بہت برے تھے‘۔
اور تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل جو کہ دین خالص کی تلاش میں اپنے ساتھیوں سمیت نکلے اور ملک شام میں آئے تو ان سے یہودیوں نے کہا کہ آپ ہمارے دین میں تب تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک غضب الہٰی کا ایک حصہ نہ پا لو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے بچنے کے لیے تو دین حق کی تلاش میں نکلے ہیں پھر اسے کیسے قبول کر لیں؟ پھر نصرانیوں سے ملے انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مزا نہ چکھ لو تب تک آپ ہمارے دین میں نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے چنانچہ وہ اپنی فطرت پر ہی رہے۔ بتوں کی عبادت اور قوم کا دین چھوڑ دیا لیکن یہودیت یا نصرانیت اختیار نہ کی۔ البتہ زید کے ساتھیوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس لیے کہ یہودیوں کے مذہب سے یہ ملتا جلتا تھا۔ انہی میں ورقہ بن نوفل تھے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ ملا اور ہدایت الہٰی نے ان کی رہبری کی اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جو وحی اس وقت تک اتری تھی اس کی تصدیق کی (رضی اللہ عنہ)۔
دوسری سورۃ البقرہ کی یہ آیت جس میں بنی اسرائیل کو خطاب کر کے کہا گیا ہے: «بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّـهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّـهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَىٰ غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ» ۱؎ [2-البقرة:90] اس آیت میں ہے کہ ان پر غضب پر غضب نازل ہوا۔
اور سورۃ المائدہ کی آیت «قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِنْدَ اللَّـهِ مَنْ لَعَنَهُ اللَّـهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ أُولَـٰئِكَ شَرٌّ مَكَانًا وَأَضَلُّ عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ» ۲؎ [5-المائدة:60] میں بھی ہے کہ ان پر غضب الہٰی نازل ہوا
اور جگہ فرمان الہٰی ہے: «لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ * كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ» ۳؎ [5-المائدة:79] یعنی ’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر لعنت کی گئی۔ دواؤد علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی زبانی یہ ان کی نافرمانی اور حد سے گزر جانے کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ کسی برائی کے کام سے آپس میں روک ٹوک نہیں کرتے تھے یقیناً ان کے کام بہت برے تھے‘۔
اور تاریخ کی کتابوں میں ہے کہ زید بن عمرو بن نفیل جو کہ دین خالص کی تلاش میں اپنے ساتھیوں سمیت نکلے اور ملک شام میں آئے تو ان سے یہودیوں نے کہا کہ آپ ہمارے دین میں تب تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک غضب الہٰی کا ایک حصہ نہ پا لو۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس سے بچنے کے لیے تو دین حق کی تلاش میں نکلے ہیں پھر اسے کیسے قبول کر لیں؟ پھر نصرانیوں سے ملے انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مزا نہ چکھ لو تب تک آپ ہمارے دین میں نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے چنانچہ وہ اپنی فطرت پر ہی رہے۔ بتوں کی عبادت اور قوم کا دین چھوڑ دیا لیکن یہودیت یا نصرانیت اختیار نہ کی۔ البتہ زید کے ساتھیوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔ اس لیے کہ یہودیوں کے مذہب سے یہ ملتا جلتا تھا۔ انہی میں ورقہ بن نوفل تھے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ ملا اور ہدایت الہٰی نے ان کی رہبری کی اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور جو وحی اس وقت تک اتری تھی اس کی تصدیق کی (رضی اللہ عنہ)۔
مسئلہ ٭٭
«ضَّادِ» اور «ظَّاءِ» کی قرأت میں بہت باریک فرق ہے اور ہر ایک کے بس کا نہیں۔ اس لیے علمائے کرام کا صحیح مذہب یہ ہے کہ یہ فرق معاف ہے، «ضَّادِ» کا صحیح مخرج تو یہ ہے کہ زبان کا اول کنارہ اور اس کے پاس کی داڑھیں اور «ظَّاءِ» کا مخرج زبان کا ایک طرف اور سامنے والے اوپر کے دو دانت کے کنارے۔ دوسرے یہ کہ یہ دونوں حرف «مَجْهُورَةِ» اور «رِّخْوَةِ» اور «مُطْبَقَةِ» ہیں پس اس شخص کو جسے ان دونوں میں تمیز کرنی مشکل معلوم ہو، اسے معاف ہے کہ «ضَّادِ» کو «ظَّاءِ» کی طرح پڑھ لے۔ ایک حدیث میں ہے کہ {میں «ضَّادِ» کو سب سے زیادہ صحیح پڑھنے والا ہوں} ۱؎ [کشف الخفاء:200/1:لااصل لہ] لیکن یہ حدیث بالکل بے اصل اور لاپتہ ہے۔
الحمد کا تعارف و مفہوم ٭٭
یہ مبارک سورت نہایت کار آمد مضامین کا مجموعہ ہے ان سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد، اس کی بزرگی، اس کی ثنا و صفت اور اس کے پاکیزہ ناموں اور اس کی بلند و بالا صفتوں کا بیان ہے ساتھ ہی قیامت کے دن کا ذکر ہے اور بندوں کو ارشاد ہے کہ وہ اس مالک سے سوال کریں اس کی طرف تضرع و زاری کریں اپنی مسکینی اور بےکسی اور بےبسی کا اقرار کریں اور اس کی عبادت خلوص کے ساتھ کریں اور اس کی توحید الوہیت کا اقرار کریں۔ اسے شریک، نظیر اور مثل سے پاک اور برتر جانیں۔ صراط مستقیم اور اس پر ثابت قدمی اس سے طلب کریں تاکہ یہی ہدایت انہیں قیامت والے دن پل صراط سے بھی پار اتارے اور نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں کے پڑوس میں جنت الفردوس میں جگہ دلائے۔ ساتھ ہی اس سورت میں نیک اعمال کی ترغیب ہے تاکہ قیامت کے دن نیکوں کا ساتھ ملے اور باطل راہوں پر چلنے سے ڈراوا پیدا ہو تاکہ قیامت کے دن بھی یہ باطل پرست یہود و نصاریٰ کی جماعت سے دور ہی رہیں۔
اس باریک نکتہ پر بھی غور کیجئے کہ انعام کی اسناد تو اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی اور «أَنْعَمْتَ» کہا گیا لیکن غضب کی اسناد اللہ کی طرف نہیں کی گئی یہاں فاعل حذف کر دیا اور «الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ» کہا گیا اس میں پروردگار عالم کی جناب میں ادب کیا گیا ہے۔ دراصل حقیقی فاعل اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
جیسے اور جگہ ہے: «غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ» ۱؎ [58-المجادلة:14] اور اسی طرح ضلالت کی اسناد بھی ان کی طرف کی کئی جو گمراہ ہیں۔
حالانکہ اور جگہ ہے: «وَمَنْ يَهْدِ اللَّـهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ» ۲؎ [17-الإسراء:97] الخ یعنی ’اللہ جسے راہ دکھائے وہ راہ یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا رہنما کوئی نہیں‘۔
اور جگہ فرمایا: «مَنْ يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ» [7-الأعراف:186] ۳؎ الخ یعنی ’جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ تو اپنی سرکشی میں بہکے رہتے ہیں‘۔
اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ راہ دکھانے والا گمراہ کرنے والا صرف سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے۔
جیسے اور جگہ ہے: «غَضِبَ اللَّـهُ عَلَيْهِمْ» ۱؎ [58-المجادلة:14] اور اسی طرح ضلالت کی اسناد بھی ان کی طرف کی کئی جو گمراہ ہیں۔
حالانکہ اور جگہ ہے: «وَمَنْ يَهْدِ اللَّـهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ» ۲؎ [17-الإسراء:97] الخ یعنی ’اللہ جسے راہ دکھائے وہ راہ یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا رہنما کوئی نہیں‘۔
اور جگہ فرمایا: «مَنْ يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ» [7-الأعراف:186] ۳؎ الخ یعنی ’جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا ہادی کوئی نہیں وہ تو اپنی سرکشی میں بہکے رہتے ہیں‘۔
اسی طرح کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ راہ دکھانے والا گمراہ کرنے والا صرف سبحانہ و تعالیٰ ہی ہے۔
قدریہ فرقہ جو ادھر ادھر کی متشابہ آیتوں کو دلیل بنا کر کہتا ہے کہ بندے خود مختار ہیں وہ خود جو پسند کرتے ہیں وہی کرتے ہیں۔ یہ غلط ہے، صریح اور صاف صاف آیتیں ان کے رد میں موجود ہیں لیکن باطل پرست فرقوں کا یہی قاعدہ ہے کہ صراحت کو چھوڑ کر متشابہ کے پیچھے لگا کرتے ہیں۔
صحیح حدیث میں ہے کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے لگتے ہیں تو سمجھ لو کہ انہی لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے تم ان کو چھوڑ دو ۱؎۔ [صحیح بخاری:4547]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اس فرمان میں اس آیت شریف کی طرف ہے «فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ» ۲؎ [3-آل عمران:7] الخ یعنی ’جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ متشابہ ہے کے پیچھے لگتے ہیں فتنوں اور تاویل کو ڈھونڈنے کے لیے‘۔
پس «الْحَمْدُ لِلَّـه» بدعتیوں کے لیے قرآن پاک میں صحیح دلیل کوئی نہیں۔ قرآن کریم تو حق و باطل ہدایت و ضلالت میں فرق کرنے کے لیے آیا ہے اس میں تناقض اور اختلاف نہیں۔ یہ تو اللہ حکیم و حمید کا نازل کردہ ہے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے لگتے ہیں تو سمجھ لو کہ انہی لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے تم ان کو چھوڑ دو ۱؎۔ [صحیح بخاری:4547]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ اس فرمان میں اس آیت شریف کی طرف ہے «فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ» ۲؎ [3-آل عمران:7] الخ یعنی ’جن لوگوں کے دل میں کجی ہے وہ متشابہ ہے کے پیچھے لگتے ہیں فتنوں اور تاویل کو ڈھونڈنے کے لیے‘۔
پس «الْحَمْدُ لِلَّـه» بدعتیوں کے لیے قرآن پاک میں صحیح دلیل کوئی نہیں۔ قرآن کریم تو حق و باطل ہدایت و ضلالت میں فرق کرنے کے لیے آیا ہے اس میں تناقض اور اختلاف نہیں۔ یہ تو اللہ حکیم و حمید کا نازل کردہ ہے۔
آمین اور سورہ فاتحہ ٭٭
سورۃ فاتحہ کو ختم کر کے آمین کہنا مستحب ہے۔ آمین مثل «یاسین» کے ہے اور آمین بھی کہا گیا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ ”اے اللہ تو قبول فرما۔“
آمین کہنے کے مستحب ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد، ابوداؤد اور ترمذی میں سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں {میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہہ کر «آمِينَ» کہتے تھے اور آواز دراز کرتے تھے} ۱؎۔ [سنن ترمذي:248،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے {آواز بلند کرتے تھے} ۲؎۔ [سنن ابوداود:392،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن کہتے ہیں۔
سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمین پہلی صف والے لوگ جو آپ کے قریب ہوتے سن لیتے} ۳؎۔ [سنن ابوداود:934،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ابوداؤد اور ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے۔
ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ {آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی} ۴؎۔ [سنن ابن ماجہ:853،قال الشيخ الألباني:ضعيف] دارقطنی میں بھی یہ حدیث ہے ۵؎۔ [دارقطنی:335/1:حسن]
اور امام دارقطنی رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ {سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے۔ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے} ۶؎۔ [سنن ابوداود:937،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
حسن بصری اور جعفر صادق رحمہ اللہ علیہم سے آمین کہنا مروی ہے۔ جیسے کہ «آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ» ۷؎ [5-المائدة:2] قرآن میں ہے۔
آمین کہنے کے مستحب ہونے کی دلیل وہ حدیث ہے جو مسند احمد، ابوداؤد اور ترمذی میں سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں {میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہہ کر «آمِينَ» کہتے تھے اور آواز دراز کرتے تھے} ۱؎۔ [سنن ترمذي:248،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابوداؤد میں ہے {آواز بلند کرتے تھے} ۲؎۔ [سنن ابوداود:392،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن کہتے ہیں۔
سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمین پہلی صف والے لوگ جو آپ کے قریب ہوتے سن لیتے} ۳؎۔ [سنن ابوداود:934،قال الشيخ الألباني:ضعيف] ابوداؤد اور ابن ماجہ میں یہ حدیث ہے۔
ابن ماجہ میں یہ بھی ہے کہ {آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی} ۴؎۔ [سنن ابن ماجہ:853،قال الشيخ الألباني:ضعيف] دارقطنی میں بھی یہ حدیث ہے ۵؎۔ [دارقطنی:335/1:حسن]
اور امام دارقطنی رحمہ اللہ بتاتے ہیں کہ {سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے۔ مجھ سے پہلے آمین نہ کہا کیجئے} ۶؎۔ [سنن ابوداود:937،قال الشيخ الألباني:ضعيف]
حسن بصری اور جعفر صادق رحمہ اللہ علیہم سے آمین کہنا مروی ہے۔ جیسے کہ «آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ» ۷؎ [5-المائدة:2] قرآن میں ہے۔
ہمارے اصحاب وغیرہ کہتے ہیں جو نماز میں نہ ہو اسے بھی آمین کہنا چاہیئے۔ ہاں جو نماز میں ہو اس پر تاکید زیادہ ہے۔ نمازی خود اکیلا ہو، خواہ مقتدی ہو، خواہ امام ہو، ہر حالت میں آمین کہے۔
صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:786]
صحیح مسلم میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں اور ایک کی آمین دوسرے کی آمین سے مل جاتی ہے تو اس کے تمام پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں“} ۲؎۔ [صحیح مسلم:410]
مطلب یہ ہے کہ اس کی آمین کا اور فرشتوں کی آمین کا وقت ایک ہی ہو جائے یا موافقت سے مراد قبولیت میں موافق ہونا ہے یا اخلاص میں۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ {جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو آمین کہو اللہ قبول فرمائے گا} ۳؎۔ [صحیح مسلم:404]
صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں“} ۱؎۔ [صحیح بخاری:786]
صحیح مسلم میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں آمین کہتا ہے اور فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں اور ایک کی آمین دوسرے کی آمین سے مل جاتی ہے تو اس کے تمام پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں“} ۲؎۔ [صحیح مسلم:410]
مطلب یہ ہے کہ اس کی آمین کا اور فرشتوں کی آمین کا وقت ایک ہی ہو جائے یا موافقت سے مراد قبولیت میں موافق ہونا ہے یا اخلاص میں۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ {جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو آمین کہو اللہ قبول فرمائے گا} ۳؎۔ [صحیح مسلم:404]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آمین کے کیا معنی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ تو کر“} ۱؎۔ [تفسیر کشاف:18/1:ضعیف]
جوہری کہتے ہیں اس کے معنی ”اسی طرح ہو“ ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ ”ہماری امیدوں کو نہ توڑ۔“
اکثر علماء فرماتے ہیں اس کے معنی ”اے اللہ تو ہماری دعا قبول فرما“ کے ہیں۔
مجاہد، جعفر صادق، ہلال بن سیاف رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی یہ مروی ہے لیکن صحیح نہیں ۲؎۔ [عبدالرزاق:2651]
امام مالک رحمہ اللہ کے اصحاب کا مذہب ہے کہ امام آمین نہ کہے مقتدی آمین کہے کیونکہ موطا مالک کی حدیث میں ہے کہ {جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو} ۳؎۔ [صحیح بخاری:796]
اسی طرح ان کی دلیل کی تائید میں صحیح مسلم والی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بھی آتی ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو“} ۴؎۔ [صحیح مسلم:404]
لیکن بخاری و مسلم کی حدیث پہلے بیان ہو چکی کہ {جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو} ۵؎۔ [صحیح بخاری:786]
اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «وَلَا الضَّالِّينَ» پڑھ کر آمین کہتے تھے} ۶؎۔ [سنن ترمذي:248،قال الشيخ الألباني:صحیح]
جوہری کہتے ہیں اس کے معنی ”اسی طرح ہو“ ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں اس کے معنی ہیں کہ ”ہماری امیدوں کو نہ توڑ۔“
اکثر علماء فرماتے ہیں اس کے معنی ”اے اللہ تو ہماری دعا قبول فرما“ کے ہیں۔
مجاہد، جعفر صادق، ہلال بن سیاف رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ آمین اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی یہ مروی ہے لیکن صحیح نہیں ۲؎۔ [عبدالرزاق:2651]
امام مالک رحمہ اللہ کے اصحاب کا مذہب ہے کہ امام آمین نہ کہے مقتدی آمین کہے کیونکہ موطا مالک کی حدیث میں ہے کہ {جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو} ۳؎۔ [صحیح بخاری:796]
اسی طرح ان کی دلیل کی تائید میں صحیح مسلم والی سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بھی آتی ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «وَلَا الضَّالِّينَ» کہے تو تم آمین کہو“} ۴؎۔ [صحیح مسلم:404]
لیکن بخاری و مسلم کی حدیث پہلے بیان ہو چکی کہ {جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو} ۵؎۔ [صحیح بخاری:786]
اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ {نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «وَلَا الضَّالِّينَ» پڑھ کر آمین کہتے تھے} ۶؎۔ [سنن ترمذي:248،قال الشيخ الألباني:صحیح]
آمین باآواز بلند ٭٭
جہری نمازوں میں مقتدی اونچی آواز سے آمین کہے یا نہ کہے، اس میں ہمارے ساتھیوں کا اختلاف ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر امام آمین کہنی بھول گیا ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین کہیں۔ اگر امام نے خود اونچی آواز سے آمین کہی ہو تو نیا قول یہ ہے کہ مقتدی باآواز بلند نہ کہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے۔ اور ایک روایت میں امام مالک رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے اس لیے کہ نماز کے اور اذکار کی طرح یہ بھی ایک ذکر ہے تو نہ وہ صرف بلند آواز سے پڑھے جاتے ہیں نہ یہ بلند آواز سے پڑھا جائے۔
لیکن پہلا قول یہ ہے کہ آمین بلند آواز سے کہی جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کا بھی دوسری روایت کے اعتبار سے یہی مذہب ہے اور اس کی دلیل وہی حدیث ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔
ہمارے یہاں پر ایک تیسرا قول بھی ہے کہ اگر مسجد چھوٹی ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین نہ کہیں اس لیے کہ وہ امام کی قرأت سنتے ہیں اور اگر بڑی ہو تو اونچی آواز سے آمین کہیں تاکہ مسجد کے کونے کونے میں آمین پہنچ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (صحیح مسئلہ یہ ہے کہ جن نمازوں میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے ان میں اونچی آواز سے آمین کہنی چاہیئے۔ خواہ مقتدی ہو خواہ امام ہو، خواہ منفرد، مترجم)
لیکن پہلا قول یہ ہے کہ آمین بلند آواز سے کہی جائے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کا بھی دوسری روایت کے اعتبار سے یہی مذہب ہے اور اس کی دلیل وہی حدیث ہے جو پہلے بیان ہو چکی کہ آمین کی آواز سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔
ہمارے یہاں پر ایک تیسرا قول بھی ہے کہ اگر مسجد چھوٹی ہو تو مقتدی باآواز بلند آمین نہ کہیں اس لیے کہ وہ امام کی قرأت سنتے ہیں اور اگر بڑی ہو تو اونچی آواز سے آمین کہیں تاکہ مسجد کے کونے کونے میں آمین پہنچ جائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (صحیح مسئلہ یہ ہے کہ جن نمازوں میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے ان میں اونچی آواز سے آمین کہنی چاہیئے۔ خواہ مقتدی ہو خواہ امام ہو، خواہ منفرد، مترجم)
مسند احمد میں صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودیوں کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ ہماری تین چیزوں پر یہودیوں کو اتنا بڑا حسد ہے کہ کسی اور چیز پر نہیں۔ ایک تو جمعہ پر کہ اللہ نے ہمیں اس کی ہدایت کی اور یہ بہک گئے دوسرے قبلہ، تیسرے ہمارا امام کے پیچھے آمین کہنا} ۱؎۔ [سلسلة احادیث صحيحہ البانی:691،صحيح بالشواھد]
ابن ماجہ کی حدیث میں یوں ہے کہ {یہودیوں کو سلام پر اور آمین پر جتنی چڑ ہے اتنی کسی اور چیز پر نہیں} ۲؎۔ [سنن ابن ماجہ:856،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جس قدر حسد یہودی آمین پر کرتے ہیں اس قدر حسد اور امر پر نہیں کرتے تم بھی آمین بکثرت کہا کرو} ۳؎۔ [سنن ابن ماجہ:857،قال الشيخ الألباني:ضعيف جدا] اس کی اسناد میں طلحہ بن عمرو راوی ضعیف ہیں۔
ابن مردویہ میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ {آپ نے فرمایا آمین اللہ تعالیٰ کی مہر ہے اپنے مومن بندوں پر} ۴؎۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1487،ضعيف]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ {نماز میں آمین کہنی اور دعا پر آمین کہنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی۔ ہاں اتنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی ایک خاص دعا پر ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے۔ تم اپنی دعاؤں کو آمین پر ختم کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے حق میں قبول فرمایا کرے گا} ۵؎۔ [ابن خزیمہ:1586:ضعیف]
اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر قرآن کریم کے ان الفاظ کو دیکھئے جن میں موسیٰ علیہ السلام کی دعا: «رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۶؎ [10-يونس:88] ہے الخ یعنی ’الہٰی تو نے فرعون اور فرعونیوں کو دنیا کی زینت اور مال دنیا زندگانی میں عطا فرمایا ہے جس سے وہ تیری راہ سے دوسروں کو بہکا رہے ہیں۔ اللہ ان کے مال برباد کر اور ان کے دل سخت کر، جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں یہ ایمان نہ لائیں‘۔
موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کی قبولت کا اعلان ان الفاظ میں ہوتا ہے: «قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» ۷؎ [10-يونس:89] الخ یعنی ’تم دونوں کی دعا قبول کی گئی، تم مضبوط رہو اور بےعلموں کی راہ نہ جاؤ‘۔ دعا صرف موسیٰ علیہ السلام کرتے تھے اور ہارون علیہ السلام صرف آمین کہتے تھے لیکن قرآن نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔
ابن ماجہ کی حدیث میں یوں ہے کہ {یہودیوں کو سلام پر اور آمین پر جتنی چڑ ہے اتنی کسی اور چیز پر نہیں} ۲؎۔ [سنن ابن ماجہ:856،قال الشيخ الألباني:صحيح]
اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جس قدر حسد یہودی آمین پر کرتے ہیں اس قدر حسد اور امر پر نہیں کرتے تم بھی آمین بکثرت کہا کرو} ۳؎۔ [سنن ابن ماجہ:857،قال الشيخ الألباني:ضعيف جدا] اس کی اسناد میں طلحہ بن عمرو راوی ضعیف ہیں۔
ابن مردویہ میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ {آپ نے فرمایا آمین اللہ تعالیٰ کی مہر ہے اپنے مومن بندوں پر} ۴؎۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:1487،ضعيف]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ {نماز میں آمین کہنی اور دعا پر آمین کہنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی۔ ہاں اتنا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی ایک خاص دعا پر ہارون علیہ السلام آمین کہتے تھے۔ تم اپنی دعاؤں کو آمین پر ختم کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے حق میں قبول فرمایا کرے گا} ۵؎۔ [ابن خزیمہ:1586:ضعیف]
اس حدیث کو پیش نظر رکھ کر قرآن کریم کے ان الفاظ کو دیکھئے جن میں موسیٰ علیہ السلام کی دعا: «رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلَأَهُ زِينَةً وَأَمْوَالًا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۶؎ [10-يونس:88] ہے الخ یعنی ’الہٰی تو نے فرعون اور فرعونیوں کو دنیا کی زینت اور مال دنیا زندگانی میں عطا فرمایا ہے جس سے وہ تیری راہ سے دوسروں کو بہکا رہے ہیں۔ اللہ ان کے مال برباد کر اور ان کے دل سخت کر، جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں یہ ایمان نہ لائیں‘۔
موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کی قبولت کا اعلان ان الفاظ میں ہوتا ہے: «قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ» ۷؎ [10-يونس:89] الخ یعنی ’تم دونوں کی دعا قبول کی گئی، تم مضبوط رہو اور بےعلموں کی راہ نہ جاؤ‘۔ دعا صرف موسیٰ علیہ السلام کرتے تھے اور ہارون علیہ السلام صرف آمین کہتے تھے لیکن قرآن نے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی۔
اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ جو شخص کسی دعا پر آمین کہے وہ گویا خود وہ دعا کر رہا ہے۔ اب اس استدلال کو سامنے رکھ کر وہ قیاس کرتے ہیں کہ مقتدی قرأت نہ کرے، اس لیے کہ اس کا سورۃ فاتحہ کے بعد آمین کہنا پڑھنے کے قائم مقام ہے اور اس حدیث کو بھی دلیل میں لاتے ہیں کہ جس کا امام ہو تو اس کے امام کی قرأت اس کی قرأت ہے۔ [مسند احمد]
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آمین میں مجھ سے سبقت نہ کیا کیجئے اس کھینچا تانی سے مقتدی پر جہری نمازوں میں «الْحَمْدُ» کا نہ پڑھنا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (یہ یاد رہے کہ اس کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ہے)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہہ کر آمین کہتا ہے آسمان والوں کی آمین زمین والوں کی آمین سے مل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کے تمام پہلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ آمین نہ کہنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ایک قوم کے ساتھ مل کر غزوہ کرے، غالب آئے، مال غنیمت جمع کرے، اب قرعہ ڈال کر حصہ لینے لگے تو اس شخص کے نام قرعہ نکلے ہی نہیں اور کوئی حصہ نہ ملے وہ کہے ”یہ کیوں؟“ تو جواب ملے تیرے آمین نہ کہنے کی وجہ سے“} ۱؎۔ [ابویعلی فی مسندہ:6411:ضعیف]
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آمین میں مجھ سے سبقت نہ کیا کیجئے اس کھینچا تانی سے مقتدی پر جہری نمازوں میں «الْحَمْدُ» کا نہ پڑھنا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (یہ یاد رہے کہ اس کی مفصل بحث پہلے گزر چکی ہے)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» کہہ کر آمین کہتا ہے آسمان والوں کی آمین زمین والوں کی آمین سے مل جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ بندے کے تمام پہلے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ آمین نہ کہنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص ایک قوم کے ساتھ مل کر غزوہ کرے، غالب آئے، مال غنیمت جمع کرے، اب قرعہ ڈال کر حصہ لینے لگے تو اس شخص کے نام قرعہ نکلے ہی نہیں اور کوئی حصہ نہ ملے وہ کہے ”یہ کیوں؟“ تو جواب ملے تیرے آمین نہ کہنے کی وجہ سے“} ۱؎۔ [ابویعلی فی مسندہ:6411:ضعیف]